🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. مَنْ أَتَى عَرَفَاتٍ وَلَمْ يُدْرِكِ الْإِمَامَ
جو عرفات آ جائے لیکن امام کو نہ پا سکے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1718
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا رَوْحُ بن عُبادة، حدثنا شُعبة. وأخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن الحسن بن عبَّاد، حدثنا عفّان بن مسلِم، حدثنا شعبة قال: سمعتُ عبد الله بن أبي السَّفَر يقول: سمعتُ الشَّعبيَّ يحدِّث عن عُرْوةَ بن مُضَرِّس بن أوس بن حارثةَ بن لام قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ وهو بجَمْعٍ، فقلت: هل لي من حَجٍّ؟ فقال:"من صلَّى معنا هذه الصلاةَ في هذا المكان، ثم وَقَفَ معنا هذا الموقفَ حتى يُفِيضَ الإمام، [وأفاض] (1) قبلَ ذلك من عَرَفاتٍ ليلًا أو نهارًا، فقد تمَّ حَجُّه وقَضَى تَفَثَه" (2) .
سیدنا عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس وقت آپ مزدلفہ میں تھے۔ میں نے پوچھا: کیا میرا حج ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ہمارے ساتھ اس مقام پر یہ نماز ادا کر لی اور پھر ہمارے ساتھ یہیں پر امام کے نکلنے تک ٹھہرا رہا اور اس سے پہلے وہ دن یا رات میں عرفات سے ہو آئے تو اس نے اپنا حج مکمل کر لیا اور اس نے اپنی میل کچیل کو دور کر لیا۔ (یعنی اس نے مناسک حج مکمل کر لیے اب وہ بال وغیرہ کٹوا سکتا ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1718]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1719
وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق البَصْري بمصر، حدثنا وَهْب بن جَرير، عن شعبة، عن إسماعيل بن أبي خالد. وأخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد المعدِّل بمَرْو - واللفظ له - أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعبي، عن عُرْوة بن مُضَرِّس الطائي قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ وهو واقفٌ بجَمْع، فقلت: يا رسول الله، جئتُك من جَبَلَي طيِّئ، وقد أكلَلْتُ مَطِيَّتي وأتعبتُ نفسي، واللهِ ما تركتُ من حَبْلٍ (1) إِلَّا وقفتُ عليه، فهل لي من حجٍّ؟ فقال رسولُ الله ﷺ:"مَن أدرَكَ معنا هذه الصلاةَ وقد أتى عَرَفاتٍ قبلَ ذلك ليلًا أو نهارًا، فقد قَضَى تَفَثَه وحَجَّه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط كافَّة أئمة الحديث، وهي قاعدة من قواعد الإسلام، وقد أمسك عن إخراجه الشيخان محمدُ بنُ إسماعيل ومسلم بن الحجّاج ﵄، على أصلهما أنَّ عُرْوة بن مُضرِّس لم يحدِّث عنه غيرُ عامرٍ الشَّعبي (3) ، وقد وجدنا عُروةَ بن الزُّبير بن العوَّام حدَّث عنه:
سیدنا عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اس وقت آپ مزدلفہ میں تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جبل طے سے آیا ہوں۔ میں خود بھی تھک چکا ہوں اور میرا اونٹ بھی تھک چکا ہے۔ خدا کی قسم! میں نے ہر پہاڑ پر وقوف کیا ہے، کیا میرا حج ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ اس نماز کو پا لیا اور وہ اس سے پہلے دن یا رات میں عرفات میں آ چکا ہو۔ اس نے اپنی میل کچیل دور کر دی (یعنی اس کے مناسک پورے ہو چکے، اب وہ بال اور ناخن وغیرہ کٹوا سکتا ہے) اور اس کا حج ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث بہت سارے اَئمہ حدیث کے معیار پر صحیح ہے اور یہ اسلام کی بنیادوں میں سے ایک ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اس اصول کی وجہ سے نقل نہیں کیا کہ یہ حدیث عروہ بن مضرس سے عامر شعبی کے علاوہ اور کسی نے روایت نہیں کی۔ جبکہ ہمارے پاس یہی حدیث عروہ بن مضرس سے عروہ بن زبیر بن عوام کی روایت کردہ ہے (ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1719]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1720
حدَّثَناه عبد الصَّمد بن علي بن مُكْرَم البزَّاز ببغداد، حدثنا أبو عبد الله أحمد بن عبد الله بن أحمد بن حسان التُّسْتَري بتُسْتَر، حدثنا عبد الوهاب بن فُلَيح المكِّي، حدثنا يوسف بن خالد السَّمْتي البصري، حدثنا هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عُروة بن مُضَرِّس الطائي قال: جئتُ رسولَ الله ﷺ وهو بالمَوقِف، فقلت: يا رسول الله، أتيتُ من جَبَلَي طيِّئ، أكلَلْتُ مَطِيَّتي، وأتعبتُ نفسي، والله ما بقي من حَبْلٍ من تلك الحِبال إلَّا وقفتُ عليه، فقال:"مَن أدرَكَ معنا هذه الصلاةَ - يعني صلاةَ الغَداة - وقد أتى عَرَفةَ قبل ذلك ليلًا أو نهارًا، فقد تمَّ حجُّه وقضى تَفَثَه" (1) . وقد تابع عروةَ بن المُضرِّس في رواية هذه السُّنة من الصحابة عبدُ الرحمن بن يَعْمَرَ الدُّؤَلي:
سیدنا ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ مزدلفہ میں تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جبل طے سے آیا ہوں۔ میں خود بھی تھک چکا ہوں اور میں نے اپنے اونٹ کو بھی تھکا دیا ہے۔ خدا کی قسم! میں نے پہاڑوں میں سے ہر پہاڑ پر وقوف کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز پائی یعنی فجر کی نماز اور اس سے قبل وہ دن یا رات میں عرفات میں آیا ہو تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس کی میل کچیل دور ہو گئی۔ ٭٭ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سنت بیان کرنے میں عروہ بن مضرس نے عبدالرحمن بن یعمر کی متابعت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1720]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1721
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان بن عُيينة، حدثنا سفيان بن سعيدٍ الثَّوري. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، عن سفيان، عن بُكَير بن عطاء، عن عبد الرحمن بن يَعمَر قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ بعَرَفةَ، وأتاه ناسٌ من أهل نجدٍ وهو بعَرفةَ، فسألوه، فأمَرَ مناديًا فنادى:"الحجُّ عَرَفةُ، الحجُّ عَرَفةُ، ومن جاء ليلةَ جَمْعٍ قبل طلوع الفجر فقد أدرَكَ، أيامُ مِنى ثلاثةٌ، من تعجَّل في يومينِ فلا إثمَ عليه، ومن تأخَّر فلا إثمَ عليه"، وأردَفَ رجلًا فنادى (2) .
سیدنا عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرفات میں آیا، آپ ابھی عرفات میں ہی تھے کہ نجد کے کچھ لوگ آپ کے پاس حاضر ہوئے، انہوں نے آپ سے یہی مسئلہ دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم دیا کہ منادی کر دے کہ حج عرفہ ہے اور جو شخص طلوع فجر سے پہلے پہلے مزدلفہ میں آ جائے، اس نے حج کو پا لیا، منٰی کے تین دن ہیں، جو جلدی کر کے دو دن میں چلا جائے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو تین دن سے زیادہ لگائے اس پر گناہ نہیں ہے اس شخص نے ایک آدمی کو اپنے پیچھے بٹھایا اور یہ منادی کر دی۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1721]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں