🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى
سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو مال داری کے باوجود دیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1522
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العدل، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، عن ابن عَجْلان، عن عياض بن عبد الله بن سعد، سمع أبا سعيدٍ الخُدْريَّ يقول: دخلَ رجلٌ المسجد، فأمر النبيُّ ﷺ أن يَطْرَحُوا له ثيابًا، فَطَرَحُوا له، فأمر فيها بثوبين، ثم حثَّ على الصدقة فجاء فَطَرَح الثوبين، فصاح به وقال:"خُذْ ثَوبَيكَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کی خستہ حالی دیکھ کر صحابہ کو) حکم دیا کہ اس کے لیے کپڑے ڈالیں، چنانچہ لوگوں نے کپڑے ڈالے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ان میں سے دو کپڑوں کا حکم فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کی ترغیب دی تو اس شخص نے وہی دو کپڑے (صدقے کے لیے) پیش کر دیے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکارا اور فرمایا: اپنے دو کپڑے (واپس) لے لو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1522]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل ابن عجلان: وهو محمد. الحميدي: هو عبد الله بن الزبير، وسفيان: هو ابن عيينة.» [ترقيم الرساله 1522] [ترقيم الشركة 1513]

الحكم على الحديث: إسناده قوي

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1522 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي من أجل ابن عجلان: وهو محمد. الحميدي: هو عبد الله بن الزبير، وسفيان: هو ابن عيينة.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن عجلان (محمد) کی وجہ سے سند قوی ہے۔ 👤 راوی پر جرح: الحمیدی سے مراد عبد اللہ بن الزبیر اور سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وسلف مطولًا برقم (1066)، وسلف تخريجه هناك.
📝 توضیح: یہ تفصیل کے ساتھ حدیث نمبر (1066) پر گزر چکی ہے اور وہیں اس کی تخریج بھی درج ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1522 in Urdu