🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. الزَّكَاةُ فِي الزَّرْعِ وَالْكَرْم
کھیتی اور انگور کے باغ کی زکوٰۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1477
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدلُ، حدثنا أبو المُثنَّى ومحمد بن أيوب، قالا: حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا سليمان بن كثير، عن الزُّهري، عن أبي أُمامةَ بن سهل بن حُنيف، عن أبيه: أنَّ النبيَّ ﷺ نهى عن لَونَينِ من التمر: الجُعْرُورِ، ولونِ الحُبَيْق، قال: وكان ناسٌ يَتَيَمَّمُون شرَّ ثمارِهم فيُخرِجونَها في الصدقة، فنُهُوا عن لَونَينِ من التَّمر، فنزلت: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ [البقرة: 267] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقد تابعه سفيان بن حسين ومحمد بن أبي حَفْصة عن الزهري. فأما حديث سفيان بن حسين:
ابوامامہ بن سہل بن حنیف اپنے والد (سیدنا سہل رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی دو قسموں 'جعرور' اور 'لون حبیق' (جو گھٹیا درجے کی ہوتی ہیں) کو زکوٰۃ میں لینے سے منع فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ کچھ لوگ اپنے گھٹیا پھل چھانٹ کر زکوٰۃ میں نکالتے تھے، تو انہیں کھجور کی ان دو قسموں سے منع کر دیا گیا اور یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ "اور تم اس میں سے ردی چیز دینے کا قصد نہ کرو" [سورہ بقرہ: 267] ۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ سفیان بن حسین اور محمد بن ابی حفصہ نے بھی زہری سے اس کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1477]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، سليمان بن كثير» [ترقيم الرساله 1477] [ترقيم الشركة 1465]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1478
فأخبرَناه جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عبَّاد بن العَوَّام، عن سفيان بن الحسين، عن الزُّهري، عن أبي أُمامة بن سَهْل، عن أبيه قال: أَمَرَ رسول الله ﷺ بصَدَقةٍ، فجاء رجلٌ من هذا السُّخَّل بكَبائِسَ - فقال سفيان: يعني: الشِّيص - فقال رسولُ الله ﷺ:"مَن جاء بهذا؟" وكان لا يجيءُ أحدٌ بشيءٍ إلّا نُسِب إلى الذي جَلَبَه، فنزلت: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾، قال: ونهى رسولُ الله ﷺ عن الجُعْرُور ولونِ الحُبَيق أن يُؤخَذَا في الصدقة. قال الزُّهري: لونانِ من تمرِ الصَّدقة (1) . وأما حديث محمد بن أبي حَفْصة:
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ (زکوٰۃ) کا حکم دیا، تو ایک شخص گھٹیا کھجوروں کے کچھ خوشے (شیص) لے کر آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون لایا ہے؟ اس وقت جو بھی کوئی چیز لاتا تھا وہ لانے والے کی طرف منسوب کر دی جاتی تھی، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ اور تم اس میں سے ردی چیز دینے کا قصد نہ کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ میں 'جعرور' اور 'لون حبیق' نامی کھجوریں لینے سے منع فرمایا ہے۔ زہری کہتے ہیں کہ یہ صدقہ کی کھجوروں کی دو (گھٹیا) قسمیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1478]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، رجاله ثقات، وسفيان بن حسين» [ترقيم الرساله 1478] [ترقيم الشركة 1466]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1479
فأخبرَناه الحسن بن حَلِيم المَروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله بن المبارك، عن محمد بن أبي حَفْصة، عن الزُّهري، عن أبي أُمامةَ بن سَهْل بن حُنَيف، عن أبيه قال: كان أناسٌ يَتلاوَمُون شِرارَ ثِمارِهم، فأنزل الله ﷿: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾، قال: فنهى رسول الله ﷺ عن لونين: عن الجُعْرور وعن لونِ حُبَيق (1) .
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ اپنی فصل کی گھٹیا کھجوریں نکالنے لگے تھے تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ "اور اس میں سے ردی چیز دینے کا قصد نہ کرو حالانکہ تم خود اسے لینے والے نہیں ہو مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ"۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی کھجوروں 'جعرور' اور 'لون حبیق' سے منع فرما دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1479]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن أبي حفصة، وقد توبع كما في سابقيه.» [ترقيم الرساله 1479] [ترقيم الشركة 1467]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1480
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وَهْب بن جَرِير، حدثنا شُعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى وعبد الرحمن، قالا: حدثنا شعبة، قال: سمعت خُبَيب بن عبد الرحمن يحدِّث عن عبد الرحمن بن مسعود بن نِيَار، عن سهل بن أبي حَثْمة؛ قال: أتانا ونحن في السُّوق فقال: قال رسول الله ﷺ:"إذا خَرَصْتُم فَخُذُوا ودَعُوا الثلث، فإن لم تأخُذُوا أو تَدَعُوا الثلث - شَكَّ شعبةُ في الثلث - فدَعُوا الرُّبع" (2) . قال الحاكم: أنا جمعتُ بين يحيى وعبد الرحمن، وليس في حديث وَهْب بن جرير شَكُّ شعبة.
هذا حديث صحيح الإسناد. وله شاهدٌ بإسنادٍ متفق على صحته: أنَّ عمر بن الخطاب أَمرَ به.
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ہمارے پاس بازار میں آئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم (پھلوں کا) اندازہ «خَرْص» لگاؤ تو زکوٰۃ لو اور تہائی حصہ (مالک کے لیے) چھوڑ دو، اور اگر تہائی نہ چھوڑو تو چوتھائی چھوڑ دو" (تاکہ وہ اپنی ضرورت اور مہمان نوازی میں استعمال کر سکیں)۔ شعبہ کو تہائی کے لفظ میں شک ہوا ہے۔ حاکم کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ اور عبدالرحمن کی روایات کو جمع کیا ہے جبکہ وہب بن جریر کی حدیث میں شعبہ کو شک نہیں ہوا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کی شاہد حدیث بھی ہے جس کی صحت پر اتفاق ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی کا حکم دیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1480]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين، عبد الرحمن بن مسعود بن نيار تابعيٌّ، تفرد بالرواية عنه خبيب بن عبد الرحمن، وذكره ابن حبان في "الثقات"، ولم يجرحه أحد. يحيى: هو ابن سعيد القطان، وعبد الرحمن: هو ابن مهدي.» [ترقيم الرساله 1480] [ترقيم الشركة 1468]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1481
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا حماد بن زيد، عن يحيى بن سعيد، عن بُشَير بن يسار، عن سَهْل بن أبي حَثْمة: أنَّ عمر بن الخطاب بَعَثَه على خَرْصِ التمر، وقال: إذا أتيتَ أرضًا فاخْرُصْها ودَعْ لهم قَدْرَ ما يأكلون (1) .
بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں کھجوروں کے تخمینے (خرص) کے لیے بھیجا اور ہدایت فرمائی: جب تم کسی زمین پر جاؤ تو (زکوٰۃ کے لیے) پھلوں کا اندازہ لگاؤ اور ان (مالکان) کے لیے ان کے کھانے پینے کے بقدر حصہ چھوڑ دیا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1481]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، إلّا أنَّ حماد بن زيد في روايته عن يحيى بن سعيد - وهو الأنصاري - مقال، قال عبد الرحمن بن مهدي - كما في "الجرح والتعديل" 3/ 138 لابن أبي حاتم -: ما رأيت أحدًا لم يكتب الحديث أحفظ من حماد بن زيد، لم يكن عنده كتاب إلّا ...» [ترقيم الرساله 1481] [ترقيم الشركة 1469]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1482
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شُعبة، عن قتادة، عن أبي عمر الغُدَاني، عن أبي هريرة: أنه مَرَّ عليه رجلٌ من بني عامر، فقيل: هذا من أكثر الناس مالًا، فدعاه أبو هريرةَ فسأله عن ذلك، فقال: نَعَم، لي مئةٌ حمراءُ، ولي منةٌ أَدْماءُ، ولي كذا وكذا من الغَنَم، فقال أبو هريرة: إياكَ وأَخفافَ الإبل، إياكَ وأظلافَ الغَنَم؛ إنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ما مِن رجلٍ يكون له إبلٌ لا يؤدِّي حقَّها في نَجْدَتِها ورِسْلِها - قال رسول الله ﷺ: ونَجْدتُها ورِسْلُها: عُسْرُها ويُسْرُها - إلّا بَرَزَ له بقاعٍ قَرقَرٍ، فجاءته كأَغذِّ (1) ما تكون وأَسَرِّهِ وأسمَنِه أو أعظمِه (2) - شعبةُ شَكَّ - فتَطَؤُه بأخفافِها وتَنطِحُه بقرونها، كلَّما جازت عليه أُخراها أُعيدتْ عليه أُولاها، في يومٍ كان مقدارُه خمسين ألفَ سنة، حتى يُقضَى بين الناس فيُرى سَبيلَه. وما من عبدٍ يكون له بقرٌ لا يُؤدِّي حقَّها في نَجْدَتِها ورِسْلِها - قال رسولُ الله ﷺ: ونَجْدَتها ورِسْلُها، عُسْرُها ويُسْرُها - إلّا بَرَزَ له بِقاعٍ قَرْقَرٍ كأغَذِّ ما تكونُ وأسرِّه واسمَنِه وأعظَمِه، فتطؤُه بأظلافها، وتَنْطِحُه بقُرونِها، كلما جازَتْ عليه أُولاها أُعيدَتْ عليه أُخراها، في يومٍ كان مِقدارُه خمسينَ ألفَ سنة، حتى يُقضَى بين الناس، فيُرَى سبيلَه". فقال له العباس: وما حقُّ الإبل يا أبا هريرة؟ قال: تُعطي الكريمةَ، وتَمنحُ الغَزيرةَ، وتُفقِرُ الظَّهرَ، وتُطرِقُ الفَحْل، وتَسقِي اللَّبَن (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما خرَّج مسلم بعض هذه الألفاظ من حديث سُهيل عن أبيه عن أبي هريرة (1) . وأبو عمر الغُدَاني يقال: إنه يحيى بن عُبيد البَهْراني، فإن كان كذلك، فقد احتجَّ به مسلم. ولا أعلم أحدًا حدَّث به عن شعبة غيرَ يزيد بن هارون، ولم نكتبه عاليًا إلّا عن أبي العباس المحبوبي.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس سے بنو عامر کا ایک شخص گزرا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ بہت مالدار ہے۔ ابوہریرہ نے اس سے پوچھا تو اس نے تصدیق کی کہ اس کے پاس سرخ اور سیاہ اونٹوں اور بکریوں کے بڑے گلے ہیں۔ ابوہریرہ نے فرمایا: اونٹوں کے کھروں اور بکریوں کے کھروں (سے پامال ہونے) سے بچو؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس شخص کے پاس اونٹ ہوں اور وہ تنگی و آسانی (نجدہ و رسل) دونوں حالتوں میں ان کا حق ادا نہ کرے، تو قیامت کے دن اسے ایک چٹیل میدان میں لٹایا جائے گا اور وہ اونٹ پہلے سے زیادہ موٹے اور طاقتور ہو کر آئیں گے اور اسے اپنے کھروں تلے روندیں گے اور سینگوں سے ماریں گے۔ جب آخری اونٹ گزر جائے گا تو پہلے کو دوبارہ لایا جائے گا۔ یہ سلسلہ پچاس ہزار سال کے برابر ایک دن میں جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔ یہی حال گائے بکریوں کے مالک کا بھی ہوگا۔ پوچھا گیا: اے ابوہریرہ! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ انہوں نے کہا: عمدہ جانور (زکوٰۃ میں) دینا، دودھ والے جانور عاریت دینا، سواری کے لیے اونٹ مہیا کرنا، جفتی کے لیے نر (سانڈ) دینا اور (ضرورت مندوں کو) دودھ پلانا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، امام مسلم نے اس کے کچھ حصے روایت کیے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1482]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1482] [ترقيم الشركة 1470]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1482M
إنما حدَّثَناه أبو زكريا العَنْبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عَبْدَةُ بن عبد الله الخُزَاعي. وحدثنا أبو عليٍّ الحافظ، حدثنا أبو عبد الرحمن النَّسائي، حدثنا محمد بن عليّ بن سَهْل؛ قالا: حدثنا يزيد بن هارون، نحوه.
ہمیں یہ حدیث ابوزکریا العنبری، ابراہیم بن ابی طالب اور عبدہ بن عبداللہ الخزاعی نے بیان کی، نیز ابوعلی الحافظ، ابوعبدالرحمن النسائی اور محمد بن علی بن سہل نے بھی اسے نقل کیا؛ ان سب کا بیان ہے کہ ہمیں یزید بن ہارون نے اسی کے مثل (سابقہ روایت کی طرح) حدیث بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1482M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1482M] [ترقيم الشركة 1471]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1483
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيّب، حدثنا نُعَيم بن حماد، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن رَبيعَة بن أبي عبد الرحمن، عن الحارث بن بلال بن الحارث، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ أَخَذَ في المَعادن القَبَلِيَّةِ الصَّدقةَ، وأنه أقطَعَ بلالَ بن الحارث العَقِيقَ أجمَعَ، فلمَّا كان عمرُ قال لبلال: إنَّ رسول الله ﷺ لم يُقطِعْكَ لتَحْتَجِرَه عن الناس، لم يُقطِعْكَ إلّا لتعمَلَ. قال: فأقطَعَ عمرُ بن الخطاب للناس العَقِيقَ (2) . قد احتجَّ البخاري بنُعَيم بن حماد، ومسلمٌ بالدَّراوَرْدي، و
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه.
حارث بن بلال اپنے والد (سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 'قبلیہ' کی معدنیات سے زکوٰۃ وصول فرمائی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث کو 'عقیق' کا پورا علاقہ بطور جاگیر عطا فرمایا تھا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے بلال سے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں یہ زمین اس لیے نہیں دی تھی کہ تم اسے لوگوں سے روک کر بیٹھ جاؤ، بلکہ اس لیے دی تھی کہ تم اس پر کام کرو۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے عقیق کا وہ علاقہ (جس پر بلال کام نہیں کر پا رہے تھے) لے کر لوگوں میں تقسیم کر دیا۔
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1483]
تخریج الحدیث: «في إسناده لِين، الحارث بن بلال تفرد بالرواية عنه ربيعة بن أبي عبد الرحمن، وقال فيه ابن القطان في "بيان الوهم" 3/ 468: الحارث بن بلال هذا لا يعرف حاله، وقال أحمد بن حنبل عن حديث بلال بن الحارث هذا: لا أقول به، وليس إسناده بالمعروف، ولم يروه إلّا الدراوردي وحده.» [ترقيم الرساله 1483] [ترقيم الشركة 1472]

الحكم على الحديث: في إسناده لِين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1484
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن مَيمُون، حدثنا عفّان بن مُسلِم، حدثنا شُعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الحَكَم، عن ابن أبي رافع، عن أبي رافع: أنَّ رسول الله ﷺ بَعَثَ رجلًا من بني مَخزُوم على الصَّدقة، فقال لأبي رافع: اصحَبْني كَيْما تُصيبَ منها، فقال: لا، حتى آتيَ رسولَ الله ﷺ، فانطَلَقَ إلى النبي ﷺ فسأله، فقال:"إنَّ الصَّدقةَ لا تَحِلُّ لنا، وإنَّ مَواليَ القوم من أنفُسِهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مخزوم کے ایک شخص کو زکوٰۃ وصول کرنے پر مامور کیا، اس نے ابورافع سے کہا: میرے ساتھ چلو تاکہ تمہیں بھی اس میں سے کچھ حصہ مل جائے، انہوں نے کہا: نہیں، جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہ کر لوں۔ چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک صدقہ (زکوٰۃ) ہمارے لیے حلال نہیں ہے، اور کسی قوم کے آزاد کردہ غلام بھی انہی (کے حکم) میں شمار ہوتے ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1484]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،الحكم: هو ابن عُتيبة الكِندي، وابن أبي رافع: اسمه عبيد الله، وهو كاتب علي بن أبي طالب، وأبو رافع: هو مولى النبي ﷺ، واسمه أسلم.» [ترقيم الرساله 1484] [ترقيم الشركة 1473]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں