🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي أَمْرِهِ، وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُ، لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ
جس کی سفارش اللہ کی مقرر کردہ حد کے نفاذ میں رکاوٹ بنے وہ اللہ کے حکم کا مخالف ہے، اور جو ناحق جھگڑا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2253
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا العباس بن الفضل الأسْفاطي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا زُهير، حدثنا عُمارة بن غَزِيّة، عن يحيى بن راشد، عن عبد الله بن عمر (1) ، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن حالَت شفاعتُه دون حَدٍّ مِن حُدُود الله، فقد ضادَّ اللهَ في أمرِه، ومن مات وعليه دَين، فليس ثَمَّ دينارٌ ولا دِرهمٌ، ولكنها الحسناتُ والسيئاتُ، ومن خاصم في باطلٍ وهو يعلمُ، لم يَزَلْ في سَخَطِ الله حتى يَنزِعَ، ومَن قال في مؤمنٍ ما ليس فيه، حُبِسَ في رَدْغةِ الخَبَالِ حتى يأتيَ بالمَخْرَج مما قالَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2222 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے حدوداللہ میں ناحق سفارش کی اس نے اللہ کے معاملہ میں اس کی نافرمانی کی اور جو شخص وفات کے وقت مقروض ہو، تو وہاں (محشر میں) ادائیگی کے لیے درہم و دینار نہیں ہیں، بلکہ وہاں تو نیکیاں اور گناہ ہیں، اور جو شخص جان بوجھ کر ناحق جھگڑا کر کے وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہتا ہے جب تک اس سے نکل نہ آئے، اور جس شخص نے کسی مومن پر الزام لگایا اس کو روغۃ الخبال (جہنم کی ایک وادی) میں قید کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اپنے الفاظ واپس لے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے حدوداللہ میں سفارش کی، اس نے اللہ کے معاملے میں اس کی مخالفت کی اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کے ذمہ قرضہ ہو تو وہاں پر (قرضہ کی ادائیگی کے لیے) کوئی درہم و دینار نہیں ہے بلکہ وہاں تو نیکیاں اور گناہ ہیں اور جو شخص جان بوجھ کر ناحق جھگڑا کرے وہ جب تک اس سے نکل نہ آئے، اس وقت تک اللہ کی ناراضگی میں ہے اور جس شخص نے کسی مومن پر تہمت لگائی وہ اس وقت تک روغۃ الخبال میں رہے گا جب تک کہ اپنی تہمت سے رجوع نہ کرے (یعنی جب تک توبہ نہ کر لے)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2253]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں