🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. بَيَانُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ
لیلۃ القدر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1613
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن الحسن بن عبَّاد ومحمد بن غالب بن حَرْب، قالا: حدثنا أبو حذيفة، حدثنا عِكْرِمة بن عمَّار. وأخبرني أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمَرْقَنْدي، حدثنا محمد بن نصر، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا عِكرِمة بن عمَّار، عن سِمَاك الحَنَفي، حدثني مالك بن مَرْثَد، عن أبيه قال: سألتُ أبا ذرٍّ فقلت: أسألتَ رسولَ الله ﷺ عن ليلة القَدْر؟ فقال: أنا كنت أسألَ الناسِ عنها، قال: قلت: يا رسولَ الله (3) ، أخبِرْني عن ليلة القَدْر، أفي رمضانَ، أو في غيره؟ قال:"بل هي في رمضانَ"، قال: قلت: يا رسولَ الله، تكونُ مع الأنبياء ما كانوا، فإذا قُبِضَ الأنبياءُ رُفِعَتْ، أم هي إلى يوم القيامة؟ قال:"بل هيَ إلى يوم القيامة"، قال: فقلت: يا رسولَ الله، في أيِّ رمضانَ هي؟ قال:"التَمِسوها في العَشْرِ الأُوَلِ والعَشْرِ الأواخرِ". قال: ثم حدَّث رسولُ الله ﷺ وحدَّث، فاهتَبَلتُ غَفْلتَه فقلت: يا رسولَ الله، في أيِّ العِشرينَ؟ قال:"التَمِسوها في العَشْر الأَواخِر، لا تسألْني عن شيءٍ بعدها"، ثم حدَّث رسول الله ﷺ وحدّث، فاهتَبَلتُ غَفْلتَه فقلت: يا رسولَ الله، أقسمتُ عليك لتُخبِرَنِّي - أو لمَا أخبَرْتَني - في أي العَشْر هي؟ قال: فغضِبَ عليَّ غضبًا ما غضِبَ عليَّ مثلَه قبلَه ولا بعده، فقال:"إنَّ الله لو شاء لأطلَعَكم عليها، التَمِسوها في السَّبع الأواخر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
مالک بن مرثد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا تھا؟ انہوں نے فرمایا: میں لوگوں میں سب سے زیادہ اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے والا تھا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے لیلۃ القدر کے بارے میں بتائیے کہ کیا یہ صرف رمضان میں ہوتی ہے یا کسی اور مہینے میں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ یہ صرف رمضان ہی میں ہوتی ہے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ انبیاء کے دور تک رہتی ہے اور جب انبیاء وفات پا جاتے ہیں تو یہ اٹھا لی جاتی ہے، یا یہ قیامت تک رہے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ یہ قیامت تک رہے گی، میں نے عرض کیا: رمضان کے کس حصے میں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے (رمضان کے) پہلے عشرے اور آخری عشرے میں تلاش کرو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اور باتیں فرمانے لگے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ پاکر پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ (درمیان والے) بیس دنوں میں سے کس میں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اس کے بعد مجھ سے اس کے متعلق کچھ نہ پوچھنا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرمانے لگے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ دیکھ کر پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ مجھے بتا دیں کہ یہ اس عشرے کی کن راتوں میں ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اس قدر ناراض ہوئے کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد کبھی اتنے ناراض نہیں ہوئے تھے، اور فرمایا: اگر اللہ چاہتا تو تمہیں اس کی اطلاع دے دیتا، تم اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1613]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين، مرثد - وهو ابن عبد الله الزِّمّاني، ويقال: الذماري - وإن تفرد بالرواية عنه ابنه مالك، فهو تابعي، وقد ذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال العجلي: تابعي ثقة. أما ما نسب للعقيلي من قوله: لا يتابع على حديثه، فقد أورد هذا القول الذهبي في "الميزان" 4/ 87، ...» [ترقيم الرساله 1613] [ترقيم الشركة 1602]

الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1614
حدثني أبو الحسن أحمد بن أبي عثمان الزاهد، حدثنا أبو عبد الله محمد بن بَرَّوَيهِ المؤذن، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا عبد الله بن إدريس، حدثنا عاصم بن كُلَيب الجَرْمي، عن أبيه، عن ابن عباسٍ قال: كان عمر بن الخطاب يدعوني مع أصحاب محمد ﷺ، ويقول لي: لا تتكلَّم حتى يتكلَّموا، قال: فدعاهم وسألهم عن ليلةِ القَدر، فقال: أرأيتُم قولَ رسول الله ﷺ:"التَمِسوها في العَشْر الأواخر"، أيَّ ليلةٍ تَرَونها؟ قال: فقال بعضُهم: ليلة إحدى، وقال بعضُهم: ليلة ثلاثٍ، وقال آخر: خمسٍ. وأنا ساكتٌ، فقال: ما لَكَ لا تكلَّمُ؟ فقلت: إن أذنتَ لي يا أمير المؤمنين تكلمتُ، قال: فقل، ما أرسلتُ إليك إلَّا لتكلَّمَ، قال: فقلت: أُحدِّثكم برأيٍ؟ قال: عن ذلك نسألك، قال: فقلت: السبع، رأيتُ الله ذَكَرَ سبعَ سماوات، ومن الأرَضِين سبعًا، وخَلَقَ الإنسان من سبعٍ، وبَرَزَ نبتُ الأرض [من سبعٍ] (1) ، قال: فقال: هذا أخبرتَني ما أعلمُ، أرأيتَ ما لا أعلمُ من قولك: نبتُ الأرض سبعٍ؟ قال: قلت: إنَّ الله يقول: ﴿ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا﴾ إلى قوله: ﴿وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾ [عبس: 26 - 31] والأبُّ: نبتُ الأرض مما يأكلُه الدوابُّ ولا يأكلُه الناس، قال: فقال عمر: أعَجَزتُم أن تقولوا كما قال هذا الغلام الذي لم تَجتمِعْ شُؤُونُ رأسِه بعدُ؟! إنِّي والله ما أرى القولَ إلَّا كما قلتَ. قال: وقال: قد كنتُ أمرتُك أن لا تَكلَّمَ حتى يتكلَّموا، وإنِّي آمرُكَ أن تتكلَّم معهم (2) . قال ابن إدريس: فحدَّثنا عبدُ الملك عن سعيد بن جُبير عن ابن عباس بمثله (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے (بڑے) صحابہ کے ساتھ (مجلس میں) بلایا کرتے تھے اور مجھ سے فرماتے: جب تک یہ لوگ گفتگو نہ کر لیں تم بات نہ کرنا۔ ایک دن انہوں نے صحابہ کو بلایا اور ان سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد «التَمِسوها فى العَشْر الأواخر» اسے آخری عشرے میں تلاش کرو کے مطابق وہ کون سی رات ہو سکتی ہے؟ بعض نے کہا: اکیسویں، بعض نے تئیسویں اور کسی نے پچیسویں رات کہا، جبکہ میں خاموش تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا کہ تم بات نہیں کر رہے؟ میں نے عرض کیا: اے امیر المومنین! اگر آپ اجازت دیں تو میں بھی کچھ کہوں، انہوں نے فرمایا: کہو، میں نے تمہیں بلایا ہی اس لیے ہے کہ تم بولو۔ میں نے عرض کیا: کیا میں اپنی رائے پیش کروں؟ انہوں نے فرمایا: ہم تم سے اسی کا سوال کر رہے ہیں، میں نے عرض کیا: وہ ساتویں رات (ستائیسویں) ہے، کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ اللہ نے سات آسمانوں کا ذکر کیا، زمینوں کی تعداد سات رکھی، انسان کی تخلیق کے سات مراحل بنائے، اور زمین سے اگنے والی نباتات کو بھی سات اقسام میں ذکر فرمایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو تم نے وہ بتایا جو میں جانتا ہوں، مگر وہ کیا ہے جو میں نہیں جانتا کہ زمین کی نباتات سات ہیں؟ میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا﴾ پھر ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑا [سورة عبس: 26] یہاں تک کہ فرمایا ﴿وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾ [سورة عبس: 31] اور «ابّ» سے مراد زمین کی وہ نباتات ہیں جسے چوپائے کھاتے ہیں اور انسان نہیں۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (دیگر صحابہ سے) فرمایا: کیا تم عاجز آ گئے تھے کہ ایسی بات کہتے جیسی اس لڑکے نے کہی جس کے سر کے بال ابھی پوری طرح نہیں جڑے۔ (یعنی جو ابھی نوعمر ہے)؟ اللہ کی قسم! میری رائے بھی وہی ہے جو تم نے کہی۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر مجھ سے فرمایا: میں نے تمہیں پہلے منع کیا تھا کہ جب تک یہ بڑے بات نہ کر لیں تم نہ بولنا، لیکن اب میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ گفتگو کیا کرو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1614]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي،، عاصم بن كُليب وأبوه - وهو كليب بن شهاب الجرمي - صدوقان لا بأس بهما. محمد بن برَّويه: هو محمد بن إبراهيم بن سعد بن قطبة أبو عبد الله النيسابوري، له ترجمة في "تاريخ الإسلام" للذهبي 6/ 1006، ويحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وعبد الله بن إدريس: هو الأودي.» [ترقيم الرساله 1614] [ترقيم الشركة 1603]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1615
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُليَّة، عن عُيينةَ بن عبد الرحمن، عن أبيه قال: ذُكِرَتْ ليلةُ القدر عند أبي بَكْرةَ فقال: ما أنا بطالبِها إلَّا في العشر الأواخر [بعد حديثٍ سمعتُه من رسول الله ﷺ، سمعتُه يقول:"التَمِسوها في العشر الأواخر] (2) في تسعٍ، أو في سبعٍ يَبْقَينَ، أو في خمسٍ يَبْقَين، أو في ثلاثٍ يَبْقَين، أو في آخر ليلةٍ"، فكان لا يُصلِّي في العشرين إلَّا صلاتَه سائرَ سَنَتِه، فإذا دخل العَشرُ اجتَهَدَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے لیلۃ القدر کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث کی بنا پر اسے صرف آخری عشرے ہی میں تلاش کرتا ہوں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرو جب (مہینے کی) نو راتیں باقی رہ جائیں، یا سات باقی ہوں، یا پانچ باقی ہوں، یا تین باقی ہوں، یا آخری رات میں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ رمضان کے ابتدائی بیس دنوں میں تو سال کے باقی ایام کی طرح معمول کے مطابق نماز پڑھتے تھے، لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو وہ (عبادت میں) خوب محنت اور تگ و دو کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1615]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو المثنّى: هو معاذ بن المثنى.» [ترقيم الرساله 1615] [ترقيم الشركة 1604]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں