المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
62. خطبة النبى صلى الله عليه وآله وسلم فى حجة الوداع
نبی ﷺ کا حجۃ الوداع میں خطبہ۔
حدیث نمبر: 1764
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصرٍ، قال: قُرئ على عبد الله بن وهب، أخبرك ابنُ جُريج، عن عطاء، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ لم يَرْمُلُ في السَّبْع الذي أفاض فيه. وقال عطاء: لا رَمَلَ فيه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کے سات چکروں میں سے کسی میں بھی رمل نہیں کیا۔ اور عطاء فرماتے ہیں: اس میں رمل نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1764]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1764 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. عطاء: هو ابن أبي رباح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: عطا سے مراد ابن ابی رباح ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2001)، وابن ماجه (3060)، والنسائي (4156) من طرق عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2001)، ابن ماجہ (3060) اور نسائی (4156) نے عبداللہ بن وہب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
والرمل - بفتحتين -: الهرولة، قال في "النهاية": وهو أن يهزَّ منكبيه ولا يسرع.
📝 توضیح: "رمل" کا مطلب ہے ہرولہ کرنا (تیز چلنا)؛ 'النہایہ' کے مطابق اس سے مراد کندھے ہلا کر چلنا ہے، بہت زیادہ تیز دوڑنا نہیں۔