المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي أَمْرِهِ، وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُ، لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ
جس کی سفارش اللہ کی مقرر کردہ حد کے نفاذ میں رکاوٹ بنے وہ اللہ کے حکم کا مخالف ہے، اور جو ناحق جھگڑا کرے۔
حدیث نمبر: 2253
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا العباس بن الفضل الأسْفاطي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا زُهير، حدثنا عُمارة بن غَزِيّة، عن يحيى بن راشد، عن عبد الله بن عمر (1) ، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن حالَت شفاعتُه دون حَدٍّ مِن حُدُود الله، فقد ضادَّ اللهَ في أمرِه، ومن مات وعليه دَين، فليس ثَمَّ دينارٌ ولا دِرهمٌ، ولكنها الحسناتُ والسيئاتُ، ومن خاصم في باطلٍ وهو يعلمُ، لم يَزَلْ في سَخَطِ الله حتى يَنزِعَ، ومَن قال في مؤمنٍ ما ليس فيه، حُبِسَ في رَدْغةِ الخَبَالِ حتى يأتيَ بالمَخْرَج مما قالَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2222 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2222 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے آڑے آگئی، تو اس نے اللہ کے معاملے میں اس کی مخالفت کی، اور جو اس حال میں مرا کہ اس پر قرض تھا، تو وہاں (آخرت میں) کوئی دینار و درہم نہیں ہوگا بلکہ نیکیاں اور گناہ ہوں گے، اور جس نے جانتے بوجھتے ہوئے کسی باطل معاملے میں جھگڑا کیا تو وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضی میں رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اس سے باز آ جائے، اور جس نے کسی مومن کے بارے میں ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی، اسے ”ردغہ الخبال“ (اہلِ جہنم کے پیپ کے ذخیرے) میں قید رکھا جائے گا جب تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات کی حقیقت ثابت نہ کر دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2253]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2253]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عباس الأسفاطي، وقد توبع. زهير: هو ابن معاوية الجُعْفي، ويحيى بن راشد: هو أبو هشام الدمشقي، وأخرجه أبو داود (3597) عن أحمد بن يونس - وهو ابن عبد الله بن يونس، معروف بالنسبة إلى جده - بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2253] [ترقيم الشركة 2235] [ترقيم العلميه 2222]
الحكم على الحديث: حديث صحيح