🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى
سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو مال داری کے باوجود دیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1521
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمَّاد، عن محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عُمر بن قتادة، عن محمود بن لبيد، عن جابر بن عبد الله الأنصاري قال: كنا عند رسول الله ﷺ إذ جاء رجل بمثل بَيضةٍ من ذهب، فقال: يا رسول الله، أصبتُ هذه من مَعدِنٍ، فخُذْها فهي صدقةٌ، ما أملِكُ غيرَها، فأعرَضَ عنه رسول الله ﷺ، ثم أتاه من قِبَل رُكْنِه الأيمن، فقال مثلَ ذلك، فأعرَضَ عنه، ثم أتاه من رُكنِه الأيسر، فأعرَضَ عنه رسول الله ﷺ، ثم أتاه من خَلْفِه، فأخذها رسولُ الله ﷺ فحَذَفَه بها، فلو أصابته لأوجَعَتْه ولَعَقَرتْه، فقال رسول الله ﷺ:"يأتي أحدُكم بما يَملِكُ فيقول: هذه صدقةٌ، ثم يقعُدُ يَستكِفُّ الناسَ، خيرُ الصَّدقةِ ما كان عن ظَهْرِ غِنًى" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک شخص سونے کے انڈے جیسی کوئی چیز لے کر آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھے ایک کان سے ملی ہے، اسے قبول فرمائیے، یہ صدقہ ہے اور میرے پاس اس کے سوا کوئی مال نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب سے آیا اور وہی بات کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اعراض فرمایا، پھر وہ بائیں جانب سے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر رخ موڑ لیا، پھر وہ پیچھے سے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ (سونا) اس سے لے لیا اور اسے اس کی طرف (ایسے انداز میں) اچھالا کہ اگر وہ اسے لگ جاتا تو اسے تکلیف پہنچتی یا وہ زخمی ہو جاتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنا سارا مال لے کر آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ صدقہ ہے، پھر (خود محتاج ہو کر) بیٹھ جاتا ہے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضرورت پوری ہونے کے بعد خوشحالی میں سے دیا جائے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1521]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير شيخ المصنف، وهو عبد الرحمن بن الحسن، ففيه ضعفٌ لكنه متابع، ومحمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن.» [ترقيم الرساله 1521] [ترقيم الشركة 1512]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات غير شيخ المصنف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1522
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العدل، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، عن ابن عَجْلان، عن عياض بن عبد الله بن سعد، سمع أبا سعيدٍ الخُدْريَّ يقول: دخلَ رجلٌ المسجد، فأمر النبيُّ ﷺ أن يَطْرَحُوا له ثيابًا، فَطَرَحُوا له، فأمر فيها بثوبين، ثم حثَّ على الصدقة فجاء فَطَرَح الثوبين، فصاح به وقال:"خُذْ ثَوبَيكَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کی خستہ حالی دیکھ کر صحابہ کو) حکم دیا کہ اس کے لیے کپڑے ڈالیں، چنانچہ لوگوں نے کپڑے ڈالے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ان میں سے دو کپڑوں کا حکم فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کی ترغیب دی تو اس شخص نے وہی دو کپڑے (صدقے کے لیے) پیش کر دیے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکارا اور فرمایا: اپنے دو کپڑے (واپس) لے لو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1522]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل ابن عجلان: وهو محمد. الحميدي: هو عبد الله بن الزبير، وسفيان: هو ابن عيينة.» [ترقيم الرساله 1522] [ترقيم الشركة 1513]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں