المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. الْإِعْطَاءُ لِلْأَقْرِبَاءِ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ
قریبی رشتہ داروں کو دینا اجر کے لحاظ سے زیادہ عظیم ہے۔
حدیث نمبر: 1527
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أَسد بن موسى، حدثنا أبو معاوية، عن محمد بن إسحاق. وأخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا هنَّاد بن السَّري، حدثنا عَبْدة، عن محمد بن إسحاق، عن بُكَير بن عبد الله بن الأشَجِّ، عن سليمان بن يسار، عن ميمونةَ زوج النبي ﷺ قالت: كانت لي جاريةٌ فأعتقتُها، فدخل عليَّ رسول الله ﷺ، فأخبرته، فقال:"آجَرَكِ الله، أَمَا إنَّكِ لو كنتِ أعطيتِها أخوالَكِ كان أعظمَ لأجرِكِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میری ایک لونڈی تھی جسے میں نے آزاد کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تمہیں اس کا اجر دے، لیکن اگر تم وہ لونڈی اپنے ننھیال (ماموں وغیرہ) کو دے دیتیں تو یہ تمہارے اجر کے لحاظ سے زیادہ بڑی بات ہوتی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1527]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1527]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد لا بأس برجاله غير أن محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار - مدلس وقد عنعنه، ثم إنه قد خولف في هذا الإسناد، فرواه عمرو بن الحارث المصري ويزيد أبي حبيب وابن لهيعة وغيرهم عن بكير بن عبد الله بن الأشج عن كريب مولى ابن عباس ...» [ترقيم الرساله 1527] [ترقيم الشركة 1518]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1528
أخبرنا محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا قَبِيصة، حدثنا سفيان. وأخبرنا محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، عن محمد بن عَجْلان، عن المَقبُري، عن أبي هريرة قال: أَمَرَ النبيُّ ﷺ بالصدقة، فقال رجل: يا رسول الله، عندي دينار، قال:"تصدَّقْ به على نفسك" قال: عندي آخر، قال:"تصدَّقْ به على وَلَدِك" قال: عندي آخر، قال:"تصدَّقْ به على زَوجِك" - أو قال:"على زوجتك" - قال: عندي آخر، قال:"تصدَّقْ به على خادِمِك" قال: عندي آخر، قال:"أنت أبصَرُ" (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم دیا، تو ایک شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنی ذات پر خرچ کرو“، اس نے عرض کیا: ”میرے پاس ایک اور ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے بچے پر خرچ کرو“، اس نے عرض کیا: ”میرے پاس ایک اور ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنی بیوی پر خرچ کرو“، اس نے عرض کیا: ”میرے پاس ایک اور ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے خادم پر خرچ کرو“، اس نے عرض کیا: ”میرے پاس ایک اور ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خود زیادہ بہتر جانتے ہو (کہ اسے کہاں خرچ کرنا ہے)۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1528]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1528]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل محمد بن عجلان، فهو صدوق لا بأس به. قبيصة: هو ابن عقبة، وسفيان: هو الثوري، والمقبري: هو سعيد بن أبي سعيد.» [ترقيم الرساله 1528] [ترقيم الشركة 1519]
الحكم على الحديث: إسناده قوي