المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَبْدِي أَنَا عِنْدَ ظَنِّكَ بِي
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندے! میں تیرے گمان کے مطابق تیرے ساتھ ہوں۔
حدیث نمبر: 1849
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا محمد بن القاسم الأَسَدي، حدثنا الرَّبيع بن صَبِيح، عن الحسن، عن أنس بن مالك قال: قال رسولُ الله ﷺ:"قال الله ﷿: عبدي أنا عند ظَنِّك بي، وأنا معك إذا ذَكَرْتَني" (1) . ذِكْرُ الظن مخرَّج في"الصحيح" (2) ، وذِكْرُ الدعاء غريبٌ صحيح (3) ؛ فإنَّ محمد بن القاسم ثقة (4) ! وفي هذا الإسناد يقول صالح جَزَرة: حدثنا ابن عركان (5) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندے! تو میرے بارے میں جو گمان رکھتا ہے، میں اسی طرح ہوں اور جب تو میرا ذکر کرتا ہے تو میں تیرے ساتھ ہوتا ہوں۔ ٭٭ ظن کے الفاظ صحیح ہیں، منقول ہیں اور دعا کا ذکر غریب صحیح ہے کیونکہ محمد بن قاسم ثقہ راوی ہیں۔ اور اس اسناد میں صالح جزرہ نامی راوی موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1849]
حدیث نمبر: 1850
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا، حدثنا محمد بن يزيد الرِّفاعي، حدثنا وكيع، حدثنا عبيد الله بن عبد الرحمن بن مَوْهَب، عن عمه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ما مِن عبدٍ يَنصِبُ وجهَه إلى الله ﷿ في مسألةٍ إلَّا أعطاه اللهُ إياها، إمّا أن يُعجِّلَها وإما أن يدَّخِرَها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بھی بندہ جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں متوجہ ہو کر سوال کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ضرور عطا کرتا ہے۔ یا تو دنیا میں ہی دے دیتا ہے یا (آخرت کے لیے) اس کو ذخیرہ کر لیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1850]