🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. حِكَايَةُ رَجُلٍ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ وَكَانَ يُدَايِنُ النَّاسَ بِالْمُسَامَحَةِ
اس شخص کا واقعہ جس نے کبھی کوئی نیکی نہ کی، مگر لوگوں سے قرض لیتے وقت نرمی برتتا تھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2254
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر بن سابِق الخَوْلاني، حدثنا شعيب بن الليث بن سعد، حدثني أبي. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن ابن عَجْلان، عن زيد بن أسلَمَ، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"إنَّ رجلًا لم يعمل خيرًا قطُّ، وكان يُدايِنُ الناسَ، فيقولُ لرسوله: خُذْ ما تيسَّر واتْرُكْ ما عَسُر، وتجاوَزْ لعلَّ اللهَ يتجاوزُ عنا، فلما هَلَكَ قال اللهُ: هل عَمِلتَ خيرًا قطُّ؟ قال: لا، إلّا أنه كان لي غلامٌ، وكنت أُدايِنُ الناسَ، فإذا بعثتُه يَتقاضَى قلتُ له: خُذ ما تيسَّر، واترُك ما تَعَسَّر، وتجاوَزْ لعلَّ الله يتجاوزُ عنا، قال الله: فقد تجاوزْتُ عنك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2223 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک آدمی تھا، جس نے کبھی کوئی نیکی کا کام نہیں کیا تھا، وہ لوگوں کو قرضہ دیا کرتا تھا اور اپنے سفیر سے کہتا تھا خوشحال سے وصولی کر لو اور تنگدست کو چھوڑ دیا کرو اور معاف کر دیا کرو، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دے، جب وہ شخص فوت ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تو نے کبھی کوئی نیک کام کیا؟ اس نے کہا: نہیں۔ البتہ میرا ایک غلام تھا اور میں لوگوں کو قرضہ دیا کرتا تھا۔ جب میں اپنے غلام کو قرض کی وصولی کے لیے بھیجتا تو اس کو یہ ہدایت کیا کرتا تھا کہ خوشحال سے وصولی کرنا اور تنگدست کو چھوڑ دینا اور درگزر کرنا، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے درگزر کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تجھے معاف کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2254]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں