المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. التجارة والكراء فى الحج
حج کے دوران تجارت اور کرایہ داری (اجرت پر کام) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1666
حدثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا ابن أبي ذئب، عن عطاء بن أبي رباح، عن عُبيد بن عُمَير، عن ابن عباس: أنَّ الناس في أول الحج كانوا يَتَبَايعون بمِنًى وعرفةَ وسوقِ ذي المَجَاز ومواسمِ الحجِّ، فخافوا البيعَ وهم حُرُم، فأنزل الله ﵎: (لا جُناحَ عليكم (1) أن تَبتَغُوا فَضْلًا من ربكُم) في مواسمِ الحجِّ، قال (2) : فحدثني عُبيد بن عُمير أنه كان يقرؤُها في المصحف (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پہلے پہل حج کے موسم میں لوگ منٰی، عرفہ اور ذی المجاز بازار میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ لیکن پھر حالت احرام میں خرید و فروخت کرنے سے ان لوگوں کو خوف آیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:” لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّکُم “ (البقرۃ: 198) ” تم پر کچھ گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ “ (کنزالایمان) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عبید ابن عمیر نے ہمیں یہ بتایا کہ وہ اس آیت کو قرآن سے پڑھتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1666]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1666 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا الرواية هنا في نسخنا الخطية، وكذا في نسخ كتاب "المصاحف" لابن أبي داود (192)، والمطبوع من كتاب "الانتصار" 1/ 351 للباقلاني، و"جامع الأصول" لابن الأثير (498)، و "البرهان" 1/ 337 للزركشي، وبعض النسخ الخطية ل "فتح الباري" 5/ 658 لابن حجر، إحداها مقابلة على نسخة بخط الحافظ ابن حجر. ووقع لفظ الآية في الموضعين الآتيين في "المستدرك" (1791) و (3132)، ومطبوعات مصادر التخريج على الصواب كالتلاوة "ليس عليكم جناح"، ويغلب على ظننا أن قراءة "لا جناح عليكم "خطأ من أحد الرواة، وليست هي قراءة ابن عباس، والله تعالى أعلم.
⚠️ سندی اختلاف: ہمارے قلمی نسخوں اور ابن ابی داود کی "المصاحف" وغیرہ میں یہ لفظ اسی طرح ہے، لیکن دیگر مقامات پر تلاوت کے مطابق "ليس عليكم جناح" ہے؛ غالب گمان یہ ہے کہ "لا جناح عليكم" کسی راوی کی غلطی ہے، ابن عباس ؓ کی (الگ) قرأت نہیں ہے۔
(2) القائل: هو عطاء بن أبي رباح.
👤 راوی پر جرح: یہ قول عطا بن ابی رباح کا ہے۔
(3) إسناده صحيح، رجاله ثقات. إبراهيم بن الحسين: هو ابن ديزيل، وابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة، وعبيد بن عمير: هو ابن قتادة الليثي على الصحيح، كما سيأتي تفصيله تاليًا إن شاء الله.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے اور تمام راوی ثقہ ہیں۔ 👤 راوی پر جرح: عبید بن عمیر سے مراد عبید بن عمیر اللیثی ہیں جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی۔
وسيأتي الحديث برقم (1791) من طريق أبي بكر الحنفي، وبرقم (3132) من طريق حماد بن مسعدة، كلاهما عن ابن أبي ذئب، بهذا الإسناد. ويأتي تخريجه من هاتين الطريقين في موضعهما.
📝 توضیح: یہ حدیث آگے رقم (1791) اور (3132) پر ابن ابی ذئب کے دیگر شاگردوں کے طریق سے آئے گی۔
وأخرجه أبو داود (1735) عن أحمد بن صالح المصري، عن ابن أبي فديك - وهو محمد بن إسماعيل بن مسلم - عن عبيد بن عمير، عن عبد الله بن عباس، فذكره. لم يذكر في الإسناد عطاء بن أبي رباح، لذلك جاء فيه: قال أحمد بن صالح كلامًا معناه: أنه مولى ابن عباس.
⚠️ سندی اختلاف: ابو داود (1735) کی روایت میں عطا بن ابی رباح کا ذکر ساقط ہے، اسی لیے احمد بن صالح نے انہیں "ابن عباس کا مولیٰ" قرار دیا۔
قلنا: كذا قال أحمد بن صالح بأنَّ عُبيد بن عمير هذا هو مولى ابن عباس، واعتمد على قوله هذا كلٌّ من ابن أبي داود في "المصاحف" (193)، والخطيب البغدادي في "المتفق والمفترق" 3/ 1585، ورجحه المزي في "تهذيب الكمال" 19 / (227)، ويؤكِّد ظنهم هذا أنه قد وقع في آخر الخبر عند ابن أبي داود في "المصاحف": قال ابن أبي ذئب: فحدثني عبيد بن عمير؛ يعني أنَّ ابن أبي ذئب صرح بتحديث عبيد بن عمير له، وابن أبي ذئب لم يدرك عبيد بن عمير الليثي، فيتعين أن يكون عبيد بن عمير هذا هو غير الليثي، لذلك قال أحمد بن صالح: هو مولى ابن عباس. قلنا: وهو وهمٌ منهم ﵏، مبني على خطأ صريح في رواية ابن أبي فديك من ¤ ¤ سقوط ذكر عطاء بن أبي رباح من إسناد روايته، وقد خالف ابن أبي فديك ثلاثة من حفاظ أصحاب ابن أبي ذئب، وهم آدم بن أبي إياس كما في رواية "المستدرك" هذه، وأبو بكر الحنفي و حماد بن مسعدة وستأتي روايتاهما في "المستدرك" أيضًا كما سبق، فذكروا جميعهم عطاء بن أبي رباح، بل جاء في آخر الخبر في رواية آدم هذه ورواية حماد بن مسعدة الآتية ما نصه: قال: فحدثني عبيد بن عمير، دون تقييد القائل، فقال مغلطاي في "إكمال تهذيب الكمال" 9/ 98: هذا كالتصريح بأنَّ قائل ذلك هو عطاء بغير شك ولا مرية. قلنا: وبهذا يتبين أن المحفوظ في حديث ابن أبي ذئب أنه عن عطاء بن أبي رباح بن عبيد بن عمير الليثي، قال ابن عساكر في "الأطراف" كما في "تحفة الأشراف" للمزي 5 / (5872): فأما عبيد بن عمير مولي ابن عباس فغير مشهور. قلنا: بل لم يرد له ذكر في غير هذا الخبر على التوهُّم، ولم يذكر ابن سعد في "الطبقات" 7/ 28، ولا ابن أبي خيثمة في "تاريخه الكبير" في السفر الثالث منه (2419) ولا غيرهما في أولاد عمير مولي ابن عباس غير عبد الله بن عمير الذي خرَّج له مسلم وابن ماجه، فلا ندري ما هو مستند أحمد بن صالح المصري فيما قاله، وتبعه عليه غيره؟ والله تعالى أعلم بالصواب.
🔍 علّت / فنی نکتہ: احمد بن صالح وغیرہ کا یہ سمجھنا کہ یہ "مولیٰ ابن عباس" ہیں، ایک وہم ہے جو ابن ابی فدیک کی روایت میں عطا بن ابی رباح کا نام گر جانے کی وجہ سے پیدا ہوا۔ ابن ابی ذئب کے تین جلیل القدر شاگردوں (آدم، ابو بکر الحنفی، حماد) نے عطا کا ذکر کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: محققین کے نزدیک درست یہ ہے کہ یہ "عبید بن عمیر اللیثی" ہیں، جبکہ مولیٰ ابن عباس کا ذکر محض ایک وہم ہے۔
تنبيه: لم نتنبه لهذه النكتة في تخريجنا لـ "سنن أبي داود" فضعفنا الإسناد هناك على أن عبيد بن عمير هو مولى ابن عباس المجهول، فيستدرك من هنا.
📝 توضیح: ہم نے "سنن ابی داود" کی تخریج میں اس نکتے پر غور نہیں کیا تھا اور وہاں اسے ضعیف کہا تھا، اب یہاں اس کی تصحیح کر لی جائے۔
وقد روي معنى هذا الحديث من وجهين آخرين عن ابن عباس، فقد أخرج البخاري (1770) و (2050) و (2098) و (4519)، وابن حبان (3894) من طريق عمرو بن دينار عن ابن عباس قال: كان ذو المجاز وعكاظ متجر الناس في الجاهلية، فلما جاء الإسلام كأنهم كرهوا ذلك، حتى نزلت: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ في مواسم الحج.
🧩 متابعات و شواہد: امام بخاری (1770 وغیرہ) نے روایت کیا کہ ذو المجاز اور عکاظ جاہلیت کی منڈیاں تھیں، اسلام میں صحابہ وہاں تجارت سے ہچکچائے تو آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ (تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل یعنی تجارت تلاش کرو)۔
وأخرج أبو داود (1731) من طريق يزيد بن أبي زياد، عن مجاهد، عن ابن عباس قال: قرأ هذه الآية: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ قال: كانوا لا يتجرون بمنًى، فأُمروا بالتجارة إذا أفاضوا من عرفات. ويزيد بن أبي زياد وهو الهاشمي ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: ابو داود (1731) کی روایت میں یزید بن ابی زیاد الہاشمی ضعیف ہے۔ اس کے مطابق منیٰ میں تجارت سے روکا گیا تھا پھر عرفات سے واپسی پر اجازت دی گئی۔
وسوق ذي المجاز، بفتح الميم وتخفيف الجيم، قال الأزرقي في "أخبار مكة" 1/ 191: هو سوق لهذيل عن يمين الموقف من عرفة على فرسخ منه.
📌 اہم نکتہ: "ذی المجاز" ایک بازار تھا جو عرفہ کے مقام سے ایک فرسخ (تقریباً 5 کلومیٹر) کے فاصلے پر قبیلہ ہذیل کی ملکیت تھا۔