المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. صَوْمُ التَّطَوُّعِ
نفلی روزوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1616
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَكَّار بن قُتيبة القاضي، حدثنا صفوان بن عيسى القاضي، حدثنا أبو يونس حاتم بن أبي صَغيرة، عن سِمَاك بن حرب، عن أبي صالح، عن أم هانئ: أنَّ رسول الله ﷺ كان يقول:"الصائمُ المتطوِّعُ أميرُ نفسِه، إن شاء صامَ، وإن شاء أفطرَ" (2) .
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”نفل روزہ رکھنے والا خود اپنا امیر (با اختیار) ہے، اگر چاہے تو روزہ پورا کرے اور اگر چاہے تو اسے افطار کر لے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1616]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لاضطرابه، كما هو مفصَّل في التعليق على "مسند أحمد" 44/ (26897) بما يغني عن إعادته. أبو صالح: اسمه باذام، ويقال: باذان مولى أم هانئ، وأم هانئ: هي بنت أبي طالب، واسمها: فاختة، وقيل: هند.» [ترقيم الرساله 1616] [ترقيم الشركة 1605]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 1617
حدثنا الشيخ الإمام أبو الوليد حسّان بن محمد الفقيه، حدثنا جعفر بن أحمد بن نصر، حدثنا بُنْدار، حدثنا يحيى بن أبي الحَجّاج الخاقاني، حدثنا حاتم بن أبي صَغِيرة، حدثني سِمَاك بن حرب، عن أبي صالح، عن أم هانئ قالت: قال رسول الله ﷺ:"المتطوِّع بالخِيار، إن شاء صامَ، وإن شاء أفطَرَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وتلك الأخبارُ المعارِضة لهذا، لم يصحَّ منها شيء.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وتلك الأخبارُ المعارِضة لهذا، لم يصحَّ منها شيء.
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفل روزہ رکھنے والے کو اختیار حاصل ہے، اگر چاہے تو روزہ رکھے اور اگر چاہے تو توڑ دے۔“
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے معارض جو روایات آتی ہیں ان میں سے کوئی بھی (سنداً) صحیح ثابت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1617]
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے معارض جو روایات آتی ہیں ان میں سے کوئی بھی (سنداً) صحیح ثابت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1617]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كالذي قبله. بندار: هو محمد بن بشار.» [ترقيم الرساله 1617] [ترقيم الشركة 1606]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف