المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
31. بيان ليلة القدر
لیلۃ القدر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1613
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن الحسن بن عبَّاد ومحمد بن غالب بن حَرْب، قالا: حدثنا أبو حذيفة، حدثنا عِكْرِمة بن عمَّار. وأخبرني أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمَرْقَنْدي، حدثنا محمد بن نصر، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا عِكرِمة بن عمَّار، عن سِمَاك الحَنَفي، حدثني مالك بن مَرْثَد، عن أبيه قال: سألتُ أبا ذرٍّ فقلت: أسألتَ رسولَ الله ﷺ عن ليلة القَدْر؟ فقال: أنا كنت أسألَ الناسِ عنها، قال: قلت: يا رسولَ الله (3) ، أخبِرْني عن ليلة القَدْر، أفي رمضانَ، أو في غيره؟ قال:"بل هي في رمضانَ"، قال: قلت: يا رسولَ الله، تكونُ مع الأنبياء ما كانوا، فإذا قُبِضَ الأنبياءُ رُفِعَتْ، أم هي إلى يوم القيامة؟ قال:"بل هيَ إلى يوم القيامة"، قال: فقلت: يا رسولَ الله، في أيِّ رمضانَ هي؟ قال:"التَمِسوها في العَشْرِ الأُوَلِ والعَشْرِ الأواخرِ". قال: ثم حدَّث رسولُ الله ﷺ وحدَّث، فاهتَبَلتُ غَفْلتَه فقلت: يا رسولَ الله، في أيِّ العِشرينَ؟ قال:"التَمِسوها في العَشْر الأَواخِر، لا تسألْني عن شيءٍ بعدها"، ثم حدَّث رسول الله ﷺ وحدّث، فاهتَبَلتُ غَفْلتَه فقلت: يا رسولَ الله، أقسمتُ عليك لتُخبِرَنِّي - أو لمَا أخبَرْتَني - في أي العَشْر هي؟ قال: فغضِبَ عليَّ غضبًا ما غضِبَ عليَّ مثلَه قبلَه ولا بعده، فقال:"إنَّ الله لو شاء لأطلَعَكم عليها، التَمِسوها في السَّبع الأواخر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا مالک بن مرثد رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں: (وہ فرماتے ہیں) میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے متعلق پوچھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: میں اس کے متعلق سب لوگوں سے زیادہ پوچھا کرتا تھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے بتائیے کہ لیلۃ القدر رمضان المبارک میں ہوتی ہے یا کسی اور مہینے میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رمضان المبارک میں ہوتی ہے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ خاص طور پر انبیاء کرام علیہم السلام کی حیات تک ہی ہوتی ہے اور جب وہ وفات پا جاتے ہیں تو اس کو اٹھا لیا جاتا ہے یا یہ قیامت تک رہے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انبیاء کرام کی حیات تک محدود نہیں ہوتی) بلکہ قیامت تک رہے گی۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ رمضان المبارک کے کن ایام میں ہوتی ہے؟ اس کے بعد آپ (کسی دوسرے موضوع پر) گفتگو کرتے رہے، میں نے آپ کی اس عدم توجہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بہانے سے پھر پوچھ لیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کون سے دو عشروں میں ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھلے عشروں میں۔ اور آج کے بعد مجھ سے اس کے متعلق کچھ نہیں پوچھنا۔ (ایک عرصہ بعد) میں نے پھر ایک بہانے سے پوچھ لیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کو قسم دیتا ہوں آپ مجھے ضرور بتائیے کہ یہ کون سے عشرے میں ہوتی ہے؟ (ابوذر فرماتے ہیں) اس دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اس قدر سخت ناراض ہوئے کہ اس سے پہلے کبھی بھی اتنا سخت ناراض نہیں ہوئے تھے۔ اور نہ ہی اس کے بعد کبھی اتنا ناراض ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کو منظور ہوتا تو وہ تمہیں اس کی اطلاع دے دیتا۔ اس کو آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1613]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1613 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) زاد هنا في النسخ الخطية لفظة "تكون"، ولا وجه لها هنا، فلعله سبق قلم من أحد النساخ قديمًا نشأ عن انتقال نظر إلى العبارة التالية.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہاں لفظ "تكون" زائد ہے، جس کا کوئی محل نہیں، یہ غالباً کسی قدیم کاتب کی لغزشِ قلم ہے جس کی نظر اگلی عبارت پر پڑ گئی تھی۔
(1) إسناده محتمل للتحسين، مرثد - وهو ابن عبد الله الزِّمّاني، ويقال: الذماري - وإن تفرد بالرواية عنه ابنه مالك، فهو تابعي، وقد ذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال العجلي: تابعي ثقة. أما ما نسب للعقيلي من قوله: لا يتابع على حديثه، فقد أورد هذا القول الذهبي في "الميزان" 4/ 87، إلّا أنه قال: هكذا وجدت بخطي، فلا أدري من أين نقلته، إلّا أنه ليس بمعروف. قلنا: لكن يَرِدُ عليه توثيق العجلي وابن حبان، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ 👤 راوی پر جرح: مرثد (الزمانی) تابعی ہیں، اگرچہ ان سے صرف ان کے بیٹے مالک نے روایت کی ہے، مگر ابن حبان اور عجلی نے ان کی توثیق کی ہے۔ عقیلی کی طرف منسوب جرح کہ ان کی تائید نہیں ہوتی، ذہبی کے بقول معروف نہیں ہے، جبکہ عجلی کی توثیق موجود ہے۔
أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وسماك الحنفي: هو ابن الوليد، أبو زميل اليمامي.
👤 راوی پر جرح: ابو حذيفة (موسیٰ بن مسعود النهدي) اور سماک الحنفی (ابو زميل الیمامی) اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 35/ (21499) والنسائي (3413) من طريق يحيى بن سعيد القطان، عن عكرمة بن عمار، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 35/ (21499) اور نسائی (3413) نے یحییٰ بن سعید القطان عن عکرمہ بن عمار کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (3683) من طريق الأوزاعي، عن مرثد بن أبي مرثد، عن أبيه، به. هكذا سماه مرثد، قال الحافظ في "التهذيب": مالك بن مرثد بن عبد الله الزماني روى عن أبيه عن أبي ذر، وعنه أبو زميل سماك بن الوليد، روى عنه الأوزاعي فقال مرة: عن مرثد بن أبي مرثد، وقال مرة: عن ابن مرثد أو أبي مرثد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (3683) نے اوزاعی عن مرثد بن ابی مرثد عن ابیہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے التهذیب میں اس کے ناموں کے اختلافات پر تفصیلی بحث کی ہے۔
قوله: اهتبلت غفلته، قال السندي في حاشيته على "مسند أحمد": من الاهتبال، وهو الاغتنام والاحتيال، يقال: اهتبلت غفلته، يعني: تحينتُها واغتنمتها من الهُبالة: الغنيمة. وانظر "النهاية" لابن الأثير مادة (هبل).
📌 اہم نکتہ: علامہ سندی "اہتبلت غفلتہ" کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کا مطلب موقع پانا اور غنیمت جاننا ہے، یعنی میں نے ان کی بے خبری کا فائدہ اٹھایا۔ ابن اثیر نے النهایہ میں بھی یہی معنی بیان کیا ہے۔