🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

102. دُعَاءُ دُخُولِ السُّوقِ
بازار میں داخل ہوتے وقت کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1995
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ وأبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، قالا: حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا أزهرُ بن سِنان القرشي، حدثنا محمد بن واسع، قال: قدمتُ المدينةَ فلقيتُ بها سالمَ بن عبد الله بن عمر، فحدّثَني عن أبيه، عن جدِّه عمر بن الخطاب، عن رسول الله ﷺ قال:"مَن دخل السُّوق فقال: لا إله إلَّا اللهُ وحدَه لا شَريكَ له، له المُلكُ، وله الحمدُ، يُحيي ويُميت، بيدِه الخيرُ، وهو على كل شيء قديرٌ، كَتبَ اللهُ له ألفَ ألفِ حسنةٍ، ومَحَا عنه ألفَ ألفِ سيئةٍ، ورَفَع له ألفَ ألفِ درجةٍ، وبنَى له بيتًا في الجنة" (1) قال (1) : فقَدِمتُ خُراسان، فأتيتُ قُتيبةَ بن مسلم، فقلتُ له: أتيتك بهديّة، فحدّثتُه بالحديث، فكان قُتيبة بن مسلم يَركَبُ في مَوكبِه حتى يأتيَ باب السوق، فيقولُها ثم ينصرفُ.
هذا حديث له طرق كثيرة تُجمَع ويُذاكَر بها عن أبي يحيى عمرو بن دينار قهرمان آل الزبير عن سالم، وأبو يحيى هذا ليس من شرط هذا الكتاب، فأما أزهر بن سِنان فإنه من زُهّاد البصريين من أصحاب محمد بن واسِع ومالك بن دينار. وله شاهدٌ من حديث عمر بن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر المخرَّج حديثُه في"الصحيحين"، عن سالم:
سیدنا محمد بن واسع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مدینۃ المنورہ میں آیا، وہاں میری ملاقات سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو انہوں نے اپنے والد کا یہ بیان سنایا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہی: جو شخص بازار میں داخل ہو اور یہ دعا پڑھ لے: لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ، لہ الملک، ولہ الحمد، یحیی ویمیت، بیدہ الخیر، وھو علی کل شیء قدیر اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے اور ایک لاکھ گناہ مٹا دیتا ہے۔ اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے۔ (محمد بن واسع) فرماتے ہیں: پھر میں خراسان آ گیا تو قتیبہ بن مسلم کے پاس آیا۔ ان سے میں نے کہا: میں تمہارے لیے ایک تحفہ لایا ہوں پھر میں نے ان کو یہ حدیث سنائی۔ پھر وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر بازار کے دروازے تک آتے اور یہ دعا پڑھ کر واپس چلے جاتے تھے۔ اس حدیث کے عمرو بن دینار قہرمان آل الزبیر کے سالم سے متعدد طرق ہیں اور اس کی سند میں جو ازہر بن سنان ہیں یہ بصری ہیں، زاہد ہیں۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجو دہے۔ (جو کہ درج ذیل ہے) سیدنا سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ جو شخص بازار میں جائے اور پڑھے: لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ، لہ الملک، ولہ الحمد، یحیی ویمیت، وھو حیٌّ لا یموت بیدہ الخیر، وھو علی کل شیء قدیر اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس کے ایک لاکھ گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے۔ ٭٭ عبداللہ بن وھب نے اس حدیث کو یونہی روایت کیا ہے اور اسماعیل بن عیاش نے اس کو عمر بن محمد بن زید کے واسطے سے سالم سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1995]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1996
حدَّثَناهُ أبو علي الحُسين بن علي الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا أبو همَّام بن أبي بدر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمر بن محمد بن زيد، حدثني رجل من أهل البصرة مولًى لرسول الله ﷺ، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، عن جده عمر، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن خَرَجَ إِلى السُّوق فقال: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وحدَه لا شريكَ له، له المُلْك وله الحَمْد، يُحيي ويُميت، وهو حيٌّ لا يموت، بيده الخيرُ، وهو على كلِّ شيء قديرٌ، كَتَبَ اللهُ له ألفَ ألفِ حسنة، ومَحَا عنه ألفَ ألفِ سيئة، وبنى له بيتًا في الجنة" (1) . هكذا رواه عبدُ الله بن وهب. ورواه إسماعيل بن عياش، عن عمر بن محمد بن زيد، عن سالم - وقد روى عن عمر بن محمد بن زيد عن سالم غيرَ هذا الحديث -:
اور عمر بن محمد بن زید کے واسطے سے، سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کے والد کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بازار میں جا کر یہ پڑھے: لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ، لہ الملک، ولہ الحمد، یحیی ویمیت، وھو حیٌّ لا یموت بیدہ الخیر، وھو علی کل شیء قدیر اللہ تعالیٰ اس کے نامۂ اعمال میں ایک لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس کے ایک لاکھ گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے ایک لاکھ درجے بلند کر دیتا ہے۔اور یہی حدیث ہم نے ہشام بن حسان کے واسطے سے عبداللہ بن دینار سے نقل کی ہے۔ (جو کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1996]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1997
حدَّثَناهُ أبو علي الحافظ، أخبرنا العباس بن أحمد بن حسّان السُّلمي بالبصرة، حدثنا عبد الوهاب بن الضحّاك، حدثنا إسماعيل بن عيّاش عن عمر بن محمد بن زيد، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، عن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن دخل السُّوق فقال: لا إله إلَّا الله وحدَه لا شريك له، له الملكُ وله الحمدُ، يحيي ويميت، وهو حيٌّ لا يموت، بيده الخيرُ، وهو على كلِّ شيء قديرٌ، كتبَ الله له ألفَ ألفِ حسنةٍ، وحَطَّ عنه ألفَ ألفِ سيئةٍ، ورَفعَ له ألفَ ألفِ درجةٍ" (1) . وقد كتَبناهُ من حديث هشام بن حسّان عن عبد الله بن دينار:
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بازار میں داخل ہوا اور اس نے یہ کہا: ’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، وہ خود ہمیشہ زندہ ہے اسے موت نہیں آئے گی، تمام خیر اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے‘، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے، اس کے دس لاکھ گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس لاکھ درجے بلند فرما دیتا ہے۔ ہم نے اس حدیث کو ہشام بن حسان کے واسطے سے عبداللہ بن دینار کی روایت سے بھی لکھا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1997]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1998
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أبو العباس محمد بن الحسن بن حَيدَرة البغدادي، حدثنا مسروق بن المَرزُبان، حدثنا حفص بن غِياث، عن هشام بن حسّان، عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ:"من دخل السُّوقَ فباعَ فيها واشترى، فقال: لا إله إلَّا الله وحدَه لا شريك له، له الملكُ وله الحمدُ، يُحيي ويُميتُ، وهو على كل شيء قديرٌ، كتبَ اللهُ له ألفَ ألفِ حسنةٍ، ومَحَا عنه ألفَ ألفِ سيئةٍ، وبنى له بيتًا في الجنة" (2) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين! والله أعلم. تابعه عِمران بن مُسلم عن عبد الله بن دينار:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بازار میں جائے اور وہاں خرید و فروخت کرے پھر پڑھے: لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ، لہ الملک، ولہ الحمد، یحیی ویمیت، وھو علی کل شیء قدیر اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس کے ایک لاکھ گناہ مٹا دیتا ہے۔ اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ واللہ اعلم۔ اس حدیث کو عبداللہ بن دینار سے روایت کرنے میں عمران بن مسلم نے ہشام بن حسان کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1998]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1999
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن محمد بن عبد الملك بن أبي الشَّوارِب، حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي، حدثنا يحيى بن سُليم المكّي، حدثنا عِمران بن مُسلم، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن قال في السُّوق: لا إله إلَّا الله وحدَه لا شريك له، له الملكُ وله الحمدُ، بيده الخَيرُ، وهو على كل شيء قديرٌ، كتَبَ الله له ألفَ ألفِ حسنةٍ، ومحا عنه ألفَ ألفِ سيئةٍ، وبنى له بيتًا في الجنة" (1) . وفي الباب عن جابر وأبي هريرة وبُريدة الأسلمي وأنس، وأقربُها بشرائط هذا الكتاب حديثُ بُريدة بغيرِ هذا اللفظ:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بازار میں یہ دعا پڑھے: لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ، لہ الملک، ولہ الحمد، بیدہ الخیر، وھو علی کل شیء قدیر اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں ایک لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے لیے جنت میں ایک مکان بنا دیتا ہے۔ ٭٭ اس باب میں سیدنا جابر، ابوہریرہ، بریدہ اسلمی اور انس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث مروی ہیں اور اس کتاب کی شرائط کے مطابق سب سے مضبوط حدیث سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کی ہے جبکہ اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں (ان کی مروی حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1999]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2000
أخبرَناه أبو عمرو بن السَّمّاك، حدثنا محمد بن عيسى المدائني، حدثنا شُعيب بن حرب، حدثنا جارٌ لنا يُكنى أبا عُمر، عن علقمة بن مَرثَد، عن سليمان ابن بُريدة، عن أبيه، قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا دخلَ السوقَ قال:"باسم الله، اللهمَّ إني أسألُك خيرَ هذه (1) السُّوقِ وخيرَ ما فيها، وأعوذُ بك من شَرِّها وشرِّ ما فيها، اللهمَّ إني أعوذُ بك أن أُصيبَ فيها يمينًا فاجرةً، أو صَفْقةً خاسرةً" (2) .
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں جاتے تو پڑھتے: اللھم انی اسألک خیر ھذہ السوق، وخیر مافیھا، واعوذبک من شرھا، وشر مافیھا، اللّٰھمّ انّی اعوذبک ان اصیب فیھا یمیناً فاجرۃ، او صفقۃ خاسرۃ او صفقہ خاسرۃ۔ اے اللہ میں تجھ سے اس بازار اور جو کچھ اس میں ہے، اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس بازار اور اس میں جو کچھ بھی ہے، اس سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں، اس بات سے کہ میں جھوٹی قسم کا مرتکب ہوں یا میں خسارے والا سودا کروں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 2000]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں