🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. بيان ليلة القدر
لیلۃ القدر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1614
حدثني أبو الحسن أحمد بن أبي عثمان الزاهد، حدثنا أبو عبد الله محمد بن بَرَّوَيهِ المؤذن، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا عبد الله بن إدريس، حدثنا عاصم بن كُلَيب الجَرْمي، عن أبيه، عن ابن عباسٍ قال: كان عمر بن الخطاب يدعوني مع أصحاب محمد ﷺ، ويقول لي: لا تتكلَّم حتى يتكلَّموا، قال: فدعاهم وسألهم عن ليلةِ القَدر، فقال: أرأيتُم قولَ رسول الله ﷺ:"التَمِسوها في العَشْر الأواخر"، أيَّ ليلةٍ تَرَونها؟ قال: فقال بعضُهم: ليلة إحدى، وقال بعضُهم: ليلة ثلاثٍ، وقال آخر: خمسٍ. وأنا ساكتٌ، فقال: ما لَكَ لا تكلَّمُ؟ فقلت: إن أذنتَ لي يا أمير المؤمنين تكلمتُ، قال: فقل، ما أرسلتُ إليك إلَّا لتكلَّمَ، قال: فقلت: أُحدِّثكم برأيٍ؟ قال: عن ذلك نسألك، قال: فقلت: السبع، رأيتُ الله ذَكَرَ سبعَ سماوات، ومن الأرَضِين سبعًا، وخَلَقَ الإنسان من سبعٍ، وبَرَزَ نبتُ الأرض [من سبعٍ] (1) ، قال: فقال: هذا أخبرتَني ما أعلمُ، أرأيتَ ما لا أعلمُ من قولك: نبتُ الأرض سبعٍ؟ قال: قلت: إنَّ الله يقول: ﴿ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا﴾ إلى قوله: ﴿وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾ [عبس: 26 - 31] والأبُّ: نبتُ الأرض مما يأكلُه الدوابُّ ولا يأكلُه الناس، قال: فقال عمر: أعَجَزتُم أن تقولوا كما قال هذا الغلام الذي لم تَجتمِعْ شُؤُونُ رأسِه بعدُ؟! إنِّي والله ما أرى القولَ إلَّا كما قلتَ. قال: وقال: قد كنتُ أمرتُك أن لا تَكلَّمَ حتى يتكلَّموا، وإنِّي آمرُكَ أن تتكلَّم معهم (2) . قال ابن إدريس: فحدَّثنا عبدُ الملك عن سعيد بن جُبير عن ابن عباس بمثله (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مجھے عمر بن خطاب، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے اجلاس میں بلایا کرتے تھے اور مجھے کہا کرتے تھے کہ جب تک دوسرے لوگ بات نہ کر لیں تم نے گفتگو نہیں کرنی۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلایا اور ان سے لیلۃ القدر کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے فرمایا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے متعلق کہ تم اس کو آخری عشرے میں تلاش کرو تمہارا کیا خیال ہے؟ اس سے مراد کون سی رات ہے؟ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: کچھ لوگوں نے کہا: پہلی رات۔ کچھ نے کہا: تیسری رات۔ ایک نے کہا: پانچویں۔ آپ فرماتے ہیں: میں خاموش بیٹھا ہوا تھا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: تمہیں کیا بات ہے؟ تم گفتگو کیوں نہیں کر رہے؟ میں نے جواب دیا: اے امیرالمومنین! آپ جب مجھے اجازت دیں گے میں تب بولوں گا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: میں نے آپ کو یہاں پر بولنے کے لیے ہی بلایا ہے۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں تمہیں اپنی رائے بیان کروں گا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: ہم وہی تو پوچھ رہے ہیں۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: میں نے کہا: ساتویں (شب میں) کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں اور سات زمینوں کا ذکر کیا ہے۔ اور انسان کو سات دنوں میں پیدا کیا ہے۔ اور زمین بھی بیج کو سات دنوں میں اُگاتی ہے۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: یہ بات جو آپ نے ہمیں بتائی ہے یہ تو ہم جانتے ہیں آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیں جس کو ہم نہیں جانتے اور آپ نے جو کہا ہے کہ زمین سات دنوں میں بیج اُگاتی ہے اس کا کیا مطلب؟ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: میں نے جواب میں یہ آیات: شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا پڑھنا شروع کیں اور: وَفَاکِھَۃً وَاَبًّا تک پڑھیں، اور ان کو بتایا کہ اس میں الاب سے مراد زمین کی وہ پیداوار ہے جس کو جانور کھاتے ہیں، انسان نہیں کھاتے۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (حاضرین کی جانب متوجہ ہو کر) فرمایا: کیا تم لوگ اس نوجوان کی سی گفتگو کرنے سے عاجز ہو، جس کے سر کے جوڑ بھی ابھی پوری طرح نہیں جمے۔ جبکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس نے میرے مؤقف کی موافقت میں بات کی ہے۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں کہا کرتا تھا کہ جب تک سب لوگ اپنی بات مکمل نہ کر لیں تب تک آپ اپنی بات شروع نہ کریں اور آج میں ہی آپ سے کہہ رہا ہوں کہ آپ ان کی گفتگو میں شامل ہو جایا کریں۔ ٭٭ ابنِ ادریس فرماتے ہیں: عبدالملک نے سعید بن جبیر کے واسطے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1614]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1614 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين معقوفين ليس في النسخ الخطية، وأثبتناه من المطبوع و"تلخيص الذهبي"، ولا بد منه ليستقيم الكلام، ووردت العبارة في مصادر التخريج: ونبتُ الأرض سبعٌ.
📌 اہم نکتہ: بریکٹ میں دی گئی عبارت قلمی نسخوں میں نہیں تھی، اسے مطبوعہ نسخوں اور تلخیصِ ذہبی سے شامل کیا گیا ہے تاکہ کلام درست ہو جائے۔ دیگر مصادر میں یہ الفاظ ہیں: "اور زمین کی نباتات سات ہیں"۔
(2) إسناده قوي، عاصم بن كُليب وأبوه - وهو كليب بن شهاب الجرمي - صدوقان لا بأس بهما. محمد بن برَّويه: هو محمد بن إبراهيم بن سعد بن قطبة أبو عبد الله النيسابوري، له ترجمة في "تاريخ الإسلام" للذهبي 6/ 1006، ويحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وعبد الله بن إدريس: هو الأودي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔ عاصم بن کُلیب اور ان کے والد (کُلیب بن شہاب) صدوق اور لائقِ اعتبار ہیں۔ 👤 راوی پر جرح: محمد بن برویہ النیسابوری، یحییٰ بن یحییٰ اور عبد اللہ بن ادریس سب ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا عبد الله بن أحمد في "فضائل الصحابة" (1921)، ويعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 1/ 519، وابن خزيمة (2173)، والخطيب في "الفقيه والمتفقه" (971) من طرق عن عبد الله بن إدريس، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن احمد نے فضائل الصحابہ (1921)، ابن خزیمہ اور خطیب بغدادی نے عبد اللہ بن ادریس کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2172)، والبيهقي في "السنن الكبرى" 4/ 313، وفي "شعب الإيمان" (3412) من طريق محمد بن فضيل، عن عاصم بن كليب، به. ¤ ¤ وأخرجه عبد الرزاق (7679)، والطبراني (10618)، والبيهقي في "السنن" 4/ 313، وفي "فضائل الأوقات" (103) من طريق عكرمة، عن ابن عباس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2172) اور بیہقی (4/ 313) نے عاصم بن کلیب کے طریق سے، نیز عبد الرزاق اور طبرانی نے عکرمہ عن ابن عباس ؓ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2174) عن سلم بن جنادة، عن عبد الله بن إدريس، عن عبد الملك بن أبي سليمان العرزمي، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2174) نے عبد الملك العرزمي عن سعید بن جبیر عن ابن عباس ؓ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 1/ (298) من طريق زائدة بن قدامة، عن عاصم بن كليب، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قال عمر: قال رسول الله ﷺ: "من كان منكم ملتمسًا ليلة القدر، فليلتمسها في العشر الأواخر وترًا".
📖 حوالہ / مصدر: احمد 1/ (298) نے عاصم بن کلیب عن ابیہ عن ابن عباس کی سند سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو لیلۃ القدر کو تلاش کرنا چاہے، وہ اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرے"۔
وأخرج أحمد 4/ (2543)، والبخاري (2022) من طريق أبي مجلز لاحق بن حميد وعكرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "هي في العشر، هي في تسع يمضين، أو في سبع يبقين" يعني ليلة القدر.
📖 حوالہ / مصدر: احمد 4/ (2543) اور بخاری (2022) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "وہ (لیلۃ القدر) آخری دس راتوں میں ہے، جب نو گزر جائیں یا جب سات باقی رہ جائیں"۔
وأخرج أحمد 3/ (2052) و 4/ (2520) و 5/ (3401) و (3456)، والبخاري (2021)، وأبو داود (1381) من طريق عكرمة وحده عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ قال: "التمسوها في العشر الأواخر من رمضان، ليلة القدر في تاسعة تبقى، في سابعة تبقى، في خامسة تبقى"، واللفظ للبخاري.
📖 حوالہ / مصدر: بخاری (2021) اور ابو داود (1381) میں مروی ہے کہ: "اسے رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو؛ لیلۃ القدر نویں باقی رات میں، ساتویں باقی رات میں، یا پانچویں باقی رات میں ہے"۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔
وانظر ما سيأتي برقم (6430). وشُؤون الرأس: أصول الشَّعر.
📌 اہم نکتہ: "شُؤون الرأس" سے مراد سر کے بالوں کی جڑیں ہیں۔ اس کے بارے میں تفصیل آگے (رقم 6430) پر آئے گی۔
(1) هو موصول بالإسناد السابق، وقد أخرجه ابن خزيمة (2174) عن سلم بن جنادة، عن عبد الله بن إدريس، به. وعبد الملك: هو ابن أبي سليمان العرزمي.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ گزشتہ سند سے متصل ہے اور اسے ابن خزیمہ (2174) نے عبد الملك بن ابی سلیمان العرزمي کے واسطے سے روایت کیا ہے۔