🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

91. مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَلْيَقْبَلْهُ
جس کے پاس اپنے بھائی کی طرف سے کوئی بھلائی بغیر مانگے اور لالچ کے پہنچے وہ اسے قبول کر لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2394
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثني سعيد بن أبي أيوب، حدثني أبو الأسود، عن بُكير بن عبد الله بن الأشجّ، عن بُسر بن سعيد، عن خالد بن عَدِي الجُهني، قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول:"مَن بَلَغَه معروفٌ عن أخيه مِن غير مَسألةٍ ولا إشرافِ نَفْسٍ، فليَقْبَلْه ولا يَرُدَّه، فإنما هو رِزْقٌ ساقَهُ اللهُ إِليهِ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2363 - صحيح
سیدنا خالد بن عدی جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس شخص کے پاس اس کے کسی بھائی کی طرف سے کوئی بھلائی (ہدیہ یا مال) بغیر مانگے اور بغیر دل کے لالچ کے پہنچے، تو اسے چاہیے کہ وہ اسے قبول کر لے اور اسے واپس نہ کرے، کیونکہ درحقیقت وہ ایک رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بھیجا ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2394]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وحسَّنه الحافظ ابن حجر في "الفتح" 7/ 486.» [ترقيم الرساله 2394] [ترقيم الشركة 2376] [ترقيم العلميه 2363]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2395
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو بن دينار، قال: سمعت وهب بن مُنبِّه في داره بصنعاء وأطعَمَني خَزِيرةً (1) في داره، يحدِّث عن أخيه، عن معاوية بن أبي سفيان، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا تُلْحِفُوا في المسألةِ، واللهِ (2) لا يسألُني أحد منكم شيئًا، فتُخرِجَه له مني المسألةُ، فأُعطيَه إياه وأنا كارِهٌ، فيُبارَكَ له في الذي أعطَيتُه" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2364 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سوال کرنے میں اصرار نہ کیا کرو، اللہ کی قسم! تم میں سے جو کوئی بھی مجھ سے کسی چیز کا سوال کرے گا اور اس کا وہ سوال مجھ سے وہ چیز نکلوا لے گا حالانکہ میں اسے وہ چیز دینا ناپسند کرتا ہوں، تو اسے اس دی ہوئی چیز میں برکت نہیں دی جائے گی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2395]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،الحميدي: هو عبد الله بن الزُّبَير المكي، وسفيان: هو ابن عُيينة.» [ترقيم الرساله 2395] [ترقيم الشركة 2377] [ترقيم العلميه 2364]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں