🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

64. مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَالَ اللَّهُ عَثْرَتَهُ
جس نے کسی مسلمان کی بیع فسخ کر دی اللہ قیامت کے دن اس کی لغزش معاف فرما دے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2322
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري. وحدثنا أحمد بن سَلْمان بن الحسن الفقيه، حدثنا أبو داود سليمان بن الأشعث. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالا: حدثنا أبو المثنّى العَنْبري؛ قالوا: حدثنا يحيى بن مَعين، حدثنا حفص بن غِياث، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن أقالَ مسلمًا، أقالَهُ اللهُ عَثْرتَه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2291 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کے ساتھ اقالہ (رضامندی کے ساتھ سودا ختم) کرے، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2322]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2323
أخبرنا عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"من باع بَيْعَتَين في بيعةٍ، فله أَوكَسُهما أو الرِّبا" (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2292 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک سودے میں دو سودے کرے اس کے لیے یا خسارہ ہو گا یا سود (یعنی وہ کسی طور بھی نقصان سے بچ نہیں سکے گا)۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2323]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں