سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب
باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1711
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، بِإِسْنَادِهِ، بِهَذَا قَالَ فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ، قَالَ:" فَاجْمَعْهَا".
اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ گمشدہ بکری کے سلسلہ میں آپ نے فرمایا: ”اسے پکڑے رکھو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1711]
عمرو بن شعیب نے اپنی اسی (مذکورہ بالا) سند سے اس حدیث کو روایت کیا اور گمشدہ بکری کے بارے میں اس کے لفظ ہیں «فَاجْمَعْهَا» یعنی ”اسے اپنی بکریوں کے ساتھ ملا لو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1711]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الحدود 28 (2596)، (تحفة الأشراف:8812) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وانظر الحديث السابق (1710)
وانظر الحديث السابق (1710)
حدیث نمبر: 1712
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، بِهَذَا بِإِسْنَادِهِ، وقَالَ فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ:" لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، خُذْهَا قَطُّ"، وَكَذَا قَالَ فِيهِ أَيُّوبُ، وَ يَعْقُوبُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَخُذْهَا".
اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ”گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بکری تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی، تو اسے پکڑے رکھو“۔ اسی طرح ایوب اور یعقوب بن عطا نے عمرو بن شعیب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (مرسلاً) روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”تو تم اسے پکڑے رکھو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1712]
عمرو بن شعیب نے اسی سند سے روایت کیا اور گمشدہ بکری کے سلسلے میں کہا: ”یہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے، اسے لے لے اور بس۔“ اور اسی طرح اس روایت میں ایوب اور یعقوب بن عطاء نے عمرو بن شعیب سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے «فَخُذْهَا» ”پس تو اسے لے لے“ کا لفظ بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1712]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ قطع السارق 8 (4960)، (تحفة الأشراف:8755)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/186) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
رواه النسائي (4960 وسنده حسن) وانظر الحديثين السابقين (1710، 1711)
رواه النسائي (4960 وسنده حسن) وانظر الحديثين السابقين (1710، 1711)
حدیث نمبر: 1713
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا قَالَ فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ:" فَاجْمَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا".
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ”گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑے رکھو، یہاں تک کہ اس کا ڈھونڈھنے والا اس تک آ جائے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1713]
ابن اسحاق، عمرو بن شعیب سے، وہ (عمرو) اپنے والد سے، وہ اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ) سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کرتے ہیں تو ان کے لفظ ہیں: «فَاجْمَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيُهَا» ”اس کو اپنے مال کے ساتھ ملا لے حتیٰ کہ اس کا متلاشی آ جائے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1708)، (تحفة الأشراف:8784) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (1710)
انظر الحديث السابق (1710)
حدیث نمبر: 1714
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَجَدَ دِينَارًا فَأَتَى بِهِ فَاطِمَةَ، فَسَأَلَتْ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هُوَ رِزْقُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلَ عَلِيٌّ وَ فَاطِمَةُ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَنْشُدُ الدِّينَارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَلِيُّ أَدِّ الدِّينَارَ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ایک دینار ملا تو وہ اسے لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، انہوں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”وہ اللہ عزوجل کا دیا ہوا رزق ہے“، چنانچہ اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما نے کھایا، اس کے بعد ان کے پاس ایک عورت دینار ڈھونڈھتی ہوئی آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی! دینار ادا کر دو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1714]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ایک دینار ملا۔ وہ اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے آئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ اللہ عزوجل کا رزق ہے۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کھا لیا۔ اس کے بعد آپ کے پاس ایک عورت آئی جو ایک دینار ڈھونڈتی پھر رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی! وہ دینار ادا کر دو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1714]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:4443) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3037)
وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (1716)
مشكوة المصابيح (3037)
وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (1716)
حدیث نمبر: 1715
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ الْتَقَطَ دِينَارًا فَاشْتَرَى بِهِ دَقِيقًا فَعَرَفَهُ صَاحِبُ الدَّقِيقِ فَرَدَّ عَلَيْهِ الدِّينَارَ فَأَخَذَهُ عَلِيٌّ وَقَطَعَ مِنْهُ قِيرَاطَيْنِ فَاشْتَرَى بِهِ لَحْمًا".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں ایک دینار پڑا ملا، جس سے انہوں نے آٹا خریدا، آٹے والے نے انہیں پہچان لیا، اور دینار واپس کر دیا تو علی رضی اللہ عنہ نے اسے واپس لے لیا اور اسے بھنا کر اس میں سے دو قیراط ۱؎ کا گوشت خریدا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1715]
بلال بن یحییٰ عبسی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ: ”انہیں ایک دینار ملا، تو انہوں نے اس سے آٹا خریدا، آٹے والے نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پہچان لیا تو اس نے دینار ان کو واپس کر دیا۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ لے لیا اور اس میں سے دو قیراط کاٹ کر ان کا گوشت خریدا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:10028) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قیراط: دینار کا بیسواں حصہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (1716)
وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (1716)
حدیث نمبر: 1716
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمَعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ وَ حَسَنٌ وَ حُسَيْنٌ يَبْكِيَانِ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيهِمَا؟ قَالَتْ: الْجُوعُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَوَجَدَ دِينَارًا بِالسُّوقِ فَجَاءَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتْ: اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ فَخُذْ لَنَا دَقِيقًا فَجَاءَ الْيَهُودِيَّ فَاشْتَرَى بِهِ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنْتَ خَتَنُ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَخُذْ دِينَارَكَ وَلَكَ الدَّقِيقُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ حَتَّى جَاءَ فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتْ: اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْجَزَّارِ فَخُذْ لَنَا بِدِرْهَمٍ لَحْمًا فَذَهَبَ فَرَهَنَ الدِّينَارَ بِدِرْهَمِ لَحْمٍ فَجَاءَ بِهِ فَعَجَنَتْ وَنَصَبَتْ وَخَبَزَتْ وَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا فَجَاءَهُمْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَذْكُرُ لَكَ فَإِنْ رَأَيْتَهُ لَنَا حَلَالًا أَكَلْنَاهُ وَأَكَلْتَ مَعَنَا مِنْ شَأْنِهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ:" كُلُوا بِاسْمِ اللَّهِ"، فَأَكَلُوا، فَبَيْنَمَا هُمْ مَكَانَهُمْ إِذَا غُلَامٌ يَنْشُدُ اللَّهَ وَالْإِسْلَامَ الدِّينَارَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُعِيَ لَهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: سَقَطَ مِنِّي فِي السُّوقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَلِيُّ، اذْهَبْ إِلَى الْجَزَّارِ، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لَكَ: أَرْسِلْ إِلَيَّ بِالدِّينَارِ وَدِرْهَمُكَ عَلَيَّ"، فَأَرْسَلَ بِهِ فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ.
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے بتایا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رو رہے تھے، تو انہوں نے پوچھا: یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں؟ فاطمہ نے کہا: بھوک (سے رو رہے ہیں)، علی رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو بازار میں ایک دینار پڑا پایا، وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: فلاں یہودی کے پاس جائیے اور ہمارے لیے آٹا لے لیجئے، چنانچہ وہ یہودی کے پاس گئے اور اس سے آٹا خریدا، تو یہودی نے پوچھا: تم اس کے داماد ہو جو کہتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟ وہ بولے: ہاں، اس نے کہا: اپنا دینار رکھ لو اور آٹا لے جاؤ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آٹا لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو وہ بولیں: فلاں قصاب کے پاس جائیے اور ایک درہم کا گوشت لے آئیے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ گئے اور اس دینار کو ایک درہم کے بدلے گروی رکھ دیا اور ایک درہم کا گوشت لے آئے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آٹا گوندھا، ہانڈی چڑھائی اور روٹی پکائی، اور اپنے والد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بلا بھیجا، آپ تشریف لائے تو وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں آپ سے واقعہ بیان کرتی ہوں اگر آپ اسے ہمارے لیے حلال سمجھیں تو ہم بھی کھائیں اور ہمارے ساتھ آپ بھی کھائیں، اس کا واقعہ ایسا اور ایسا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر کھاؤ“، ابھی وہ لوگ اپنی جگہ ہی پر تھے کہ اسی دوران ایک لڑکا اللہ اور اسلام کی قسم دے کر اپنے کھوئے ہوئے دینار کے متعلق پوچھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: بازار میں مجھ سے (میرا دینار) گر گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی! قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے کہہ رہے ہیں: دینار مجھے بھیج دو، تمہارا درہم میرے ذمے ہے“، چنانچہ اس نے وہ دینار بھیج دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس (لڑکے) کو دے دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1716]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں (گھر میں) آئے تو (دیکھا کہ) حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رو رہے ہیں۔ پوچھا: ”یہ کیوں رو رہے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”بھوک کی وجہ سے رو رہے ہیں۔“ پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ (گھر سے) نکل آئے تو (اتفاق سے) بازار میں انہیں ایک دینار پڑا مل گیا، تو وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور بتایا (کہ اس طرح سے ملا ہے۔) انہوں نے کہا: ”فلاں یہودی کے پاس جائیں اور ہمارے لیے آٹا لے آئیں۔“ چنانچہ وہ یہودی کے پاس آئے اور اس سے آٹا خریدا۔ یہودی نے کہا: ”بھلا آپ اس شخص کے داماد ہیں جو اپنے آپ کو رسول اللہ کہتا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں!“ تو اس نے کہا: ”دینار اپنے پاس رکھیں اور آٹا لے جائیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس (آٹا) لے آئے اور ساری بات بتائی۔ انہوں نے کہا: ”فلاں قصاب کے پاس جائیں اور ایک درہم کا گوشت لے آئیں۔“ چنانچہ وہ گئے، اپنا دینار اس کے پاس رہن رکھا اور ایک درہم کا گوشت لے آئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آٹا گوندھا، ہنڈیا چولہے پر رکھی، روٹی پکائی اور اپنے والد صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا۔ وہ ان کے ہاں تشریف لے آئے۔ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں آپ کو بتاؤں اگر آپ اسے حلال فرمائیں تو ہم اسے کھائیں گے اور آپ بھی ہمارے ساتھ کھائیں گے اور اس کا حال اس اس طرح سے ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔“ چنانچہ سب نے کھا لیا۔ ابھی وہ اپنی جگہ (دستر خوان ہی) پر بیٹھے تھے کہ ایک لڑکا، اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر اپنا گمشدہ دینار ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اسے بلایا گیا۔ آپ نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: ”مجھ سے بازار میں (کہیں) گرا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی! اس قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اللہ کے رسول فرماتے ہیں: وہ دینار میرے ہاں بھیج دو اور تمہارا درہم میرے ذمے ہے۔“ چنانچہ اس نے دینار بھیج دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس غلام کے حوالے کر دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1716]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:4770) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وللحديث شواھد
وللحديث شواھد
حدیث نمبر: 1717
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَصَا وَالسَّوْطِ وَالْحَبْلِ وَأَشْبَاهِهِ يَلْتَقِطُهُ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ أَبِي سَلَمَةَ، بِإِسْنَادِهِ، وَرَوَاهُ شَبَابَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانُوا لَمْ يَذْكُرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لکڑی، کوڑے، رسی اور ان جیسی چیزوں کے بارے میں رخصت دی کہ اگر آدمی انہیں پڑا پائے تو اسے کام میں لائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے نعمان بن عبدالسلام نے مغیرہ ابوسلمہ سے اسی طریق سے روایت کیا ہے اور اسے شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے انہوں نے ابو الزبیر سے ابوالزبیر نے جابر سے روایت کیا ہے، راوی کہتے ہیں: لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے یعنی اسے جابر رضی اللہ عنہ پر موقوف کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1717]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چھڑی، رسی، کوڑا اور اس قسم کی چیزیں اٹھا لینے کی رخصت دی تھی کہ انسان ان سے فائدہ اُٹھا لے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اسے نعمان بن عبدالسلام نے مغیرہ (مغیرہ بن مسلم) ابوسلمہ سے اپنی سند سے روایت کیا ہے۔ اور شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے، انہوں نے ابوالزبیر سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے (کہا کہ وہ لوگ چھڑی، کوڑا وغیرہ اٹھا لینے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا۔ (موقوف بیان کیا ہے)۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:2966) (ضعیف)» (ابوالزبیر مدلس راوی ہیں اور بذریعہ «عن» روایت کئے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن شعيب سمعه من رجل عن المغيرة بن زياد به (الكامل لابن عدي 353/6)والرجل مجهول و أبو الزبير عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 68
إسناده ضعيف
محمد بن شعيب سمعه من رجل عن المغيرة بن زياد به (الكامل لابن عدي 353/6)والرجل مجهول و أبو الزبير عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 68
حدیث نمبر: 1718
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَحْسَبُهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ضَالَّةُ الْإِبِلِ الْمَكْتُومَةُ غَرَامَتُهَا وَمِثْلُهَا مَعَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گمشدہ اونٹ اگر چھپا دیا جائے تو (چھپانے والے پر) اس کا جرمانہ ہو گا، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1718]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گمشدہ اونٹ پکڑنے والا اگر چھپا لے تو اس پر جرمانہ ہے اور (مزید) اس کے ساتھ اس کا مثل بھی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1718]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:14251) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
وقع الشك في السند بين عكرمة وأبي ھريرة فالسند معلل
وعمرو بن مسلم ھو غير الجندي،واللّٰه أعلم !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 68
إسناده ضعيف
وقع الشك في السند بين عكرمة وأبي ھريرة فالسند معلل
وعمرو بن مسلم ھو غير الجندي،واللّٰه أعلم !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 68
حدیث نمبر: 1719
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ". قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَعْنِي فِي لُقَطَةِ الْحَاجِّ يَتْرُكُهَا حَتَّى يَجِدَهَا صَاحِبُهَا، قَالَ ابْنُ مَوْهَبٍ: عَنْ عَمْرٍو.
عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجی کے لقطے سے منع فرمایا۔ احمد کہتے ہیں: ابن وہب نے کہا: یعنی حاجی کے لقطے کے بارے میں کہ وہ اسے چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لے، ابن موہب نے «أخبرني عمرو» کے بجائے «عن عمرو» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1719]
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حاجیوں کی گری پڑی چیزیں اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔“ احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا کہ ابن وہب نے کہا: ”حاجی کی چیز پڑی رہنے دی جائے حتیٰ کہ اس کا مالک اسے پالے۔“ ابن موہب نے (اپنی سند میں) «عَنْ عَمْرٍو» کہا ہے ( «أَخْبَرَنِي عَمْرٌو» نہیں کہا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1719]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «م /اللقطة 1 (1724)، سنن النسائی/ الکبری/ اللقطة (5805)، (تحفة الأشراف:9705)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/499) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1724)
حدیث نمبر: 1720
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ جَرِيرٍ بِالْبَوَازِيجِ فَجَاءَ الرَّاعِي بِالْبَقَرِ وَفِيهَا بَقَرَةٌ لَيْسَتْ مِنْهَا، فَقَالَ لَهُ جَرِيرٌ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ لَا نَدْرِي لِمَنْ هِيَ، فَقَالَ جَرِيرٌ: أَخْرِجُوهَا، فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَأْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ".
منذر بن جریر کہتے ہیں میں جریر کے ساتھ بوازیج ۱؎ میں تھا کہ چرواہا گائیں لے کر آیا تو ان میں ایک گائے ایسی تھی جو ان کی گایوں میں سے نہیں تھی، جریر نے اس سے پوچھا: یہ کیسی گائے ہے؟ اس نے کہا: یہ گایوں میں آ کر مل گئی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کس کی ہے، جریر نے کہا: اسے نکالو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”گمشدہ جانور کو کوئی گم راہ ہی اپنے پاس جگہ دیتا ہے“ ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1720]
منذر بن جریر کہتے ہیں کہ ”(میں اپنے والد) جریر (جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ) کے ساتھ بوازِیج (مقام ازیج) میں تھا کہ چرواہا گائیں لے کر آیا اور ان میں ایک گائے ان کی نہیں تھی۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”بس گایوں کے ساتھ مل گئی ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ کس کی ہے۔“ تو سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اسے علیحدہ کر دو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ”گمشدہ چیز کو کوئی «ضَالٌّ» گمراہ انسان ہی لیتا ہے۔“”“ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1720]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الکبری (5799)، سنن ابن ماجہ/اللقطة 1 (2503)، (تحفة الأشراف:3233)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/360، 362) (صحیح)» (مرفوع حصہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: ”بوازيج“: (عراق میں) نہر دجلہ کے قریب ایک شہر کا نام ہے۔
۲؎: مطلب یہ ہے کہ کسی گم شدہ جانور کو اپنا بنا لینے کے لئے اس کو پکڑ لے تو وہ گمراہ ہے، رہا وہ شخص جو اسے اس لئے پکڑے تا کہ اس کی پہچان کرا کر اسے اس کے مالک کے حوالہ کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: «من آوى ضالة فهو ضال ما لم يعرفها» اور نسائی کی روایت کے الفاظ یوں ہیں: «من أخذ لقطة فهو ضال ما لم يعرفها» جو آدمی گم شدہ چیز اپنے پاس رکھے وہ گمراہ ہے جب تک کہ وہ اس کی تشہیر نہ کرے۔
۲؎: مطلب یہ ہے کہ کسی گم شدہ جانور کو اپنا بنا لینے کے لئے اس کو پکڑ لے تو وہ گمراہ ہے، رہا وہ شخص جو اسے اس لئے پکڑے تا کہ اس کی پہچان کرا کر اسے اس کے مالک کے حوالہ کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: «من آوى ضالة فهو ضال ما لم يعرفها» اور نسائی کی روایت کے الفاظ یوں ہیں: «من أخذ لقطة فهو ضال ما لم يعرفها» جو آدمی گم شدہ چیز اپنے پاس رکھے وہ گمراہ ہے جب تک کہ وہ اس کی تشہیر نہ کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح المرفوع منه
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2503)
فيه علة قادحةرواه ابن ماجه من حديث أبي حيان التيمي عن الضحاك بن المنذر خال المنذر بن جرير عن المنذر بن جرير به إلخ و الضحاك مجھول الحال،و ثقه ابن حبان وحده
و روي مسلم (1735) عن زيد بن خالد الجهني رضي اللّٰه عنه عن رسول اللّٰه ﷺ قال:((من آوي ضالة فھو ضال مالم يعرّفھا)) وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 68
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2503)
فيه علة قادحةرواه ابن ماجه من حديث أبي حيان التيمي عن الضحاك بن المنذر خال المنذر بن جرير عن المنذر بن جرير به إلخ و الضحاك مجھول الحال،و ثقه ابن حبان وحده
و روي مسلم (1735) عن زيد بن خالد الجهني رضي اللّٰه عنه عن رسول اللّٰه ﷺ قال:((من آوي ضالة فھو ضال مالم يعرّفھا)) وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 68