🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا وَوَضَعَ لَهُ، أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ
جو تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے، اللہ اسے اپنے سائے میں جگہ دے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2255
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا محمد ابن عبّاد المكي، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن أبي حَزْرة يعقوب بن مجاهد، عن عُبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت: قال خرجت أنا وأبي نطلب العلم في هذا الحيّ من الأنصار قبل أن يهلِكُوا، فكان أولَ من لَقِينا أبو اليَسَر صاحبُ رسولِ الله ﷺ ومعه غُلامٌ له، وعليه بُردٌ ومَعافِريّ، وعلى غلامه بُرْدٌ ومَعافِريّ (1) ، ومعه إضبارة (2) صُحُف، فقال له أبي: كأني أرى في وجهك سُفْعةً من غَضَب. قال: أجلْ، كان لي على فلانِ بن فلانٍ الحَراميّ (3) مالٌ، فأتيتُ أهلَه، فقلت: أثَمَّ هو؟ قالوا: لا، فخرج ابنٌ له، فقلت له: أين أبوك؟ قال: سمع كلامَك، فدخل أريكةَ أمي، فقلت: اخرُجْ، فقد علمتُ أين أنتَ، فخرج إليَّ، فقلتُ له: ما حَمَلك على أنِ اختبأتَ مني؟ قال: أنا واللهِ أُحدّثُك ولا أَكذِبُك، خشيتُ واللهِ أن أُحَدِّثَك فأَكذِبَك، أو أعِدَك فأُخلِفَك، وكنتَ صاحبَ رسولِ الله ﷺ، وكنتُ واللهِ مُعسرًا، فقلتُ: آللهِ، قال: آللهِ، قال: فقلتُ: آللهِ، قال: آللهِ، قال: فنشر الصحيفةَ ومَحَا الحقَّ، وقال: إن وجدتَ قضاءً فاقضِ، وإلّا فأنتَ في حِلٍّ، فأشهَدُ لبَصُرَتْ عيناي هاتان - ووضع إصبعيه على عينيه - وسمعَتْه أذناي هاتان - ووضع إصبعيه في أذنيه - ووَعَاه قلبي - وأشار إلى نِيَاط قلبه - رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن أَنظَر مُعسِرًا أو وَضَعَ له، أظلَّه اللهُ في ظِلّه" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وكذلك روي مختصرًا عن زيد بن أسلم (1) ورِبْعي بن حِراش (2) وحَنْظلة بن قيس (3) ، كلهم عن أبي اليَسَر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2224 - على شرط مسلم
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: میں اور میرے والد انصار کے اس قبیلے میں ان کے ہلاک ہونے سے پہلے طلب علم کی غرض سے آئے، ہماری سب سے پہلی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ابوالیسر سے ہوئی۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا تھا۔ ان پر اور ان کے لڑکے پر خاکستری رنگ کی چادر تھی اور ان کے پاس کپڑوں کا ایک گٹھا تھا۔ میرے والد نے ان سے پوچھا: کیا بات ہے؟ آپ کا چہرہ غصے سے سرخ کیوں ہو رہا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں فلاں بن فلاں حرامی کے ذمے میرا کچھ مال تھا۔ میں اس کے گھر گیا اور پوچھا: کیا وہ گھر میں ہے؟ گھر والوں نے جواب دیا: نہیں۔ پھر اس کا بیٹا باہر نکلا، میں نے اس سے پوچھا: تیرا باپ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: وہ آپ کی آواز سن کر میری امی کے پلنگ کے نیچے گھس گیا ہے۔ میں نے آواز لگائی کہ باہر نکلو کیونکہ مجھے سب معلوم ہے کہ تم کہاں ہو۔ پھر وہ باہر نکل کر آیا تو میں نے اس سے کہا: کیا وجہ ہے؟ تو مجھ سے یوں چھپتا کیوں پھرتا ہے؟ اس نے کہا: خدا کی قسم! میں جو بھی کہوں گا، سچ کہوں گا اور تیرے ساتھ جھوٹ نہیں بولوں گا۔ خدا کی قسم! مجھے یہ خدشہ تھا کہ اگر میں تیرے ساتھ ہم کلام ہوا تو جھوٹ بولنا پڑے گا یا وعدہ کرنا پڑے گا جو میں پورا نہ کر سکوں گا حالانکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی ہوں۔ میں نے کہا: کیا تم اللہ کی قسم کھا کر یہ بات کہہ رہے ہو؟ کہ تم واقعی تنگ دست ہو۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تنگدست ہوں۔ میں نے پھر اس کو اللہ کی قسم دلائی، اس نے پھر قسم کھا لی (عبادہ) فرماتے ہیں۔ پھر اس نے رجسٹر نکالا اور اس کا حق مٹا دیا اور کہا: اگر تیرے پاس قرضہ کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز ہے تو دے دو ورنہ جب ادا کر سکو، کر دینا۔ پھر انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں آنکھوں پر رکھ کر کہا: میری یہ دونوں آنکھیں گواہ ہیں اور اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال کر کہا: میرے ان دونوں کانوں نے سنا ہے اور اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اور میرے دل نے اس کو یاد کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی تنگدست کو مہلت دے گا اور اس کو معاف کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سایہ (رحمت) میں جگہ دے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ یونہی یہ حدیث زید بن اسلم اور ربعی بن میراش اور حنظلہ بن قیس نے ابوالیسر سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2255]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2256
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني وأبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، قالا: حدثنا أبو جعفر محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا عَفّان، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا محمد بن جُحَادة، عن سليمان بن بُريدة، عن أبيه، قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"مَن أنظَرَ مُعسِرًا فله بكلِّ يوم صدقةٌ قبل أن يَحِلَّ الدَّينُ، فإذا حَلَّ الدَّينُ فأنْظَرَه بعد ذلك فله بكلِّ يوم مثلُه صدقةً" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2225 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تنگدست کو مہلت دے، اس کے لیے قرض کی ادائیگی کا دن آنے تک ہر دن کے بدلے میں صدقہ کا ثواب ملتا ہے اور جب ادائیگی کا دن آ جائے لیکن وہ اس کے بعد بھی مہلت دے، تو اسی طرح ہر دن کے بدلے صدقے کا ثواب ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2256]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں