🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

62. خُطْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
نبی ﷺ کا حجۃ الوداع میں خطبہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1759
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حدثنا أبو بكر يحيى (1) بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثنا معاوية بن صالح، حدثني سُلَيم بن عامر، سمعت أبا أُمامةَ يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقولُ وهو يَخطُبُ الناسَ على ناقته الجَدْعاء في حَجَّة الوداع، يقول:"يا أيها الناس، أَطيعوا ربَّكم، وصلُّوا خَمْسَكم، وأدُّوا زكاةَ أموالِكم، وصومُوا شهرَكم، وأَطيعُوا ذا أمرِكم؛ تَدخُلوا جنةَ ربِّكم". قلتُ لأبي أُمامة: منذُ كم سمعتَ هذا الحديث؟ قال: سمعتُه وأنا ابنُ ثلاثين سنة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جدعاء اونٹنی پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اے لوگو! اپنے رب کی اطاعت کرو، نماز پنجگانہ ادا کرو، اپنے اموال کی زکوۃ ادا کرو اور ماہِ رمضان کے روزے رکھو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو تو تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو گے (سلیم بن عامر فرماتے ہیں) میں نے ابوامامہ سے پوچھا: آپ نے یہ حدیث کب سے سن رکھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے یہ حدیث اس وقت سے سن رکھی ہے جب میری عمر تیس برس تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1759]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1760
أخبرنا أبو الحسن علي بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا أحمد بن النَّضْر بن عبد الوهاب، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، عن محمد بن إسحاق، حدثنا ابن أبي نَجِيح، عن مجاهدٍ وعطاءٍ، عن جابر بن عبد الله قال: كَثُرَت القالةُ من الناس، فخرجنا حُجّاجًا، حتى إذا لم يكن بيننا وبين أن نَحِلَّ إلَّا ليالي (3) قلائلُ أُمِرْنا بالإحلال، فيَرُوحُ أحدُنا إلى عَرَفَة وفَرْجُه يَقطُرُ مَنيًّا، فبلغ ذلك رسولَ الله ﷺ، فقام خطيبًا فقال:"أبالله تُعَلِّموني أيها الناسُ، فأنا واللهِ أعلَمُكُم بالله وأتقاكم له، ولو استقبلتُ من أَمري ما استَدبرتُ ما سُقْتُ هَدْيًا، ولَحَلَلتُ كما أحَلُّوا، فمَن لم يكن معه هديٌ فليصمْ ثلاثةَ أيامٍ وسبعةً إذا رَجَعَ إلى أهله، ومن وَجَدَ هديًا فليَنْحَر"، فكنا ننحرُ الجَزُورَ عن سبعة (4) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگوں میں چہ میگوئیاں زیادہ ہو گئیں کیونکہ ہم حج کرنے کے لیے نکلے تھے تقریباً تمام مناسک حج ادا کر لیے تھے اور احرام کھولنے میں ابھی چند دن باقی تھے۔ لیکن اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے دیا، (ایک صحابی نے کہا) ہم میں سے کوئی شخص عرفہ کی طرف اس حال میں روانہ ہو گا کہ اس کے آلہ تناسل سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں (دراصل وہ لوگ حج کے ایام میں عمرہ ناجائز سمجھتے تھے اور یہ بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ابھی تو ہم بیویوں سے جماع کر کے آئیں ہیں گویا کہ ابھی تو جماع کے اثرات باقی ہیں اور ان کے ذکر سے قطرے ٹپک رہے ہیں)۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! تم مجھے اللہ کے بارے علم سکھاتے ہو؟ خدا کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جانتا ہوں اور تم سب سے زیادہ ڈرتا ہوں اور جو معاملہ تمہارے ساتھ پیش آیا ہے اگر اس بات کے متعلق پہلے ہی حکم نازل ہو گیا ہوتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور میں احرام کھول دیتا جیسا کہ ان لوگوں نے کھولا، اس لیے جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو، اس کو چاہیے کہ تین روزے وہیں پر اور سات روزے اپنے گھر والوں کے پاس جب لوٹے تب رکھ لے اور جس کو قربانی کا جانور میسر ہو، اس کو چاہیے کہ وہ قربانی کرے۔ چنانچہ ہم نے ایک اونٹ سات افراد کی جانب سے قربان کیا۔ عطاء فرماتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں مال غنیمت تقسیم کیا۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک بکرا آیا جو انہوں نے اپنی طرف سے ذبح کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا تو ربیعہ بن امیہ بن خلف کو حکم دیا تو وہ آپ کی اونٹنی کے آگے کھڑے ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: تم بلند آواز میں لوگوں سے کہو: اے لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: یہ حرمت والا شہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ یہ جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: حج اکبر کا دن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس طرح یہ مہینہ، یہ شہر اور یہ دن حرمت والا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے مال اور خون حرام کیے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا کیا اور جب عرفات میں ٹھہرے تو فرمایا: یہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور پورا میدان عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور جب آپ مزدلفہ میں ٹھہرے تو فرمایا: یہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اس حدیث میں اس کے بھی الفاظ موجود ہیں: جس کو جعفر بن محمد صادق نے اپنے والد کے واسطے سے جابر سے روایت کیا ہے اور اس میں کئی الفاظ کا اضافہ بھی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1760]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1760M
قال عطاء (1) : قال ابنُ عباس: إنَّ رسول الله ﷺ قَسَمَ يومئذٍ في أصحابه غنمًا، فأصاب سعدَ بنَ أبي وقاصٍ تَيْسٌ، فذَبَحه عن نفسه، فلمّا وقف رسولُ الله ﷺ بعَرَفةَ أَمَرَ ربيعةَ بن أُمية بن خلف فقام تحت يَدَي ناقتِه، فقال له النبيُّ ﷺ:"اصرُخْ: أيها الناس، هل تَدْرُونَ أيُّ شهرٍ هذا؟" قالوا: الشهرُ الحرام، قال:"فهل تَدرونَ أيُّ بلدٍ هذا؟" قالوا: البلد الحرام، ثم قال:"هل تَدرونَ أيُّ يومٍ هذا؟" قالوا: يومُ الحجِّ الأكبر، فقال رسول الله ﷺ:"قد حرَّم الله عليكم دِماءَكم، وأموالَكم كحُرمةِ شهرِكم هذا، وكحُرمةِ بلدِكم هذا، وكحُرمةِ يومِكم هذا"، فقضى رسولُ الله ﷺ حَجَّه، وقال حين وَقَفَ بعَرَفةَ:"هذا الموقفُ، وكلُّ عرفةَ موقفٌ"، وقال حين وقف على قُزَحَ:"هذا الموقفُ، وكلُّ المزدلفةِ موقفٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وفيه ألفاظٌ من ألفاظِ حديث جعفر بن محمد الصادق عن أبيه عن جابر، وفيه أيضًا زيادةُ ألفاظٍ كثيرة.
عطاء بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن اپنے صحابہ میں بکریاں تقسیم کیں، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک نر بکرا (تیس) آیا جسے انہوں نے اپنی طرف سے ذبح کر دیا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں ٹھہرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیعہ بن امیہ بن خلف کو حکم دیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے سامنے کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: لوگوں میں پکار کر کہو: کیا تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟ انہوں نے کہا: حرمت والا مہینہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے؟ انہوں نے کہا: حرمت والا شہر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟ انہوں نے کہا: حجِ اکبر کا دن۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے خون اور تمہارے مال (ایسے ہی) حرام کر دیے ہیں جیسے تمہارے اس مہینے کی، تمہارے اس شہر کی اور تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ یوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حج مکمل فرمایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدانِ عرفات میں ٹھہرنے کے دوران فرمایا: یہ (خاص جگہ) ٹھہرنے کی جگہ ہے اور پورا عرفہ ہی ٹھہرنے کی جگہ (موقف) ہے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ’قزح‘ (مزدلفہ کی ایک پہاڑی) پر ٹھہرے تو فرمایا: یہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور پوری مزدلفہ ہی ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں: یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے مگر شیخین نے اسے نقل نہیں کیا، اس میں جعفر بن محمد الصادق کی اپنے والد کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث جیسے الفاظ بھی ہیں اور بہت سے زائد الفاظ بھی موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1760M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1761
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن هشام بن حسان، عن أنس بن سِيرين، عن أنس بن مالكٍ أنه قال: لما رَمَى رسول الله ﷺ الجَمْرةَ ونَحَر هَدْيَه، ناوَلَ الحالقَ شِقَّهُ الأَيمنَ فحَلَقَه، ثم ناوَلَهُ الشِّقَّ الأيسَرَ فحَلَقَه، ثم ناوَلَهُ أبا طلحةَ وأَمره أن يَقْسِمَه بين الناس (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شیطان کو کنکریاں مار لیں اور اپنا قربانی کا جانور ذبح کر لیا اور حلق کروا لیا تو ابوطلحہ کو بلا کر وہ (موئے مبارک) لوگوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1761]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1762
أخبرنا أحمد بن محمد بن سَلَمة، حدثنا عثمان بن سعيدٍ الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبان بن يزيد، حدثنا يحيى بن أبي كثير، أنَّ أبا سَلَمة حدّثه، أنَّ محمد بن عبد الله بن زيد حدّثه: أنَّ أباه شَهِدَ النبيَّ ﷺ عند المَنْحَر هو ورجلٌ من الأنصار، فحَلَقَ رسولُ الله ﷺ رأسَه في ثوبِه، فأعطاه فقَسَمَ منه على رجالٍ، وقلَّم أظفارَه فأعطاه صاحبَه. قالوا: فإنه عندنا مخضوبٌ بالحِنّاء والكَتَم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا محمد بن عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان کے والد اور ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ قربان گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق کروا کر بال ایک کپڑے میں ڈال کر ان کو دے دیے اور انہوں نے وہ بال لوگوں میں تقسیم کر دیے۔ اور آپ نے اپنے ناخن تراش کر ایک صحابی کو عطا فرمائے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں: وہ بال اب بھی ہمارے پاس کتم اور مہندی سے رنگے ہوئے موجود ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1762]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1763
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذانَ، حدثنا محمد بن رافع، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ أفاضَ يومَ النَّحر، ثم رَجَعَ فصلَّى الظُّهرَ بمِنًى، قال نافع: وكان ابنُ عمر يُفيضُ يومَ النَّحر، ثم يَرجعُ فيصلِّي الظُّهرَ بمِنًى، ويَذكُر: أنَّ النبي ﷺ فَعَلَه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن طواف زیارت کیا پھر لوٹ کر آئے اور منٰی میں ظہر کی نماز پڑھی۔ نافع فرماتے ہیں، ابن عمر رضی اللہ عنہما قربانی کے دن طواف زیارت کیا کرتے تھے پھر لوٹتے اور ظہر کی نماز منٰی میں ادا کرتے اور کہا کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی عمل تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1763]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1764
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصرٍ، قال: قُرئ على عبد الله بن وهب، أخبرك ابنُ جُريج، عن عطاء، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ لم يَرْمُلُ في السَّبْع الذي أفاض فيه. وقال عطاء: لا رَمَلَ فيه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کے سات چکروں میں سے کسی میں بھی رمل نہیں کیا۔ اور عطاء فرماتے ہیں: اس میں رمل نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1764]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں