المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. الْمَلَائِكَةُ نَزَلَتْ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ
قرآن کے فضائل — قرآن کی تلاوت کے وقت فرشتوں کا نازل ہونا۔
حدیث نمبر: 2058
أخبرَناه أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّي، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا عفّان بن مسلم وموسى بن إسماعيل، قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت البُنَاني، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أُسَيد بن حُضَير، أنه قال: بينا أنا أقرأُ ليلةً سورةَ البقرة، فلما انتهيتُ إلى آخرها سمعتُ وَجْبةً مِن خَلْفي، فظننتُ أنَّ فرسي تَطَلَّق، فقال: اقرأْ أبا عَتِيك، فالتفتُّ، فإذا أمثالُ المصابيح مدلّاةٌ بين السماء والأرض، فقال: يا رسول الله، والله ما استطعتُ أن أمضِيَ، قال: فقال:"تلكَ الملائكةُ نزلتْ لِقراءة القرآنِ، أمَا إنك لو مَضَيتَ لرأيتَ العَجائب" (2) .
سیدنا عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ایک مرتبہ رات کے وقت سورۂ بقرہ کی تلاوت کر رہا تھا، جب میں سورۃ کے آخر تک پہنچا تو اپنے پیچھے کسی چیز کی آواز سنی تو میں یہ سمجھا کہ شاید میرا گھوڑا کھل گیا ہے۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: اے ابوعتیک تمہیں تلاوت جاری رکھنی چاہیے تھی، تو میں نے دیکھا کہ زمین اور آسمان کے درمیان شمعیں لٹک رہی تھیں۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تلاوت کو جاری رکھنے کی میری ہمت نہ تھی (اسید) فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ فرشتے تھے قرآن پاک کی قرأت سننے کے لیے نازل ہوئے تھے اگر تو تلاوت جاری رکھتا تو مزید عجائبات دیکھتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2058]