🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

73. أَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ، فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ
جو شخص مر جائے یا دیوالیہ ہو جائے اور سامان بعینہٖ مل جائے تو سامان کا مالک اسی کا زیادہ حق دار ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2345
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن أبي فُدَيك [عن ابن أبي ذئبٍ] (1) حدثني أبو المُعتمِر، عن عُمر (2) بن خَلَدة الزُّرَقي - وكان قاضيَ المدينة - قال: جئنا أبا هُريرةَ في صاحبٍ لنا قد أَفلَسَ، فقال: هذا الذي قضى فيه رسولُ الله ﷺ:"أيُّما رجلٍ ماتَ أو أَفلَسَ، فصاحبُ المَتاعِ أحقُّ بمَتاعِه، إذا وجدَه بعَينِه" (3) .
هذا حديث عالٍ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2314 - صحيح
سیدنا عمر بن خلدہ زرقی رضی اللہ عنہ مدینۃ المنورہ کے قاضی تھے۔ آپ فرماتے ہیں: ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مفلس شدہ شخص کے سلسلے میں آئے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا ہے: کوئی شخص مر جائے یا مفلس ہو جائے تو سامان کا مالک اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے جبکہ وہ بعینہ اپنا سامان پا لے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اس کی سند عالی ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2345]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں