🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ
جس بندے کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو، اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2233
أخبرني أبو النَّضْر محمد بن محمد الفقيه، حدثنا محمد بن غالب بن حَرْب الضبّي وصالح بن محمد بن حبيب الحافظ، قالا: حدثنا سعيد بن سليمان الواسِطي، حدثنا محمد بن عبد الرحمن بن مجبَّر، حدثنا عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عائشة: أنها كانت تَدّانُ، فقيل لها: ما لَكِ والدَّيْنَ، وليس عندك قضاءٌ؟ فقالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ما مِن عبدٍ كانت له نِيّةٌ في أداء دَيْنه، إلّا كان له مِن الله عَونٌ"، فأنا ألتَمِسُ ذلكَ العَونَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن محمد بن علي بن الحسين عن عائشة مثلُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2202 - ابن مجبر وهاه أبو زرعة وقال النسائي متروك لكن وثقه أحمد
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ قرضہ لیا کرتی تھیں، ان سے کہا گیا: تم قرضہ کیوں لیتی ہو؟ جبکہ اس کی ادائیگی کا بھی تمہارے پاس کوئی معقول بندوبست نہیں ہے۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے جو شخص قرضہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے۔ تو میں اسی مدد کی طلبگار ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور محمد بن علی بن حسین کے واسطے سے بھی ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسی ہی روایت منقول ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2233]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2234
أخبرَناه أبو بكر بنُ إسحاق، أخبرنا أبومسلم، حدثنا الحجّاج بن مِنْهال، حدثنا القاسم بن الفضل، قال: سمعتُ محمد بن علي يقولُ: كانت عائشةُ تَدَّانُ، فقيل لها: ما لَكِ والدَّيْنَ؟ قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ما من عبدٍ كانت له نِيّةٌ في أداء دينِه، إلّا كان له مِن الله عَونٌ"، فأنا ألتَمِسُ ذلكَ العَونَ (1) . وشاهده حديثُ ميمونة:
محمد بن علی فرماتے ہیں، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قرضہ لیا کرتی تھیں۔ ان سے پوچھا گیا: آپ قرضہ کیوں لیتی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، جو شخص قرض ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو گا، اس کو اللہ تعالیٰ کی مدد ملے گی۔ اور میں اسی مدد کی متلاشی ہوں۔ ٭٭ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی (درج ذیل) حدیث اس کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2234]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2235
حدَّثَناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا جَرير. وحدثنا الأستاذ أبو الوليد الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جرير، عن منصور، عن زياد بن عمرو بن هند، عن عِمران بن حذيفة، عن ميمونة: أنها كانت تَدّانُ، فتُكثِر، فقيل لها في ذلك، فقالت: لا أدَعُ الدَّين، لأنَّ له من اللهِ عونًا، فأنا ألتمِسُ ذلك العَونَ (2) .
ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، یہ قرضہ لیا کرتی تھیں اور قرضہ بہت زیادہ ہو جاتا۔ ان سے اس بارے میں پوچھا گیا (کہ آپ اس قدر زیادہ قرضہ کیوں لیتی ہیں) تو انہوں نے جواباً کہا: میں قرضہ لینا نہیں چھوڑوں گی کیونکہ مقروض کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد ہے اور میں وہی مدد چاہتی ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2235]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں