المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
47. الْإِفَاضَةُ مِنْ عَرَفَةَ بِالسَّكِينَةِ
عرفات سے وقار اور سکون کے ساتھ روانہ ہونے کا حکم۔
حدیث نمبر: 1727
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامِري، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن الحَكَم، عن مِقْسَم، عن ابن عباس، عن أسامة: أنَّ النبيَّ ﷺ أردَفَه حين أفاضَ من عَرفةَ، فأفاض بالسَّكِينة، وقال:"أيُّها الناسُ، عليكم بالسَّكِينة" وقال:"ليس البِرُّ بإيجافِ الخيلِ والإبل"، فما رأيتُ ناقتَه رافعةً يدَها حتى أتَى مِنى (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ سے واپس لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی سواری پر پیچھے بٹھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سکون اور وقار کے ساتھ چلے اور فرمایا: ”اے لوگو! سکون و وقار کو لازم پکڑو“، اور فرمایا: ”گھوڑوں اور اونٹوں کو دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے“، راوی کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو (تیزی کی وجہ سے) پاؤں اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ منیٰ پہنچ گئے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1727]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1727]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل معاوية بن هشام، وقد توبع. سفيان: هو الثوري، والأعمش: هو سليمان بن مهران، والحكم: هو ابن عتيبة، ومقسم: هو مولى ابن عباس.» [ترقيم الرساله 1727] [ترقيم الشركة 1715]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1728
أخبرنا أبو عبد الله محمد بنُ عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو النُّعمان محمد بن الفضل، حدثنا حمّاد بن زيد، عن كَثِير بن شِنْظِير، عن عطاء، عن ابن عباس قال: إنَّما كان بَدْءُ الإيضاع من أهل البادية؛ كانوا يَقِفُون حافَتَي الناسِ قد علَّقوا (1) القِعابَ والعِصِيَّ، فإذا أفاضُوا تَقَعقَعوا، فَأَنفَرَتْ بالناس، فلقد رأيتُ رسول الله ﷺ وإن ذِفْرَى (2) ناقتِه لَيَمَسُّ حارِكَها (3) ، وهو يقول:"يا أيُّها الناسُ، عليكم بالسَّكِينة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (واپسی پر) تیزی سے دوڑنے کی ابتدا دیہاتیوں سے ہوئی تھی؛ وہ لوگوں کے دونوں کناروں پر کھڑے ہو جاتے، پیالے اور لاٹھیاں لٹکائے ہوتے اور جب واپسی شروع ہوتی تو وہ انہیں بجاتے جس سے لوگ بھڑک اٹھتے تھے، پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ (تیزی سے روکنے کے لیے) آپ کی اونٹنی کی گردن کا پچھلا حصہ آپ کے کجاوے کے اگلے حصے کو چھو رہا تھا اور آپ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! سکون و وقار کو لازم پکڑو۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1728]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1728]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، كثير بن شنظير فيه كلام يحطه عن رتبة الصحيح، وباقي رجاله ثقات.» [ترقيم الرساله 1728] [ترقيم الشركة 1716]
الحكم على الحديث: إسناده حسن