🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

68. لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ أَمْرٌ فِي مَالِهَا، إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا
جب شوہر کو نکاح کا اختیار حاصل ہو تو عورت کے لیے اپنے مال میں خود مختارانہ تصرف جائز نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2330
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا هشام بن علي ومحمد بن غالب، قالا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن داود بن أبي هند وحَبيب المُعلِّم، عن عمرو بن شُعيب، عن أبيه، عن جده، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يجُوزُ لامرأةٍ أمرٌ في مالها إذا مَلَكَ زوجُها عِصْمَتَها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2299 - صحيح
سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کو اپنے مال میں کوئی اختیار نہیں ہے جبکہ اس کا شوہر اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ (امام حاکم اپنی سند کے ہمراہ بیان کرتے ہیں) محمد بن علی بن حمدان وراق نے کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا: کیا عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے کسی حدیث کا سماع کیا ہے؟ انہوں نے جواباً کہا: وہ عمرو بن شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں اور عمرو بن شعیب کا اپنے والد شعیب سے سماع ثابت ہے اور شعیب کا اپنے دادا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2330]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2330M
سمعت عليَّ بن عمر الحافظ يقول: سمعت أبا بكر بن زياد الفقيه النَّيسابوري يقول: سمعت محمد بن علي حَمْدانَ الوَرَّاق يقول: قلت لأحمد بن حنبل: عمرو بن شعيب سمع من أبيه شيئًا؟ فقال: هو عمرو بن شعيب بن محمد بن عبد الله بن عمرو، وقد صحَّ سماعُ عمرو بن شعيب من أبيه شعيب، وصحَّ سماعُ شعيب من جده عبد الله بن عمرو.
محمد بن علی بن حمدان الوراق بیان کرتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا: کیا عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے کچھ سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: وہ عمرو بن شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو ہیں، اور یقیناً عمرو بن شعیب کا اپنے والد شعیب سے سننا (سماع) ثابت ہے، اور شعیب کا اپنے دادا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سننا بھی صحیح (ثابت) ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2330M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2331
أخبرنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شريك، عن عبد العزيز بن رُفَيع، عن أُميّة بن صفوان بن أميّة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ استعار منه أَدرُعًا يوم حُنين، فقال: أَغَصْبٌ يا محمد؟ قال:"لا، بل عاريَّةٌ مَضْمونةٌ" (1) . وله شاهدٌ عن ابن عباس:
سیدنا صفوان بن اُمیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن اس سے چند زرہیں ادھار مانگیں، اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ غصب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ یہ عاریت ہے (اگر یہ ضائع ہو گئی تو) اس کا ضمان دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2331]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2332
أخبرَناه أحمد بن سهل الفقيه ببُخَارى، حدثنا صالح بن محمد الحافظ، حدثنا إسحاق بن عبد الواحد القُرَشي، حدثنا خالد بن عبد الله، عن خالد الحَذّاء، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ استعارَ من صفوان بن أُميّة أدرُعًا وسِلاحًا في غزوة حُنين، فقال: يا رسول الله، أعاريّةٌ مُؤدّاةٌ؟ قال:"عاريّةٌ مُؤدّاةٌ" (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2301 - على شرط مسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن صفوان بن امیہ سے کچھ زرہیں اور نیزے کے پھل عاریتاً لیے، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ عاریت ہے؟ اس کی ادائیگی کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ہاں) یہ عاریت ہے، اس کی ادائیگی کی جائے گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2332]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2333
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن عامر وعبد الوهاب بن عطاء، قالا: حدثنا سعيد بن أبي عَروبة، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة، عن النبي ﷺ قال:"على اليدِ ما أَخَذَت حتى تُؤدِّيَه" (2) . ثم إنَّ الحسن نسيَ حديثَه، فقال: هو أمينُك لا ضمان عليه.
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2302 - على شرط البخاري
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو تو نے لیا ہے وہ تیرے ہی ذمہ ہے، جب تک کہ تو ادا نہ کر دے، پھر حسن اپنی حدیث کو بھول گیا اور کہا وہ تیرا امین ہے اس پر کوئی ضمان (تاوان) نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2333]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں