🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. الْأَمْرُ بِتَعَاهُدِ الْقُرْآنِ وَالنَّهْيُ عَنْ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ
قرآن کے فضائل — قرآن کی حفاظت کا حکم اور یہ کہنے سے ممانعت کہ میں فلاں آیت بھول گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2055
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل، حدثنا زهير بن معاوية، حدثنا شعيب بن خالد الرازي، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله، قال: قال رسول الله ﷺ:"تَعاهَدُوا هذا القرآنَ، فإنه وَحْشِيٌّ؛ أشدُّ تَفَصِّيًا من صُدور الرِّجال من الإبل من عُقُلِها، ولا يقولَنَّ أحدُكم: نَسِيتُ آيةَ كَيتَ وكَيتَ، بل هو نُسِّيَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (1) .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن پاک کی خوب دیکھ بھال کرو کیونکہ یہ وحشی اونٹ کے اپنی رسی سے بھاگنے سے بھی زیادہ سخت طریقے سے لوگوں کے سینوں سے بھاگ جاتا ہے۔ اور کوئی شخص یہ نہ کہے کہ مجھے فلاں آیت بھول گئی ہے بلکہ وہ خود آیت کو بھول گیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2055]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2056
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسد بن موسى، حدثنا الليث بن سعد، حدثني ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن أُسَيد بن حُضَير: أنه كان يقرأ وهو على ظهر بيته، وهو حَسَنُ الصوت، فجاء رسولُ الله ﷺ فقال: بَيْنا أنا أقرأُ إِذ غَشِيَني شيءٌ كالسحاب، والمرأةُ في البيت، والفرسُ في الدار، فتخوّفتُ أن تُسقِطَ المرأةُ وتَنفَلِتَ الفرسُ، فانصرفتُ، فقال له رسولُ الله ﷺ:"اقرأْ يا أُسَيدُ، فإنما هو مَلَكٌ استَمَعَ القرآنَ" (2)
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے گھر کی چھت پر قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے اور آپ کی آواز بہت خوبصورت تھی۔ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے آپ کی بارگاہ میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ابھی تلاوت کر رہا تھا کہ بادل جیسی چیز نے مجھے گھیر لیا۔ اور گھر میں عورتوں اور صحن میں گھوڑے کا بھی یہ حال تھا اور مجھے یہ خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ عورتیں گر پڑیں گی اور گھوڑا چھوٹ (کر بھاگ) جائے گا۔ اس لیے میں نے تلاوت روک دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اسید! تم تلاوت کرتے رہا کرو کیونکہ فرشتہ تمہاری تلاوت سنتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2056]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2057
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا الزُّهْري، عن ابن كعب بن مالك: أنَّ أُسيد بن حُضَير أتى النبي ﷺ، فذكر الحديث بنحوه، وقال فيه: قال رسول الله ﷺ:"اقرأْ أُسيدُ، اقرأْ أُسيدُ، فإنَّ ذلك مَلَكٌ يَستمِعُ القرآن" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ على شرط مسلم، من حديث عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أُسيد:
سیدنا ابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اسید بن حضیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے پھر اس کے بعد گزشتہ حدیث جیسی حدیث بیان کی ہے اور اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اسید پڑھو، اے اسید پڑھو کیونکہ وہ فرشتہ ہے اور تمہاری تلاوت سنتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور ایک حدیث اس کی شاہد بھی ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے اس کو عبدالرحمن بن ابی لیلی نے اسید سے روایت کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2057]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں