المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
آدمی کا کوئی عمل اللہ کے عذاب سے نجات دلانے میں اللہ کے ذکر سے بڑھ کر نہیں۔
حدیث نمبر: 1846
أخبرنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا عبد الله بن سعيد بن أبي هند، عن زياد بن أبي زياد مولى ابن (1) عيّاش [عن] أبي (2) بَحْريَّة، عن أبي الدَّرداء قال: قال النبيُّ ﷺ:"ألا أُنبِّئُكم بخيرِ أعمالِكم، وأزكاها عند مَليكِكُم، وأرفعِها في درجاتِكم، وخيرٌ لكم من إعطاء الذَّهب والوَرِق، وأن تَلْقَوا عدوَّكم فتَضرِبوا أعناقَهم ويَضرِبوا أعناقَكُم؟" قالوا: وما ذاكَ يا رسول الله؟ قال:"ذِكْرُ الله ﷿". وقال معاذ بنُ جبل: ما عمل آدميٌّ من عَملٍ أنجَى له من عذاب الله من ذِكْرِ الله ﷿ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے عمل کی خبر نہ دوں؟ جو تمہارے تمام اعمال سے بہتر ہے اور تمہارے مالک کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ ہے اور سب سے زیادہ ثواب والا ہے۔ اور تمہارے لیے سونا اور چاندی خیرات کرنے اور جہاد فی سبیل اللہ سے بہتر ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون سا عمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” اللہ کا ذکر “ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آدمی کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے بڑھ کر اس کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1846]
حدیث نمبر: 1847
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى وأبو مُسلِم، قالا: حدثنا مسدَّد، حدثنا بشر بن المُفضَّل، حدثنا عُمارة بن غَزِيّة (1) ، عن صالح مولى التَّوأمة، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال أبو القاسم ﷺ:"أيُّما قومٍ جَلَسوا فأطالوا الجلوس، ثم تفرَّقوا قبل أن يَذكُروا الله، أو يصلُّوا على نبيِّه (2) ﷺ، إِلَّا كانت عليهم من الله تِرَةٌ، إن شاء عذَّبهم، وإن شاء غَفَرَ لهم" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وصالحٌ ليس بالساقط (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وصالحٌ ليس بالساقط (4) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھے ہوں اور کافی دیر اس میں بیٹھے رہیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے بغیر اُٹھ کر چلے جائیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حسرت زدہ اور شرمندہ ہوں گے۔ (آگے اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے، اگر چاہے تو ان کو عذاب دے اور چاہے تو ان کو معاف کر دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1847]
حدیث نمبر: 1848
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن ابن الهاد، عن يحيى بن سعيد، عن زُرَارة بن أَوفَى، عن عائشةَ قالت: ما كان رسولُ الله ﷺ يقوم من مجلسٍ إلَّا قال:"سُبحانَك اللهمَّ ربي وبحمدِك، لا إله إلَّا أَنتَ، أستغفرُكَ وأتوبُ إليك" فقلت له: يا رسول الله، ما أكثرَ ما تقول هؤلاء الكلمات إذا قمتَ! قال:"لا يقولُهنَّ أحدٌ حين يقوم من مَجلسِه، إِلَّا غُفِر له ما كان منه في ذلك المَجلِس" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ آپ کسی بھی مجلس سے اٹھنے سے پہلے یوں کہتے: ” سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبِّی وَبِحَمْدِکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ “ میں نے آپ سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی آپ اٹھنے لگتے ہیں تو اکثر طور پر یہی الفاظ ادا کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بھی مجلس سے اٹھنے سے قبل یہ کلمات پڑھتا ہے اس کے اس مجلس کے تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1848]