🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

63. الْمَيَّتُ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ
میت اپنے دفن کرنے والوں کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1419
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا محمد بن عمرو بن عَلْقَمة، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرةَ، عن النبي ﷺ قال:"إِنَّ المَيِّتَ يَسمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِم إِذا وَلَّوْا مُدبِرِين، فإِن كان مؤمنًا كانت الصلاةُ عند رأسِه، وكان الصَّومُ عن يَمينِه، وكانت الزكاةُ عن يَسارِه، وكان فعلُ الخيرات من الصَّدقة والصَّلاة والصِّلة والمعروفِ والإحسانِ إلى الناس عند رِجلَيه، فيُؤتَى من قِبَلِ رأسِه، فتقول الصلاة: ما قِبَلي مَدخَلٌ، ويُؤتَى مِن عن يمينِه، فيقول الصوم: ما قِبلَي مَدخَل، ويُؤتَى مِن عن يساره، فتقول الزكاة: ما قِبَلي مَدخَل، ويُؤتَى مِن قبل رِجلَيه، فيقول فِعْلُ الخيرات من الصَّدقة والمعروف والصِّلة والإحسانِ إلى الناس: ما قِبَلي مَدخَل. فيقالُ له: اقعُدْ، فيَقعُد، وتُمثَّلُ له الشمسُ وقد دَنَتْ للغُروب، فيقال له: ما تقولُ في هذا الرَّجل الذي كان فيكم وما تَشهدُ به؟ فيقول: دَعُوني أُصلِّي، فيقولون: إنك ستَفعَل، ولكن أخبِرنا عمَّا نسألُك عنه، قال: وعمَّ تسأَلوني؟ فيقولون: أخبِرنا عمَّا نَسألُك عنه، فيقول: دَعُوني أُصلِّي، فيقولون: إنك ستَفعَل، ولكن أخبِرنا عمَّا نَسألُك عنه، قال: وعمَّ تسألوني؟ فيقولون: أخبِرنا ما تقولُ في هذا الرَّجل الذي كان فيكم، وما تَشهدُ به عليه؟ فيقول: أمحمدًا؟ أشهدُ أنه عبدُ الله، وأنه جاء بالحقِّ من عند الله، فيقالُ له: على ذلك حَيِيتَ، وعلى ذلك مِتَّ، وعلى ذلك تُبعَثُ إن شاء الله، ثم يُفتَح له بابٌ من قِبَل النار، فيُقال له: انظُرْ إلى منزلِكَ وإلى ما أعَدَّ الله لكَ لو عَصَيْتَ، فيزدادُ غِبْطةً وسرورًا، ثم يُفتَحُ له بابٌ من قِبَل الجنة، فيقال له: انظُرْ إلى منزلِكَ، وإلى ما أعَدَّ الله لك، فيزدادُ غِبْطةً وسرورًا، وذلك قولُ الله ﵎: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ﴾ [إبراهيم: 27] ". قال: وقال أبو الحَكَم، عن أبي هريرة (1) :"فيُقالُ: له ارقُدْ رِقْدةَ العَروس الذي لا يُوقِظُه إلا أَعزُّ أهلِه إليه، أو أَحبُّ أهلِه إليه". ثم رَجَعَ إلى حديث أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، قال:"وإن كان كافرًا أُتِي مِن قِبَل رأسِه، فلا يُوجدُ شيءٌ، ويُؤتَى عن يَمينِه، فلا يُوجدُ شيءٌ، ثم يُؤتَى عن يَسارِه، فلا يُوجدُ شيءٌ، ثم يُؤتَى مِن قِبل رِجلَيه، فلا يُوجدُ شيءٌ، فيقالُ له: اقعُدْ، فيَقعُدُ خائفًا مَرعوبًا، فيقال له: ما تقول في هذا الرَّجل الذي كان فيكم، وماذا تَشهدُ به عليه؟ فيقول: أَيُّ رجل؟ فيقولون: الرَّجل الذي كان فيكم، قال: فلا يَهتدِي له، قال: فيقولون: محمدٌ، فيقول: سمعتُ الناسَ قالوا فقلتُ كما قالوا، فيقولون: على ذلك حَيِيتَ، وعلى ذلك مِتَّ، وعلى ذلك تُبعَثُ إن شاء الله، ثم يُفتَح له بابٌ من قِبَل الجنة، فيقال له: انظُرْ إلى مَنزِلِك، وإلى ما أعدَّ الله لك لو كنتَ أطعتَه، فيزدادُ حسرةً وثُبورًا، قال: ثم يُضيَّقُ عليه قبرُه حتى تختلفَ أضلاعُه، قال: وذلك قولُه ﵎: ﴿فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾ [طه: 124] " (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب لوگ میت کو دفن کر کے واپس پلٹتے ہیں تو میت ان کے قدموں کی آہٹ سنتی ہے پھر اگر وہ مومن ہو تو نماز اس کے سر کی جانب اور روزہ دائیں جانب اور زکوۃ بائیں جانب اور دیگر نیک کام یعنی صدقہ، نوافل، صلہ رحمی اور دیگر نیکیاں اور حسن سلوک اس کے پاؤں کی جانب آ جاتی ہیں پھر اس کے سر کی طرف سے (قبر میں) کوئی (تکلیف دہ) چیز آنا چاہتی ہے تو نماز کہتی ہے: میری طرف سے کوئی راستہ نہیں ہے۔ پھر وہ دائیں طرف سے آتی ہے تو روزہ کہتا ہے: میری طرف سے کوئی راستہ نہیں ہے۔ پھر وہ بائیں جانب سے آتی ہے تو زکوۃ کہتی ہے: میری طرف سے کوئی راستہ نہیں ہے۔ پھر اس کو کہا جاتا ہے: اٹھ کر بیٹھو۔ تو وہ اٹھ جاتا ہے اور اس کو سورج یوں محسوس ہوتا ہے جیسا غروب ہونے کے قریب ہو، پھر اس کو کہا جاتا ہے: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ جو تمہارے اندر موجود تھے اور تو ان کے بارے میں کیا گواہی دیتا؟ وہ کہے گا مجھے چھوڑ دو تاکہ میں نماز پڑھ لوں۔ وہ کہیں گے: تو یہ کام تھوڑی دیر بعد کر لینا، ہمیں ہمارے سوال کا جواب دو، وہ کہے گا: تم مجھ سے کیا سوال کر رہے ہو؟ وہ کہیں گے: ہم نے جو تم سے سوال کیا ہے اس کا جواب دو۔ وہ کہے گا: مجھے چھوڑو مجھے ابھی نماز پڑھنی ہے، وہ کہیں گے: نماز بعد میں پڑھ لینا پہلے ہمارے سوال کا جواب دو، وہ کہے گا: پوچھو کیا پوچھتے ہو، وہ کہیں گے: تو ہمیں بتا کہ اس شخص کے بارے میں تو کیا کہتا ہے جو تمہارے اندر تھے اور تو ان کے بارے میں کیا گواہی دیتا ہے جو تمہارے اندر تھے، وہ کہے گا: وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور وہ اللہ کی طرف سے حق لے کر آئے، اس کو کہا جائے گا: تو اسی نظریے پر زندہ رہا، اسی پر تجھے موت آئی اور ان شاء اللہ! اسی پر تو قیامت میں اٹھایا جائے گا، پھر اس کے لیے دوزخ کی طرف سے ایک دروازہ کھولا جائے گا اگر تو نافرمان ہوتا (تو یہ تیرا مقام ہوتا) تو اپنے اس مقام کو اور اس میں جو کچھ اللہ نے تیار کر رکھا ہے اس کو دیکھ لے، تو اس کی خوشی اور مسرت بڑھ جائے گی پھر جب وہ اس کو دیکھ لے گا تو اس کی خوشی میں اور اضافہ ہو جائے گا اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَفِي الْآخِرَةِ، وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو قول ابت کے ساتھ دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ثابت قدمی عطا فرمائے گا اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے (راوی کہتے ہیں کہ ابوالحکم کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت میں یوں ہے) پھر اس کو کہا جائے گا: تو اس دلہن کی طرح سو جا جس کو صرف وہی شخص بیدار کرتا ہے جو اس کے تمام رشتہ داروں سے زیادہ عزیز ہے۔ (ان الفاظ کے بعد دوبارہ اسی حدیث کی طرف آئے جو ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ شخص کافر ہو گا تو کوئی چیز (یعنی کوئی تکلیف دہ چیز) اس کے سر کی جانب سے آئے گی تو اس کی جانب کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی، دائیں جانب سے آئے گی تو وہاں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی پھر بائیں سے آئے گی تو بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی پھر قدموں کی طرف سے آئے گی تو وہاں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی۔ اس کو کہا جائے گا: اٹھ کر بیٹھو، وہ مرعوب اور خوفزدہ ہو کر بیٹھے گا۔ اس کو کہا جائے گا: تو اس شخص کے بارے میں بتا، جو تمہارے اندر مبعوث ہوئے، اس کو کچھ سمجھ نہیں آئے گی، وہ کہیں گے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ وہ کہے گا: میں لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا کرتا تھا جو کچھ وہ کہتے تھے، میں بھی وہ ہی کہا کرتا تھا۔ وہ کہیں گے: تو اسی پر زندہ رہا اور اسی پر مرا ہے اور ان شاء اللہ اسی پر قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔ پھر اس کے لیے (قبر میں) جنت کی طرف سے ایک دروازہ کھولا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا اگر تو اطاعت گزار ہوتا تو دیکھ یہ تیری منزل ہوتی اور یہ سب کچھ جو اللہ نے تیار کر رکھا ہے، تیرے لیے ہوتا۔ اس کی حسرت و یاس بڑھ جائے گی۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) پھر اس کی قبر اس قدر تنگ کر دی جائے گی کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گی۔ اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا، وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى بے شک اس کے لیے زندگی تنگ ہے اور ہم قیامت کے دن اس کو اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1419]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1420
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرةَ، عن النبي ﷺ قال:"والذي نَفْسي بيدِه، إنه ليَسْمَعُ خَفْقَ نِعالِهم حين يُوَلُّون عنه"، ثم ذكر الحديث بنحوه، إلّا أنَّ حديث سعيد بن عامر أَتمّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جب لوگ میت کو دفن کر کے لوٹتے ہیں تو وہ ان کے قدموں کی آہٹ سنتی ہے پھر اس کے بعد (حماد بن سلمہ) نے سعد بن عامر جیسی حدیث بیان کی تاہم سعید بن عامر کی حدیث تفصیلی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1420]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1421
حدثنا أبو بكر بن سَلْمان الفقيه، حدثنا أبو داود سليمان بن الأشعث، حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، في قوله - جلَّ وعزَّ -: ﴿مَعِيشَةً ضَنْكًا﴾ [طه: 124] قال: عذابُ القبر (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے قول مَعِيشَةً ضَنْكًا کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1421]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1422
حدثنا أبو بكر أحمد بن إبراهيم الفقيه الإسماعيلي، حدثنا أبو جعفر محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا هارون بن إسحاق الهَمْداني، حدثنا عَبْدةُ بن سليمان، عن هشام بن عُروة، عن وَهْب بن كَيْسان، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن أبي هريرة قال: خرج النبيُّ ﷺ على جنازةٍ ومعه عمر بن الخطاب، فسَمِعَ نساءً يَبكِينَ، فزَبَرَهنَّ عمرُ، فقال رسول الله ﷺ:"يا عمرُ، دَعْهنَّ، فإنَّ العينَ دامعةٌ، والنفْسَ مُصابةٌ، والعهدَ حديث (1) " (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ کے لیے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے عورتوں کے رونے کی آواز سنی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: اے عمر! ان کو چھوڑ دو، کیونکہ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل مصیبت محسوس کرتا ہے اور عہد بہت قریب ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1422]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں