🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. الزَّكَاةُ فِي الزَّرْعِ وَالْكَرْم
کھیتی اور انگور کے باغ کی زکوٰۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1477
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدلُ، حدثنا أبو المُثنَّى ومحمد بن أيوب، قالا: حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا سليمان بن كثير، عن الزُّهري، عن أبي أُمامةَ بن سهل بن حُنيف، عن أبيه: أنَّ النبيَّ ﷺ نهى عن لَونَينِ من التمر: الجُعْرُورِ، ولونِ الحُبَيْق، قال: وكان ناسٌ يَتَيَمَّمُون شرَّ ثمارِهم فيُخرِجونَها في الصدقة، فنُهُوا عن لَونَينِ من التَّمر، فنزلت: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ [البقرة: 267] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقد تابعه سفيان بن حسين ومحمد بن أبي حَفْصة عن الزهري. فأما حديث سفيان بن حسين:
ابوامامہ بن سہل بن حنیف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی کھجوریں جعرور اور حبیق لینے سے منع فرمایا ہے۔ سہل کہتے ہیں: (دراصل) لوگ ردی قسم کے پھل زکوۃ میں دے دیا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ان دونوں قسموں سے منع کر دیا، تو یہ آیت نازل ہوئی: (ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون) اور خاص ناقص کا ارادہ نہ کرو کہ دو تم اس میں سے۔ (کنزالایمان) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو زہری سے روایت کرنے میں سفیان بن حسین اور محمد بن حفصہ نے سلیمان بن کثیر کی متابعت کی ہے۔ سفیان بن حسین کی حدیث۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1477]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1478
فأخبرَناه جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عبَّاد بن العَوَّام، عن سفيان بن الحسين، عن الزُّهري، عن أبي أُمامة بن سَهْل، عن أبيه قال: أَمَرَ رسول الله ﷺ بصَدَقةٍ، فجاء رجلٌ من هذا السُّخَّل بكَبائِسَ - فقال سفيان: يعني: الشِّيص - فقال رسولُ الله ﷺ:"مَن جاء بهذا؟" وكان لا يجيءُ أحدٌ بشيءٍ إلّا نُسِب إلى الذي جَلَبَه، فنزلت: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾، قال: ونهى رسولُ الله ﷺ عن الجُعْرُور ولونِ الحُبَيق أن يُؤخَذَا في الصدقة. قال الزُّهري: لونانِ من تمرِ الصَّدقة (1) . وأما حديث محمد بن أبي حَفْصة:
سیدنا سفیان بن حسین، زہری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے، ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کا حکم دیا تو ایک کنجوس آدمی کبیس کھجوریں لے کر آ گیا۔ سفیان کہتے ہیں: (کبیس کا مطلب ہے) شیص (یعنی گھٹیا قسم کی کھجوریں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون لے کر آیا ہے؟ اور جو شخص بھی کوئی چیز لے کر آتا اس کو اس شخص کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: (ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون) اور خاص ناقص کا ارادہ نہ کرو کہ دو تم اس میں سے۔ (کنزالایمان)۔ (سہل) کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ میں جعر ور اور حبیق لینے سے منع کیا ہے۔ زہری کہتے ہیں: یہ زکوۃ میں آنے والی دو گھٹیا قسم کی کھجوریں ہیں۔ محمد بن ابی حفصہ کی حدیث۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1478]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1479
فأخبرَناه الحسن بن حَلِيم المَروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله بن المبارك، عن محمد بن أبي حَفْصة، عن الزُّهري، عن أبي أُمامةَ بن سَهْل بن حُنَيف، عن أبيه قال: كان أناسٌ يَتلاوَمُون شِرارَ ثِمارِهم، فأنزل الله ﷿: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾، قال: فنهى رسول الله ﷺ عن لونين: عن الجُعْرور وعن لونِ حُبَيق (1) .
محمد بن ابی حفصہ، زہری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ لوگ (زکوۃ کے لیے) ردی پھل دیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون، ولستم باخذیہ الّا ان تغمضوا فیہ) اور خاص ناقص کا ارادہ نہ کرو کہ دو تم اس میں سے اور تمہیں ملے تو نہ لو گے جب تک اس میں قسم پوشی نہ کرو۔ (کنزالایمان) سہل کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو قسم کی کھجوروں سے منع کیا ہے۔ (1) جعرور اور (2) حبیق۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1479]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1480
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وَهْب بن جَرِير، حدثنا شُعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى وعبد الرحمن، قالا: حدثنا شعبة، قال: سمعت خُبَيب بن عبد الرحمن يحدِّث عن عبد الرحمن بن مسعود بن نِيَار، عن سهل بن أبي حَثْمة؛ قال: أتانا ونحن في السُّوق فقال: قال رسول الله ﷺ:"إذا خَرَصْتُم فَخُذُوا ودَعُوا الثلث، فإن لم تأخُذُوا أو تَدَعُوا الثلث - شَكَّ شعبةُ في الثلث - فدَعُوا الرُّبع" (2) . قال الحاكم: أنا جمعتُ بين يحيى وعبد الرحمن، وليس في حديث وَهْب بن جرير شَكُّ شعبة.
هذا حديث صحيح الإسناد. وله شاهدٌ بإسنادٍ متفق على صحته: أنَّ عمر بن الخطاب أَمرَ به.
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت ہم بازار میں تھے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم اندازہ کر لو، تو لے لو، اور تیسرا حصہ چھوڑ دو، اگر نہ پکڑو یا (شاید یہ فرمایا) نہ چھوڑو (تیسرے حصے میں شعبہ کو شک ہے) تو چوتھا حصہ چھوڑ دو۔ ٭٭ امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے یحیی و عبدالرحمن دونوں کی احادیث جمع کر دی ہیں اور وہب بن جریر کی روایت میں شعبہ کا شک نہیں ہے، اس حدیث کے صحیح الاسناد ہونے پر اتفاق ہے، جس میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ارشاد موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1480]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1481
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا حماد بن زيد، عن يحيى بن سعيد، عن بُشَير بن يسار، عن سَهْل بن أبي حَثْمة: أنَّ عمر بن الخطاب بَعَثَه على خَرْصِ التمر، وقال: إذا أتيتَ أرضًا فاخْرُصْها ودَعْ لهم قَدْرَ ما يأكلون (1) .
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو کھجوروں کا اندازہ لگانے کے لیے بھیجا، تو فرمایا: جب تم زمین پر پہنچو اور کھجوروں کا اندازہ کر لو تو اتنی مقدار میں ان کے لیے چھوڑ دو جتنا وہ کھاتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1481]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1482
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شُعبة، عن قتادة، عن أبي عمر الغُدَاني، عن أبي هريرة: أنه مَرَّ عليه رجلٌ من بني عامر، فقيل: هذا من أكثر الناس مالًا، فدعاه أبو هريرةَ فسأله عن ذلك، فقال: نَعَم، لي مئةٌ حمراءُ، ولي منةٌ أَدْماءُ، ولي كذا وكذا من الغَنَم، فقال أبو هريرة: إياكَ وأَخفافَ الإبل، إياكَ وأظلافَ الغَنَم؛ إنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ما مِن رجلٍ يكون له إبلٌ لا يؤدِّي حقَّها في نَجْدَتِها ورِسْلِها - قال رسول الله ﷺ: ونَجْدتُها ورِسْلُها: عُسْرُها ويُسْرُها - إلّا بَرَزَ له بقاعٍ قَرقَرٍ، فجاءته كأَغذِّ (1) ما تكون وأَسَرِّهِ وأسمَنِه أو أعظمِه (2) - شعبةُ شَكَّ - فتَطَؤُه بأخفافِها وتَنطِحُه بقرونها، كلَّما جازت عليه أُخراها أُعيدتْ عليه أُولاها، في يومٍ كان مقدارُه خمسين ألفَ سنة، حتى يُقضَى بين الناس فيُرى سَبيلَه. وما من عبدٍ يكون له بقرٌ لا يُؤدِّي حقَّها في نَجْدَتِها ورِسْلِها - قال رسولُ الله ﷺ: ونَجْدَتها ورِسْلُها، عُسْرُها ويُسْرُها - إلّا بَرَزَ له بِقاعٍ قَرْقَرٍ كأغَذِّ ما تكونُ وأسرِّه واسمَنِه وأعظَمِه، فتطؤُه بأظلافها، وتَنْطِحُه بقُرونِها، كلما جازَتْ عليه أُولاها أُعيدَتْ عليه أُخراها، في يومٍ كان مِقدارُه خمسينَ ألفَ سنة، حتى يُقضَى بين الناس، فيُرَى سبيلَه". فقال له العباس: وما حقُّ الإبل يا أبا هريرة؟ قال: تُعطي الكريمةَ، وتَمنحُ الغَزيرةَ، وتُفقِرُ الظَّهرَ، وتُطرِقُ الفَحْل، وتَسقِي اللَّبَن (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما خرَّج مسلم بعض هذه الألفاظ من حديث سُهيل عن أبيه عن أبي هريرة (1) . وأبو عمر الغُدَاني يقال: إنه يحيى بن عُبيد البَهْراني، فإن كان كذلك، فقد احتجَّ به مسلم. ولا أعلم أحدًا حدَّث به عن شعبة غيرَ يزيد بن هارون، ولم نكتبه عاليًا إلّا عن أبي العباس المحبوبي.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ان کے پاس سے بنی عامر کا ایک شخص گزرا۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ شخص سب سے زیادہ مالدار ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کو بلایا اور اس سے اس بارے میں پوچھا، تو وہ کہنے لگا: جی ہاں! میرے پاس سو سرخ اونٹ ہیں، سو دسترخوان ہیں، یونہی اپنے مال کے متعلق بتایا۔ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اونٹوں کے کھروں سے اور جانوروں کے سینگوں سے بچو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے: جس شخص کے پاس اونٹ ہوں اور وہ آسائش اور تنگی میں، خوشحالی اور تنگدستی میں ان کا حق ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کو ایک میدان میں منہ کے بل لٹایا جائے گا پھر وہ جانور اتنی ہی تعداد میں جتنی کہ اس دنیا میں تھے، آئیں گے اور وہ پہلے سے زیادہ طاقتور اور زیادہ موٹے تازے ہوں گے (یہاں پر شعبہ کو شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسمنہ کا لفظ بولا یا اعظمہ کا) پھر وہ جانور اس کو اپنے پاؤں کے نیچے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے ان کو ماریں گے۔ جب اس کے اوپر سے آخری جانور گزر جائے گا تو پھر پہلا لوٹ کر آ جائے گا (یہ سلسلہ قیامت کے اس طویل ترین دن میں مسلسل جاری رہے گا) جس دن کی مقدار 50,000 سال کے برابر ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلے ہو جائیں گے پھر اس کی باری آئے گی۔ اور جس شخص کے پاس گائے ہو اور اس کا حق نجدۃ اور رسل میں ادا نہ کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نجدۃ کا مطلب تنگی اور رسل کا مطلب کشادگی ہے۔ اس کو قیامت کے دن میدان میں منہ کے بل لٹایا جائے گا پھر وہ تمام جانور آئیں گے جبکہ وہ پہلے سے زیادہ طاقتور اور موٹے تازے ہوں گے، وہ اس کو اپنے پاؤں کے نیچے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے اس کو کچلیں گے۔ جب تمام جانور اس کو کچل چکیں گے تو پہلے سے پھر شروع ہو جائیں گے (یہ سلسلہ قیامت کے اس طویل دن میں جس کی مقدار 50000 سال ہے اس وقت تک جاری رہے گا) جب تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ ہو جائے پھر اس کی باری آئے گی۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: عمدہ اونٹنی (صدقہ میں) دو، اور زیادہ دودھ والی فائدہ اٹھانے کے لیے دو اور اس کا بچھیرا عاریت پر دو، ان پر سفر کرو اور ان کا دودھ پیو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سہل کی حدیث میں ان کے والد کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بعض الفاظ نقل کیے ہیں اور ابوعمرو العدانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ یحیی بن عبیدالبحرانی ہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی روایات نقل کی ہیں۔ اور مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے یہ حدیث شعبہ کے واسطے سے یزید بن ہارون سے روایت کی ہو اور ہم بھی عموماً عباس محبوبی سے روایت لکھتے ہیں۔ اور ہمیں یہ حدیث ابوزکریا عنبری نے، ان کو ابراہیم بن ابی طالب نے اور ان کو عبدہ بن عبداللہ الغزائی نے بیان کی ہے اور ہمیں ابوعلی حافظ نے بتایا کہ ابوعبدالرحمن نسانی نے محمد بن علی بن سہل کے واسطے سے یزید بن ہارون سے بھی اس کی مانند روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1482]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1482M
إنما حدَّثَناه أبو زكريا العَنْبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عَبْدَةُ بن عبد الله الخُزَاعي. وحدثنا أبو عليٍّ الحافظ، حدثنا أبو عبد الرحمن النَّسائي، حدثنا محمد بن عليّ بن سَهْل؛ قالا: حدثنا يزيد بن هارون، نحوه.
ہمیں یہ حدیث ابو زکریا العنبری نے بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابراہیم بن ابی طالب نے بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبدہ بن عبداللہ الخزاعی نے حدیث بیان کی۔ (دوسری سند) اور ہمیں یہ حدیث ابو علی الحافظ نے بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابو عبد الرحمن النسائی نے بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں محمد بن علی بن سہل نے بیان کی، ان دونوں (اساتذہ) نے کہا: ہمیں یزید بن ہارون نے اسی طرح (پچھلی حدیث کے الفاظ کے قریب) حدیث بیان کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1482M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1483
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيّب، حدثنا نُعَيم بن حماد، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن رَبيعَة بن أبي عبد الرحمن، عن الحارث بن بلال بن الحارث، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ أَخَذَ في المَعادن القَبَلِيَّةِ الصَّدقةَ، وأنه أقطَعَ بلالَ بن الحارث العَقِيقَ أجمَعَ، فلمَّا كان عمرُ قال لبلال: إنَّ رسول الله ﷺ لم يُقطِعْكَ لتَحْتَجِرَه عن الناس، لم يُقطِعْكَ إلّا لتعمَلَ. قال: فأقطَعَ عمرُ بن الخطاب للناس العَقِيقَ (2) . قد احتجَّ البخاري بنُعَيم بن حماد، ومسلمٌ بالدَّراوَرْدي، و
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه.
سیدنا حارث بن بلال بن حارث رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معدنیات سے زکوۃ وصول کی اور آپ نے بلال بن حارث کو مقام عقیق کی جگہ الاٹ کر دی پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے بلال سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عقیق کی جگہ تجھے اس لیے نہیں دی تھی کہ تم اس کو لوگوں سے روک کر رکھ لو (اور خود بھی اس میں کچھ نہ کرو) بلکہ کام کرنے کے لیے دی تھی۔ بلال فرماتے ہیں: پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے وہ جگہ دوسرے لوگوں کو دے دی۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے نعیم بن حماد کی روایات نقل کی ہیں اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے دراوردی کی روایات نقل کی ہیں۔ لیکن دونوں نے اس حدیث کو نقل نہیں کیا، حالانکہ یہ حدیث صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1483]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1484
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن مَيمُون، حدثنا عفّان بن مُسلِم، حدثنا شُعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الحَكَم، عن ابن أبي رافع، عن أبي رافع: أنَّ رسول الله ﷺ بَعَثَ رجلًا من بني مَخزُوم على الصَّدقة، فقال لأبي رافع: اصحَبْني كَيْما تُصيبَ منها، فقال: لا، حتى آتيَ رسولَ الله ﷺ، فانطَلَقَ إلى النبي ﷺ فسأله، فقال:"إنَّ الصَّدقةَ لا تَحِلُّ لنا، وإنَّ مَواليَ القوم من أنفُسِهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا تو اس نے ابورافع سے کہا: تم بھی میرے ساتھ چلو تاکہ ہمیں اس میں حصہ ملے۔ انہوں نے جواباً کہا: نہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیے بغیر نہیں جاؤں گا۔ پھر وہ چلتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ علیہ السلام سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے اور کسی بھی قوم کے موالی (آزاد کردہ غلام) انہی میں سے شمار ہوتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1484]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں