المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
35. حِكَايَةُ رَجُلٍ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ وَكَانَ يُدَايِنُ النَّاسَ بِالْمُسَامَحَةِ
اس شخص کا واقعہ جس نے کبھی کوئی نیکی نہ کی، مگر لوگوں سے قرض لیتے وقت نرمی برتتا تھا۔
حدیث نمبر: 2254
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر بن سابِق الخَوْلاني، حدثنا شعيب بن الليث بن سعد، حدثني أبي. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن ابن عَجْلان، عن زيد بن أسلَمَ، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"إنَّ رجلًا لم يعمل خيرًا قطُّ، وكان يُدايِنُ الناسَ، فيقولُ لرسوله: خُذْ ما تيسَّر واتْرُكْ ما عَسُر، وتجاوَزْ لعلَّ اللهَ يتجاوزُ عنا، فلما هَلَكَ قال اللهُ: هل عَمِلتَ خيرًا قطُّ؟ قال: لا، إلّا أنه كان لي غلامٌ، وكنت أُدايِنُ الناسَ، فإذا بعثتُه يَتقاضَى قلتُ له: خُذ ما تيسَّر، واترُك ما تَعَسَّر، وتجاوَزْ لعلَّ الله يتجاوزُ عنا، قال الله: فقد تجاوزْتُ عنك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2223 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2223 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے کبھی کوئی بھلائی کا کام نہیں کیا تھا، وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے کارندے سے کہتا تھا: جو میسر ہو وہ لے لو، جو مشکل ہو اسے چھوڑ دو اور درگزر کرو تاکہ اللہ بھی ہم سے درگزر فرمائے، جب وہ فوت ہوا تو اللہ نے اس سے پوچھا: کیا تو نے کبھی کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے عرض کیا: نہیں، سوائے اس کے کہ میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے غلام کو وصولی کے لیے بھیجتے ہوئے کہتا تھا کہ جو آسانی سے مل جائے لے لینا اور جو مشکل ہو اسے چھوڑ دینا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تجھ سے درگزر کیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2254]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2254]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي،. الليث: هو ابن سعد، وابن عجلان: هو محمد، وأبو صالح: هو ذكوان السمّان.» [ترقيم الرساله 2254] [ترقيم الشركة 2236] [ترقيم العلميه 2223]
الحكم على الحديث: إسناده قوي