المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. إِنَّ إِبْلِيسَ يَئِسَ أَنْ تُعْبَدَ الْأَصْنَامُ بِأَرْضِ الْعَرَبِ
ابلیس عرب کی سرزمین میں بتوں کی عبادت سے مایوس ہو چکا ہے۔
حدیث نمبر: 2252
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا خالد بن عبد الله، حدثنا إبراهيم الهَجَري، عن أبي الأحوص، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ إبليسَ يَئِسَ أن تُعبدَ الأصنامُ بأرض العَرَب، ولكنه سيرضَى بدُونِ ذلك منكم، بالمحقَّرات من أعمالِكم، وهي المُوبِقاتُ، فاتَّقوا المظالمَ ما استطعتم، فإنَّ العبدَ يجيءُ يومَ القيامة وله مِن الحسناتِ ما يُرى أنه يُنجِيه، فلا يزالُ عبدٌ يقومُ فيقولُ: يا ربِّ، إنَّ فلانًا ظَلَمَني مَظلِمةً، فيقال: امحُوا من حَسَناتِه، حتى لا يَبقى له حَسَنةٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2221 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2221 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ سرزمین عرب پر بتوں کی عبادت کی جائے گی لیکن وہ اس کے علاوہ تمہارے چھوٹے چھوٹے ہلاکت خیز اعمال پر پُرامید ہے، اس لیے جب تک ہو سکے ظلم سے بچو کیونکہ ایک بندہ قیامت کے دن آئے گا اور اس کے پاس اتنی نیکیاں ہوں گی کہ وہ سمجھ رہا ہو گا کہ ان سے اس کی نجات ہو جائے گی۔ پھر کوئی نہ کوئی بندہ اللہ کی بارگاہ میں اس کے متعلق عرض کرتا رہے گا کہ: یا اللہ! اس بندے نے مجھ پر ظلم کیا تھا تو اس کی نیکیاں مظلوم کو دی جاتی رہیں گی یہاں تک کہ اس کے نامۂ اعمال میں کوئی نیکی نہیں بچے گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2252]