سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب في المواقيت
باب: میقات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1741
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُحَنَّسَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ جَدَّتِهِ حُكَيْمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ مِنْ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، أَوْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ"، شَكَّ عَبْدُ اللَّهِ أَيَّتُهُمَا قَالَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يَرْحَمُ اللَّهُ وَكِيعًا أَحْرَمَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، يَعْنِي إِلَى مَكَّةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو مسجد الاقصیٰ سے مسجد الحرام تک حج اور عمرہ کا احرام باندھے تو اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، یا اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی“، راوی عبداللہ کو شک ہے کہ انہوں نے دونوں میں سے کیا کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اللہ وکیع پر رحم فرمائے کہ انہوں نے بیت المقدس سے مکہ تک کے لیے احرام باندھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1741]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے مسجد اقصیٰ سے مسجد الحرام تک حج یا عمرے کا احرام باندھا، اس کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ یا فرمایا: اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“ عبداللہ (ابن عبدالرحمٰن بن یحنس) کو شک ہوا ہے کہ معلوم نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں سے کون سی بات کہی تھی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ وکیع رحمہ اللہ پر رحمت فرمائے، انہوں نے بیت المقدس سے مکہ کے لیے احرام باندھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1741]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المناسک 49 (3001، 3002)، (تحفة الأشراف: 18253)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/299) (ضعیف)» (اس کی راویہ حکیمہ لین الحدیث ہیں، نی زیہ حدیث تمام صحیح روایات کے مخالف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3001،3002)
حكيمة وثقها ابن حبان وحده،والحديث ضعفه البخاري وغيره وھو الراجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3001،3002)
حكيمة وثقها ابن حبان وحده،والحديث ضعفه البخاري وغيره وھو الراجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1741
| من أهل بحجة أو عمرة من المسجد الأقصى إلى المسجد الحرام غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر وجبت له الجنة |
سنن ابن ماجه |
3002
| من أهل بعمرة من بيت المقدس كانت له كفارة لما قبلها من الذنوب قالت فخرجت أي من بيت المقدس بعمرة |
سنن ابن ماجه |
3001
| من أهل بعمرة من بيت المقدس غفر له |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1741 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1741
1741. اردو حاشیہ: حضرت ام سلمہ ؓ کی روایت سنداً اور متن میں بہت اختلاف ہے۔ (منذری وغیرہ) اگر چہ کئی ایک صحابہ و تابعین سے قبل از میقات احرام باندھناثابت ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح فرمان سے کہ ”آپ نے یہ یہ منازل متعین فرمائے تھے۔ “ یہی ثابت ہے کہ ان مقامات سے احرام باندھنا ہی سنت نبویہ اور افضل عمل ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: مرعاۃ المفاتیح، حدیث نمبر:2540]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1741]
Sunan Abi Dawud Hadith 1741 in Urdu
حكيمة بنت أمية ← أم سلمة زوج النبي