🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. الإعطاء للأقرباء أعظم للأجر
قریبی رشتہ داروں کو دینا اجر کے لحاظ سے زیادہ عظیم ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1528
أخبرنا محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا قَبِيصة، حدثنا سفيان. وأخبرنا محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، عن محمد بن عَجْلان، عن المَقبُري، عن أبي هريرة قال: أَمَرَ النبيُّ ﷺ بالصدقة، فقال رجل: يا رسول الله، عندي دينار، قال:"تصدَّقْ به على نفسك" قال: عندي آخر، قال:"تصدَّقْ به على وَلَدِك" قال: عندي آخر، قال:"تصدَّقْ به على زَوجِك" - أو قال:"على زوجتك" - قال: عندي آخر، قال:"تصدَّقْ به على خادِمِك" قال: عندي آخر، قال:"أنت أبصَرُ" (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے اوپر خرچ کر لے۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی والاد پر خرچ کر، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بیوی پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے خادم پر خرچ کر، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے (بھی تو) نظر آ رہا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1528]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1528 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي من أجل محمد بن عجلان، فهو صدوق لا بأس به. قبيصة: هو ابن عقبة، وسفيان: هو الثوري، والمقبري: هو سعيد بن أبي سعيد.
⚖️ درجۂ حدیث: محمد بن عجلان کی وجہ سے سند قوی ہے کیونکہ وہ صدوق ہیں۔ 👤 راوی پر جرح: قبیصہ (ابن عقبہ)، سفیان (ثوری) اور المقبری (سعید بن ابی سعید) ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1691) عن محمد بن كثير، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1691) نے محمد بن کثیر کی سند سے اسی واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (4233) من طريق إبراهيم بن بشار، عن سفيان الثوري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (4233) نے ابراہیم بن بشار عن سفیان ثوری کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 12/ (7419) و 16/ (10086)، والنسائي (2327) و (9137)، وابن حبان (3337) و (4235) من طرق عن ابن عجلان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، نسائی (2327) اور ابن حبان (3337) نے ابن عجلان کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 16/ (10119) و (10174)، ومسلم (995)، والنسائي (9139) من طريق مزاحم بن زفر، عن مجاهد، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "دينار أنفقته في سبيل الله، ودينار أنفقته في رقبة، ودينار تصدقت به على مسكين، ودينار أنفقته على أهلك، أعظمها أجرًا الذي أنفقته على أهلك".
📖 حوالہ / مصدر: احمد، مسلم (995) اور نسائی نے مجاہد عن ابی ہریرہ کی سند سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ایک دینار وہ ہے جو تم نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، ایک دینار وہ جو غلام آزاد کرنے میں لگایا، ایک وہ جو کسی مسکین کو صدقہ دیا، اور ایک وہ جو اپنے گھر والوں پر خرچ کیا، ان میں اجر کے لحاظ سے سب سے عظیم وہ ہے جو تم نے اپنے گھر والوں پر خرچ کیا"۔