🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. من بلغه معروف عن أخيه من غير مسألة ولا إشراف نفس فليقبله
جس کے پاس اپنے بھائی کی طرف سے کوئی بھلائی بغیر مانگے اور لالچ کے پہنچے وہ اسے قبول کر لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2395
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو بن دينار، قال: سمعت وهب بن مُنبِّه في داره بصنعاء وأطعَمَني خَزِيرةً (1) في داره، يحدِّث عن أخيه، عن معاوية بن أبي سفيان، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا تُلْحِفُوا في المسألةِ، واللهِ (2) لا يسألُني أحد منكم شيئًا، فتُخرِجَه له مني المسألةُ، فأُعطيَه إياه وأنا كارِهٌ، فيُبارَكَ له في الذي أعطَيتُه" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2364 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ سے مانگنے میں اصرار مت کیا کرو، کیونکہ خدا کی قسم! جب تم مجھ سے کوئی چیز مانگتے ہو، کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ میں بڑی مشکل سے اس کا سوال پورا کرتا ہوں (تو اس طرح اس میں برکت نہیں رہتی اس لیے) برکت اسی میں ہوتی ہے جو میں اپنی خوشی سے دوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2395]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2395 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا وقع في النسخ الخطية، والذي في مطبوع "مسند الحميدي" وسائر مصادر تخريج الحديث: أطعمني من جوزة في داره.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں جو الفاظ ہیں ان کے برعکس "مسند الحمیدی" اور دیگر مصادر میں الفاظ یہ ہیں: "اس نے مجھے اپنے گھر میں اخروٹ (جوزہ) کھلایا"۔
(2) في (ب): فوالله. وهو كذلك في مطبوعي "مسند الحميدي" وسائر مصادر تخريج الحديث.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) اور مطبوعہ مسند الحمیدی میں "فواللہ" (پس اللہ کی قسم) کے الفاظ موجود ہیں۔
(3) إسناده صحيح. الحميدي: هو عبد الله بن الزُّبَير المكي، وسفيان: هو ابن عُيينة.
⚖️ درجۂ حدیث: سند "صحیح" ہے۔ الحمیدی اور سفیان بن عیینہ اس کے جلیل القدر راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (16893)، ومسلم (1038)، والنسائي (2385)، وابن حبان (3389) من طرق عن سفيان بن عيينة بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت صحیح مسلم (1038) اور نسائی وغیرہ میں موجود ہے۔ امام حاکم کا اسے (مستدرک میں) ذکر کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے ہی صحیحین کی شرط پر موجود ہے۔
والخَزِيرة: لحم يُقطَّع صغارًا ويُصبُّ عليه ماء كثير، فإذا نضج ذُرَّ عليه الدقيق، فإن لم يكن فيها لحم فهي عَصيدة.
📝 لغوی تشریح: "خزیرہ" اس کھانے کو کہتے ہیں جس میں گوشت کے چھوٹے ٹکڑے زیادہ پانی میں پکا کر اوپر سے آٹا چھڑکا جائے؛ اگر گوشت نہ ہو تو اسے "عصیدہ" (حلوہ نما کھانا) کہتے ہیں۔