🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. قال الله عز وجل : عبدي أنا عند ظنك بي
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندے! میں تیرے گمان کے مطابق تیرے ساتھ ہوں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1850
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا، حدثنا محمد بن يزيد الرِّفاعي، حدثنا وكيع، حدثنا عبيد الله بن عبد الرحمن بن مَوْهَب، عن عمه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ما مِن عبدٍ يَنصِبُ وجهَه إلى الله ﷿ في مسألةٍ إلَّا أعطاه اللهُ إياها، إمّا أن يُعجِّلَها وإما أن يدَّخِرَها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بھی بندہ جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں متوجہ ہو کر سوال کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ضرور عطا کرتا ہے۔ یا تو دنیا میں ہی دے دیتا ہے یا (آخرت کے لیے) اس کو ذخیرہ کر لیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1850]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1850 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عم عبد الله بن عبد الرحمن بن موهب، وهو عبيد الله بن عبد الله بن موهب، ومحمد بن يزيد الرفاعي ضعيف وقد توبع.
⚖️ حسن لغیرہ: یہ روایت "حسن لغیرہ" ہے، مگر یہ سند عبداللہ بن عبدالرحمن کے چچا (عبید اللہ بن عبداللہ) کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے، اور محمد بن یزید الرفاعی بھی ضعیف ہے مگر اس کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 15/ (9785) عن وكيع بن الجراح، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (15/9785) نے وکیع بن الجراح کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج الترمذي (3926 - طبعة الرسالة) من طريق يحيى بن عبيد الله بن عبد الله بن موهب، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "ما من عبد يرفع يديه حتى يبدو إبطه، يسأل الله مسألة إلّا آتاها إياه ما لم يعجل". ويحيى بن عبيد الله متروك الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: امام ترمذی (طبع الرسالہ: 3926) نے یحییٰ بن عبید اللہ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ "جو بندہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے اللہ اسے محروم نہیں کرتا بشرطیکہ وہ جلدی نہ کرے"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: یحییٰ بن عبید اللہ "متروک الحدیث" ہے۔
وأخرج الترمذي (3925) من طريق الليث بن أبي سليم، عن زياد، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "ما من رجل يدعو بدعاء إلّا استجيب له، فإما أن يعجَّل في الدنيا، وأما أن يُدَّخَر له في الآخرة، وإما أن يُكَفَّر عنه من ذنوبه بقدر ما دعا، ما لم يدع بإثم أو قطيعة رحم أو يستعجل". وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، وقد اختلف في تعيين شيخه زياد.
📖 حوالہ / مصدر: امام ترمذی (3925) نے لیث بن ابی سلیم کے طریق سے روایت کیا کہ "بندے کی ہر دعا قبول ہوتی ہے... بشرطیکہ وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: لیث بن ابی سلیم کے ضعف اور ان کے استاد زیاد کے تعین میں اختلاف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
تنبيه: هذان الحديثان مع بضعة أحاديث أخرى ليست في أصول الترمذي التي برواية الكروخي، لذلك لم ترد في طبعة الشيخ أحمد شاكر، وهي ثابتة في نسخة عندنا برواية أبي حامد التاجر وأبي ذر الترمذي عن أبي عيسى الترمذي، أثبتناها منها في طبعة مؤسسة الرسالة، وهي ثابتة أيضًا في النسخة التي اعتمدها المزِّي في "تحفة الأشراف" والتي اعتمدها المباركفوري في "تحفة الأحوذي".
📝 توضیح: یہ دو احادیث ترمذی کے ان نسخوں میں نہیں ہیں جو "روايتِ کٹروخی" سے مشہور ہیں، اسی لیے احمد شاکر کے ایڈیشن میں نہیں ملیں گی۔ البتہ ابوحامد التاجر اور ابوذر کی روایت کردہ نسخوں اور "تحفۃ الاشراف" میں یہ ثابت ہیں، جنہیں ہم نے 'مؤسسہ الرسالہ' کے ایڈیشن میں شامل کیا ہے۔
وفي الباب عن أبي سعيد الخدري سلف برقم (1837).
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں ابوسعید خدریؓ کی حدیث پیچھے نمبر (1837) پر گزر چکی ہے۔