المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. حِلَّةُ لَحْمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ مَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَادَ لَهُ
محرم کے لیے شکار کے گوشت کا حلال ہونا، بشرطیکہ اس نے خود شکار نہ کیا ہو اور نہ اس کے لیے شکار کیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 1677
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا الحسين بن الحسن المُهاجري، حدثنا هارون بن سعيد الأَيْلي، حدثنا ابن وَهْب، أخبرني يعقوب بن عبد الرحمن الزُّهري ويحيى بن عبد الله بن سالم، أن عَمْرًا مولى المُطَّلب أخبرهما عن المُطَّلب بن عبد الله بن حَنْطب، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"لَحمُ صَيدِ البَرِّ لكم حلالٌ، وأنتم حُرُم ما لم تَصِيدُوه أو يُصاد (1) لكم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: حالت احرام میں تمہارے لیے خشکی کے جانور کا گوشت حلال ہے، جب تک کہ اس کا شکار تم نے بذاتِ خود نہ کیا ہو یا کسی دوسرے نے تمہارے لیے اس کا شکار نہ کیا ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1677]
حدیث نمبر: 1678
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن محمد، حدثنا إسحاق بن عيسى بن الطَّباع، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن قيس بن سعد، عن عطاء، عن ابن عباسٍ أنه قال: يا زيدُ بنَ أرقمَ، هل عَلِمتَ أنَّ رسول الله ﷺ أُهدِيَ له بَيضاتُ نعامٍ وهو حرامٌ فردَّهُنَّ؟ قال: نعم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عطا فرماتے ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت احرام میں شتر مرغ کے انڈے ہدیہ کے طور پر پیش کیے گئے تھے لیکن آپ نے وہ واپس کر دیے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1678]
حدیث نمبر: 1679
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا ابن جُرَيج، أخبرني عبد الله بن عُبيد بن عُمَير، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن أبي عمّارٍ قال: لقيتُ جابرَ بنَ عبد الله فسألتُه عن الضَّبُع، أنأكلُها؟ فقال: نعم، قلتُ: أصيدٌ هي؟ قال: نعم، قلت: أسمعتَه من رسولِ الله ﷺ؟ قال: نعم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد لخّصَه جَرِير بن حازم عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد لخّصَه جَرِير بن حازم عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير:
سیدنا عبدالرحمن بن عبداللہ بن ابی عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میری ملاقات سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا: کیا ہم ” بجو “ کھا سکتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1679]
حدیث نمبر: 1680
أخبرَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا وكيع، عن جَرِير بن حازم، عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير، عن عبد الرحمن بن أبي عمَّار، عن جابر بن عبد الله قال: جَعَلَ رسولُ الله ﷺ في الضَّبُع يُصيبُه المُحرِمُ كَبْشًا نجديًّا، وجَعَلَه من الصَّيد (2) .
سیدنا عبدالرحمن بن ابی عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے جابر سے کہا: کیا ” بجو “ کھایا جاتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا یہ شکار ہے؟ (انہوں نے کہا: جی ہاں۔) میں نے پوچھا: کیا تم نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ جریر بن حازم نے عبداللہ بن عبید بن عمیر سے انہوں نے عبدالرحمن بن ابی عمار کے واسطے سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ اگر بجو کو محرم شکار کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نجدی مینڈھا لازم کیا ہے اور اس کو شکار قرار دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1680]
حدیث نمبر: 1681
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن الجَرَّاح بمَرْو، حدثنا يحيى بن ساسَوَيْهِ، حدثنا محمد بن أبي يعقوب، حدثنا حسان بن إبراهيم، حدثنا إبراهيم الصائغ، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسولُ الله ﷺ:"الضَّبُعَ صَيدٌ، فإذا أصابه المُحرِمُ ففيه جزاءٌ؛ كَبْشٌ مُسِنٌّ، ويُؤكَل" (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وإبراهيم بن ميمون الصائغ زاهدٌ عالمٌ، أدرك الشهادة ﵁.
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وإبراهيم بن ميمون الصائغ زاهدٌ عالمٌ، أدرك الشهادة ﵁.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بجو شکار ہے، اگر کوئی اس کا شکار کرے تو اس کی سزا ایک دو سالہ مینڈھا ہے اور اس کا گوشت کھایا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور ابراہیم بن میمونہ صائغ عبادت گزار تھے، عالم تھے اور انہوں نے شہادت پائی۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1681]