المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
38. دُعَاؤُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ
غزوۂ اُحد کے دن رسولُ اللہ ﷺ کی دعا۔
حدیث نمبر: 1889
أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا ابن أبي مَسَرَّة، حدثنا خَلّاد بن يحيى، حدثنا عبد الواحد بن أيمن المكِّي، عن عُبيد بن رِفاعةَ بن رافع الزُّرَقي، عن أبيه قال: [لمّا] كان يومُ أُحدٍ انكَفَأَ المشركون، فقال رسول الله ﷺ:"استَوُوا حتى أُثْنيَ على ربِّي"، فصاروا خلفَه صفوفًا، فقال:"اللهمَّ لك الحمدُ كلُّه، اللهمَّ لا مانعَ لما بَسَطْتَ، ولا باسطَ لما قَبضتَ، ولا هاديَ لمن أضللتَ، ولا مُضِلَّ لمن هديتَ، ولا مُنْطِيَ لما مَنعتَ، ولا مانعَ لما أَنْطيتَ، ولا مقرِّبَ لما باعدتَ، ولا مُباعِدَ لما قرَّبتَ، اللهمَّ ابسُطْ علينا من بَرَكاتِكَ ورَحمتِك وفَضلِكَ ورِزْقِكَ، اللهمَّ إنِّي أسألك النَّعيمَ يومَ القيامة، والأمنَ يومَ الخوف، اللهمَّ عائذٌ بك من شرِّ ما أعطيتَنا، وشرِّ ما مَنَعْتَنا، اللهمَّ حبِّب إلينا الإيمانَ وزيِّنْه في قلوبنا، وكَرِّه إلينا الكُفْرَ والفُسوقَ والعِصيانَ، واجعلنا من الرَّاشدين، اللهمَّ تَوفَّنا مُسلمِين، وأَحْيِنا مُسلمِين، وأَلْحِقْنا بالصالحين، غيرَ خزايا ولا مَفتونِين اللهمَّ قاتلِ الكفرةَ الذين يكذِّبون رُسُلَك، ويَصُدُّون عن سبيلك، واجعلْ عليهم رِجْزَكَ وعذابَك الحقَّ الحقَّ" (2) .
هذا حديث صحيح (1) على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح (1) على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: احد کے دن جب مشرکین واپس پلٹ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفیں درست کرو، میں اپنے رب کی توصیف و ثناء بیان کروں۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پیچھے صف بستہ ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا شروع کی:” اَللّٰھُمَّ لک الحمد کلہ، اللّٰھم لا مانع لما بسطت، ولا باسط لما قبضت، ولا ھادی لمن اضللت، ولا مُضلَّ لمن ھدَیتَ، ولا مُعطِیَ لما منعت، ولا مانع لما اعطیت، ولا مقرِّبَ لما باعدْتَّ، ولا مُباعِدَ لما قرَّبْتَ، اللّٰھمَّ ابْسُط علینا من برکاتکَ ورحمتک، وفضلک ورزقک، اللّٰھُمَّ انِّی اسألک النَّعیم یوم القیامۃ، والامن یوم الخوف، اللّٰھمَّ عائدٌ بکَ من شر ما اعطیتنا، وشر ما منعتنا، اللّٰھمَّ حَبِّبْ الینا الایمانَ، وزیِّنہُ فی قلوبِنا، وکرہ الینا الکفر والفسوق والعصیان، واجعلنا من الراشدین، اللّٰھمَّ توفَّنا مسلمیناَ، واَحیِنَا مُسلمین، واَلْحقنا بالصَّالحینَ، غَیرَ خزَایا، ولا مفتونینَ، اللّٰھمَّ قَاتِلِ الْکَفَرَۃَ الذین یکذِّبفون رُسُلَکَ، ویصُدُّونَ عن سبیلک، واجعلُ علیھم رجزَکَ وعذابَکَ الَہَ الحَق “ اے اللہ، تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ اے اللہ! تو جس کے لیے کشادگی کر دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جس کو روک لے اس کو پھیلانے والا کوئی نہیں ہے۔ اور جس کو تو بھٹکا دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔ اور جس کو تو ہدایت دے دے اس کو کوئی بھٹکانے والا نہیں ہے۔ جس سے تو روک دے اس کو کوئی دینے والا نہیں ہے اور جس کو تو دے دے، اس سے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ اور جس کو تو دور کر دے اس کو کوئی قریب کرنے والا نہیں ہے۔ اور جس کو تو قریب کر لے اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں ہے۔ اے اللہ! ہم پر اپنی برکتیں، رحمتیں، اپنا فضل اور اپنا رزق کھول دے۔ اے اللہ! میں قیامت کے دن تجھ سے نعمتوں کا اور خوف کے دن امن کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو تو نے ہمیں عطا فرمائی اور اس چیز کے شر سے جو تو نے ہم سے روکی۔ اے اللہ! ہمیں ایمان سے محبت عطا فرما۔ اور ہمارے دلوں میں ایمان کو مزین فرما: (اے اللہ!) ہمیں کفر، فسق اور گناہوں سے نفرت عطا کر۔ اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہمیں وفات دے تو اس حال میں کہ ہم مسلمان ہوں اور زندہ رکھ تو اس حال میں کہ ہم مسلمان ہوں اور ہمیں نیک لوگوں میں شمار فرما۔ ہمیں رسوا نہ کر اور ہمیں آزمائش میں نہ ڈال۔ اے اللہ! کافروں کو ہلاک فرما جو تیرے رسول کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ اے میرے معبود برحق ان پر اپنا عذاب نازل فرما۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1889]
حدیث نمبر: 1890
أخبرنا علي بن عبد الرحمن بن ماتَى الدِّهقانُ بالكوفة، حدثنا الحسين بن الحَكَم الحِبَري، حدثنا قَبِيصةُ، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن عُمارةَ بن عُمَير، عن أبي عمَّار، عن حُذيفة رَفَعه قال:"يأتي عليكم زمانٌ لا يَنجُو فيه إلَّا مَن دعا دعاءَ الغَريق" (2) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں: تم پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس میں نجات صرف اس شخص کو ملے گی جو سیدنا یونس علیہ السلام والی دعا مانگے کا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1890]