🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. التِّجَارَةُ وَالْكِرَاءُ فِي الْحَجِّ
حج کے دوران تجارت اور کرایہ داری (اجرت پر کام) کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1665
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المُثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا العلاء بن المسيَّب، حدثنا أبو أُمامة التَّيمي، قال: كنتُ رجلًا أُكْرِي في هذا الوجه، وكان أناسٌ يقولون لي: إنه ليس لك حجٌّ، فلقيتُ ابن عمر، فقلت: يا أبا عبد الرحمن، إنِّي رجلٌ أُكْرِي في هذا الوجه، وإنَّ أُناسًا يقولون لي: إنَّه ليس لك حجٌّ، فقال: ألست تُحْرمُ وتُلبِّي وتَطوفُ وتُفيضُ من عرفاتٍ وتَرمي الجِمار؟ قال: قلتُ: بلى، قال: فإنَّ لك حجًّا؛ جاء رجلٌ إلى رسول الله ﷺ فسأله عن مثلِ ما سألتَني عنه، فسكتَ عنه رسول الله ﷺ فلم يُجِبْه، حتى نزلت هذه الآية: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [البقرة: 198] ، فأرسلَ إليه رسولُ الله ﷺ وقرأَ هذه الآيةَ عليه، وقال:"لك حجٌّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
ابوامامہ تیمی بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ کے راستے میں سواریاں کرائے پر دیا کرتا تھا، تو بعض لوگوں نے مجھ سے کہا کہ (تجارت کرنے کی وجہ سے) تمہارا حج نہیں ہوتا، پھر میری ملاقات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو میں نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمن! میں اس راستے میں سواریاں کرائے پر دیتا ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ میرا حج قبول نہیں ہوتا، انہوں نے پوچھا: کیا تم احرام نہیں باندھتے، لبیک نہیں کہتے، طواف نہیں کرتے، عرفات سے واپسی نہیں کرتے اور جمرات کو کنکریاں نہیں مارتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں (میں یہ سب کرتا ہوں)۔ انہوں نے فرمایا: تو پھر یقیناً تمہارا حج ہو گیا؛ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے ویسا ہی سوال کیا جیسا تم نے مجھ سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل (تجارت کے ذریعے) تلاش کرو۔ [سورة البقرة: 198] ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا بھیجا اور اسے یہ آیت سنا کر فرمایا: تمہارا حج ہو گیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1665]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أبو أمامة التيمي وثقه ابن معين، وقال أبو زرعة" لا بأس به، وروى عنه شعبة. أبو بكر بن إسحاق: هو أحمد وأبو المثنى هو معاذ بن المثنى العنبري.» [ترقيم الرساله 1665] [ترقيم الشركة 1653]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1666
حدثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا ابن أبي ذئب، عن عطاء بن أبي رباح، عن عُبيد بن عُمَير، عن ابن عباس: أنَّ الناس في أول الحج كانوا يَتَبَايعون بمِنًى وعرفةَ وسوقِ ذي المَجَاز ومواسمِ الحجِّ، فخافوا البيعَ وهم حُرُم، فأنزل الله ﵎: (لا جُناحَ عليكم (1) أن تَبتَغُوا فَضْلًا من ربكُم) في مواسمِ الحجِّ، قال (2) : فحدثني عُبيد بن عُمير أنه كان يقرؤُها في المصحف (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حج کے ابتدائی زمانے میں لوگ منیٰ، عرفہ، ذوالجاز کے بازاروں اور حج کے دیگر موسموں میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے، پھر وہ احرام کی حالت میں تجارت کرنے سے ڈرنے لگے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ یعنی حج کے موسموں میں (تجارت کرنا گناہ نہیں)، عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ وہ اپنے مصحف میں اسے اسی طرح (وضاحتی الفاظ کے ساتھ) پڑھا کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1666]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، رجاله ثقات. إبراهيم بن الحسين: هو ابن ديزيل، وابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة، وعبيد بن عمير: هو ابن قتادة الليثي على الصحيح، كما سيأتي تفصيله تاليًا إن شاء الله.» [ترقيم الرساله 1666] [ترقيم الشركة 1654]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1667
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا أحمد بن إسحاق الحضرمي، حدثنا وُهَيب، حدثنا موسى بن عُقبة، حدثني نافعٌ وسالم: أن ابن عمر كان إذا مَرَّ بذِي الحُلَيفة بات بها حتى يُصبحَ، ويخبرُ أنَّ رسول الله ﷺ كان يفعلُ ذلك (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا.
نافع اور سالم سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ سے گزرتے تو وہاں رات کو قیام فرماتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی، اور وہ یہ بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی یہی تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس طرح اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1667]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وهيب: هو ابن خالد، ونافع: هو مولى ابن عمر، وسالم: هو ابن عبد الله بن عمر.» [ترقيم الرساله 1667] [ترقيم الشركة 1655]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں