المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
49. صِفَةُ قَبْرِ النَّبِيِّ _ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - وَصَاحِبَيْهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
رسولُ اللہ ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں رضی اللہ عنہما کی قبروں کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1384
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، قال: قُرئ على عبد الله بن وَهْب: أخبرك محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك المدني، عن عمرو بن هانئ، عن القاسم بن محمد قال: دخلتُ على عائشةَ فقلت: يا أُمّاه، اكشِفي لي عن قبر النبيِّ ﷺ وصاحبَيه، فكشفَتْ لي عن ثلاثةِ قبور لا مُشرِفةٍ ولا لاطِئةٍ، مبطوحةٍ ببَطحاءِ العَرْصةِ الحمراء، فرأيتُ رسولَ الله ﷺ مقدَّمًا، وأبا بكرٍ رأسُه بين كَتِفَي النبيِّ ﷺ، وعمرَ رأسُه عند رِجْلَي النبيِّ ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے امی جان! میرے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھیوں (سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کی قبریں کھول دیں (یعنی ان سے پردہ ہٹا دیں)، تو انہوں نے میرے لیے تین قبروں سے پردہ ہٹایا جو نہ تو بہت اونچی تھیں اور نہ ہی زمین کے بالکل برابر، بلکہ وہ سرخ رنگ کے کھردرے میدان کی مٹی «بَبَطْحَاءِ الْعَرْصَةِ الْحَمْرَاءِ» سے ڈھکی ہوئی تھیں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آگے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سر مبارک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے درمیان تھا اور عمر رضی اللہ عنہ کا سر مبارک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے پاس تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1384]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1384]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، عمرو بن هانئ - وهو عمرو بن عثمان بن هانئ، نُسب هنا إلى جده - روى عنه ثلاثة، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال الذهبي في "تاريخ الإسلام" 4/ 171: كأنه صدوق، وقد صحَّح حديثه هذا النووي في "المجموع" 5/ 296، وابن الملقن في "البدر المنير" 5/ 319. ...» [ترقيم الرساله 1384] [ترقيم الشركة 1372]
الحكم على الحديث: إسناده حسن