🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. إِنَّ إِبْلِيسَ يَئِسَ أَنْ تُعْبَدَ الْأَصْنَامُ بِأَرْضِ الْعَرَبِ
ابلیس عرب کی سرزمین میں بتوں کی عبادت سے مایوس ہو چکا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2252
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا خالد بن عبد الله، حدثنا إبراهيم الهَجَري، عن أبي الأحوص، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ إبليسَ يَئِسَ أن تُعبدَ الأصنامُ بأرض العَرَب، ولكنه سيرضَى بدُونِ ذلك منكم، بالمحقَّرات من أعمالِكم، وهي المُوبِقاتُ، فاتَّقوا المظالمَ ما استطعتم، فإنَّ العبدَ يجيءُ يومَ القيامة وله مِن الحسناتِ ما يُرى أنه يُنجِيه، فلا يزالُ عبدٌ يقومُ فيقولُ: يا ربِّ، إنَّ فلانًا ظَلَمَني مَظلِمةً، فيقال: امحُوا من حَسَناتِه، حتى لا يَبقى له حَسَنةٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2221 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک ابلیس اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ سرزمینِ عرب میں بتوں کی پوجا کی جائے، لیکن وہ اس سے کم درجے کی باتوں یعنی تمہارے ان اعمال سے خوش ہو جائے گا جنہیں تم معمولی سمجھتے ہو حالانکہ وہ ہلاک کر دینے والے ہیں، پس تم جہاں تک ہو سکے ظلم اور حقوق العباد کی پامالی سے بچو، کیونکہ بندہ قیامت کے دن اتنی نیکیاں لے کر آئے گا کہ اسے گمان ہوگا کہ وہ اسے نجات دلا دیں گی، لیکن کوئی نہ کوئی بندہ کھڑا ہو کر کہے گا: اے میرے رب! فلاں نے مجھ پر فلاں ظلم کیا تھا، تو حکم ہوگا: اس کی نیکیوں میں سے مٹا دو، یہاں تک کہ اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2252]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، إبراهيم الهَجَري - وهو ابن مسلم، وإن كان ضعيفًا - قد روى سفيان بن عيينة عنه الشطر الأول من هذا الحديث في يأس الشيطان أن تُعبد الأصنام في أرض العرب ورضاه بالمحقَّرات من الأعمال، ورواية ابن عيينة عنه صالحة كما بيّناه عند الحديث السالف برقم ...» [ترقيم الرساله 2252] [ترقيم الشركة 2234] [ترقيم العلميه 2221]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں