المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. التجارة والكراء فى الحج
حج کے دوران تجارت اور کرایہ داری (اجرت پر کام) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1665
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المُثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا العلاء بن المسيَّب، حدثنا أبو أُمامة التَّيمي، قال: كنتُ رجلًا أُكْرِي في هذا الوجه، وكان أناسٌ يقولون لي: إنه ليس لك حجٌّ، فلقيتُ ابن عمر، فقلت: يا أبا عبد الرحمن، إنِّي رجلٌ أُكْرِي في هذا الوجه، وإنَّ أُناسًا يقولون لي: إنَّه ليس لك حجٌّ، فقال: ألست تُحْرمُ وتُلبِّي وتَطوفُ وتُفيضُ من عرفاتٍ وتَرمي الجِمار؟ قال: قلتُ: بلى، قال: فإنَّ لك حجًّا؛ جاء رجلٌ إلى رسول الله ﷺ فسأله عن مثلِ ما سألتَني عنه، فسكتَ عنه رسول الله ﷺ فلم يُجِبْه، حتى نزلت هذه الآية: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [البقرة: 198] ، فأرسلَ إليه رسولُ الله ﷺ وقرأَ هذه الآيةَ عليه، وقال:"لك حجٌّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
سیدنا عمامہ تیمی فرماتے ہیں: میں (حج کے موقع پر سواریاں) کرایہ پر دیتا ہوں، کئی لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تیرا حج نہیں۔ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا تو ان سے پوچھا: اے ابوعبدالرحمن! میں (حج کے موقع پر سواریاں) کرایہ پر دیتا ہوں، اور لوگ کہتے ہیں کہ تیرا حج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: کیا تم احرام نہیں باندھتے اور تلبیہ نہیں کہتے، طواف نہیں کرتے ہو، عرفات سے کوچ نہیں کرتے اور شیطانوں کو کنکر نہیں مارتے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو تیرا حج (قبول) ہے۔ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا تھا اور اس نے تیری ہی طرح سوال کیا تھا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تھے اور اس کو کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی:” لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّکُم “ (البقرۃ: 198) ” تم پر کچھ گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ “ (کنزالایمان) تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ایک آدمی بھیجا: اس نے یہ آیت پڑھ کر اس کو سنائی اور کہا: تیرا حج قبول ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1665]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1665 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، أبو أمامة التيمي وثقه ابن معين، وقال أبو زرعة" لا بأس به، وروى عنه شعبة. أبو بكر بن إسحاق: هو أحمد وأبو المثنى هو معاذ بن المثنى العنبري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابو امامہ التیمی کی ابن معین نے توثیق کی اور ابوزرعہ نے "لا بأس به" (کوئی حرج نہیں) کہا۔ شعبہ نے ان سے روایت کی ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابوبکر بن اسحاق سے مراد احمد ہیں اور ابو المثنیٰ سے مراد معاذ بن المثنیٰ العنبري ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1733) عن مسدد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1733) نے مسدد کی سند سے اسی واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 10/ (6435) من طريق سفيان الثوري، عن العلاء بن المسيب به، إلّا أنه لم يسم أبا أمامة، بل قال: رجل من بني تيم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 10/ (6435) نے سفیان ثوری کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر وہاں ابو امامہ کا نام لینے کے بجائے "بنو تیم کا ایک شخص" کہا گیا ہے۔
وأخرجه أحمد (6434) من طريق الحسن بن عمرو الفقيمي، عن أبي أمامة التيمي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (6434) نے الحسن بن عمرو الفقیمی کے طریق سے ابو امامہ التیمی کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
قوله: أُكْرِي، أي: أؤاجر الإبل ونحوها للحج.
📌 اہم نکتہ: "أُكْرِي" کا مطلب ہے: میں حج کے لیے اونٹ وغیرہ کرائے پر دیتا ہوں۔