المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى
سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو مال داری کے باوجود دیا جائے۔
حدیث نمبر: 1522
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العدل، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، عن ابن عَجْلان، عن عياض بن عبد الله بن سعد، سمع أبا سعيدٍ الخُدْريَّ يقول: دخلَ رجلٌ المسجد، فأمر النبيُّ ﷺ أن يَطْرَحُوا له ثيابًا، فَطَرَحُوا له، فأمر فيها بثوبين، ثم حثَّ على الصدقة فجاء فَطَرَح الثوبين، فصاح به وقال:"خُذْ ثَوبَيكَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص مسجد میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس شخص کے لیے کپڑے صدقہ کرو تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کے لیے کپڑے صدقہ کیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دو کپڑے اس کو دینے کا حکم دیا پھر آپ نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی۔ وہ شخص آیا اور ان دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا وہاں ڈال گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلا کر اس کا کپڑا اس کو واپس کر دیا۔ (کیونکہ وہ تو خود غریب تھا)۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1522]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1522 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي من أجل ابن عجلان: وهو محمد. الحميدي: هو عبد الله بن الزبير، وسفيان: هو ابن عيينة.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن عجلان (محمد) کی وجہ سے سند قوی ہے۔ 👤 راوی پر جرح: الحمیدی سے مراد عبد اللہ بن الزبیر اور سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وسلف مطولًا برقم (1066)، وسلف تخريجه هناك.
📝 توضیح: یہ تفصیل کے ساتھ حدیث نمبر (1066) پر گزر چکی ہے اور وہیں اس کی تخریج بھی درج ہے۔