🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

69. حِفْظُ الْحَوَائِطِ بِالنَّهَارِ عَلَى أَهْلِهَا، وَ حِفْظُ الْمَاشِيَةِ بِاللَّيْلِ عَلَى أَهْلِهَا، وَ عَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَةِ مَا أَصَابَتْ مَاشِيَتُهُمْ
دن کے وقت باغات کی حفاظت ان کے مالکوں پر ہے اور رات کے وقت مویشیوں کی حفاظت ان کے مالکوں پر ہے، اور مویشی جو نقصان کریں اس کا ذمہ بھی انہی پر ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2334
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الجَوهَري ببغداد، حدثنا أبو الوليد محمد بن أحمد بن بُرْد، حدثنا محمد بن كثير المِصِّيصي، حدثنا الأوزاعي. وحدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا جُماهر بن محمد الغَسّاني بدمشق، حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، حدثنا الفِرْيابي، عن الأوزاعي، عن الزُّهْري، عن حَرام بن محَيِّصةَ الأنصاري، عن البراء بن عازب، قال: كانت له ناقةٌ ضاريةٌ، فدخلت حائطًا، فأفسدَتْ فيه، فكُلِّم رسولُ الله ﷺ فيها، فقضى أنَّ حِفْظَ الحوائط بالنهار على أهلها، وأنَّ حِفْظَ الماشية بالليل على أهلها، وأنَّ على أهل الماشية ما أصابت ماشِيتُهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، على خلاف فيه بين معمر والأوزاعي، فإنَّ معمرًا قال: عن الزُّهْري، عن حرام بن مُحَيِّصة، عن أبيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2303 - صحيح على خلاف فيه بين معمر والأوزاعي
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ان کی ایک سرکش اونٹنی تھی، ایک دفعہ وہ کسی کے باغ میں گھس گئی اور بہت بربادی کی (یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوا تو) آپ نے اس سلسلے میں کچھ کلام کرنے کے بعد یہ فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغ والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے باغات کی حفاظت کریں اور رات کے وقت جانور والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے جانوروں کو سنبھال کر رکھیں اور جانور والوں کے ذمے اس نقصان کی ادائیگی ہے جو ان کے جانوروں نے نقصان کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے جبکہ اس میں معمر اور اوزاعی کے مابین اختلاف ہے کیونکہ معمر نے یہ حدیث زہری کے واسطے سے حرام بن محیصہ سے ان کے والد سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2334]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2335
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا سعيد بن سالم القدّاح، أخبرنا ابن جُرَيج، أنَّ إسماعيل بن أُميّة أخبره عن عبد الملك بن عُمير، قال: حضرتُ أبا عُبيدة بن عبد الله بن مسعود وأتاه رجلان تَبايَعا سِلعةً، فقال أحدهما: أخذتُ بكذا وكذا، وقال الآخرُ: بعتُ بكذا وكذا، فقال أبو عُبيدة: حدثني عبد الله بن مسعود في مثل هذا قال: حضرتُ رسولَ الله ﷺ في مثل هذا، فأمر البائعَ أن يُستحلَف، ثم يخيَّر المبتاعُ، إن شاء أَخَذ، وإن شاء تَرَك (1) .
هذا حديث صحيح إن كان سعيد بن سالم حفظ في إسناده عبدَ الملك بن عُمير.
سیدنا عبدالملک بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، (وہ فرماتے ہیں کہ) میں سیدنا ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کے پاس دو آدمی آئے جنہوں نے ایک دوسرے کو کوئی چیز بیچی تھی، ان میں سے ایک کہہ رہا تھا: میں نے اتنے میں یہ چیز خریدی ہے اور دوسرا کہہ رہا تھا: میں نے اتنے میں بیچی ہے۔ تو ابوعبیدہ نے کہا: اس طرح کا ایک واقعہ مجھے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سنایا ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھا اور آپ کے پاس اسی طرح کا ایک معاملہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فروخت کرنے والے سے کہا کہ وہ قسم کھائے، پھر خریدار کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ چاہے تو لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔ ٭٭ اگر سعید بن سالم نے اپنی سند میں عبدالملک بن عبید کو محفوظ رکھا ہے تو یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ ہمیں ابوبکر بن اسحٰق نے عبداللہ بن احمد بن حنبل کے واسطے سے ان کے والد سے محمد بن ادریس شافعی سے حدیث بیان کی ہے اور اس کے آخر میں احمد بن حنبل نے کہا کہ ہشام بن یوسف نے ابن جریج، انہوں نے اسماعیل بن امیہ، انہوں نے عبدالملک بن عبید اور انہوں نے احمد بن حنبل سے روایت کی اور حجاج نے کہا: اعور، عبدالملک بن عبید ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2335]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2335M
فقد حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن إدريس الشافعي، فذكر الحديث، وفي آخره قال أحمد بن حنبل: أُخبرتُ عن هشام بن يوسف، عن ابن جُرَيج، عن إسماعيل بن أمية، عن عبد الملك بن عُبيد. قال أحمد بن حنبل: وقال حجّاج الأعور: عبد الملك بن عُبيدة (1) (2) .
ہمیں یہ حدیث ابوبکر بن اسحاق نے بیان کی، وہ عبداللہ بن احمد بن حنبل سے اور وہ اپنے والد (امام احمد بن حنبل) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن ادریس الشافعی (امام شافعی) نے یہ حدیث بیان کی... پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی جس کے آخر میں ہے: احمد بن حنبل فرماتے ہیں: مجھے ہشام بن یوسف کے واسطے سے خبر دی گئی، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے اسماعیل بن امیہ سے اور انہوں نے عبدالملک بن عبید سے روایت کی۔ احمد بن حنبل مزید فرماتے ہیں: حجاج الاعور نے (بھی راوی کا نام) عبدالملک بن عبید ہی کہا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2335M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2336
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا المُعافى بن سليمان، حدثنا موسى بن أعْيَن، عن يحيى بن أيوب، عن ابن جُرَيج، أنَّ أبا الزُّبَير حدثه عن جابر: أنَّ النبي ﷺ اشترى من أعرابي - حسبت أنه قال: من بني عامر بن صَعْصَعَة - حِمْلَ خَبَطٍ، فلما وجبَ له، قال له النبيُّ ﷺ:"اختَرْ"، فقال الأعرابي: إن رأيتُ كاليوم مثلَك بَيِّعًا، عَمْرَكَ اللهَ ممَّن أَنتَ؟ قال:"من قُريش" (1) . تابعه ابن وهب عن ابن جُرَيج:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2305 - تابعه ابن وهب عن ابن جريج على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے درخت کی شاخوں کا ایک گٹھہ خریدا (راوی فرماتے ہیں) میرا یہ خیال ہے وہ شخص بنی عامر بن صعصعہ میں سے تھا، جب سودا پکا ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کہا: پسند کر لیں، دیہاتی نے جواباً کہا: اللہ تعالیٰ تجھے لمبی عمر دے، میں نے آج تک تیرے جیسا سوداگر نہیں دیکھا، تمہارا تعلق کس خاندان سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میرا تعلق) قریش سے ہے۔ ٭٭ اس حدیث کو ابن جریج سے روایت کرنے میں ابن وہب نے یحیی بن ایوب کی متابعت کی ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2336]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2337
حدَّثَناه أبو الوليد الفقيه، حدثنا عبد الله بن سليمان بن الأشعث، حدثنا مَوهَب بن يزيد بن مَوهَب، حدثنا ابن وهب، أخبرنا ابن جُرَيج، أنَّ أبا الزُّبَير المكي حدثه عن جابر: أنَّ النبيَّ ﷺ اشترى من أعرابي حِمْل خَبَطٍ، فلما وجبَ البيعُ، قال له النبيُّ ﷺ:"اختَرْ" فقال الأعرابي: عَمْرَكَ اللهَ بَيِّعًا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے درختوں کے گرے ہوئے پتے خریدے، جب سودا پکا ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چن لو، دیہاتی نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کی تجارت میں برکت دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2337]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں