🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

92. حُكْمُ قَبُولِ الْهَدَايَا
تحائف قبول کرنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2396
أخبرني أبو الحُسين محمد بن أحمد القَنْطَري ببغداد وأبو أحمد بكر بن محمد الصَّيْرفي بمَرْو، قالا: حدثنا أبو قِلابة وأخبرني أبو عمرو بن نُجَيد، حدثنا أبو مُسلم؛ قالا: حدثنا أبو عاصم، عن ابن عَجْلان، عن المقبُري، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا أهدى إلى رسول الله ﷺ لِقْحة، فأثابَه منها بستِّ بَكَرات، فتسخَّطها الرجلُ، فقال رسول الله ﷺ:"مَن يَعذِرُني مِن فلانٍ، أَهدى إلي لِقْحةً، فكأني أنظُر إليها في وَجْه بعضِ أهلِه، فأثَبْتُه منها بسِتِّ بَكَرَاتٍ فتَسخَّطَها، لقد هممتُ أن لا أقبل هَديّةً إلّا أن تكونَ من قُرشيٍّ أو أنصارِيٍّ أو ثَقَفيٍّ أو دَوْسِيّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2365 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی تحفہ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بدلے میں اس کو چھ اونٹ دئیے وہ شخص اتنے پر راضی نہ ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں شخص کی طرف سے مجھے کون عذر بیان کرے گا، جس نے مجھے ایک اونٹنی تحفہ دی تھی اور میں نے اس کے گھرانے کے کچھ لوگوں کی (حالت زار) طرف دیکھتے ہوئے اس کو چھ اونٹ بدلے میں دیئے لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہے، میں یہ سوچ رہا ہوں کہ میں صرف قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی سے تحفہ قبول کروں گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2396]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2397
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الله بن داود، عن الأعمش، عن يعقوب بن بَحِير، عن ضِرار بن الأزوَر قال: بعثَني أهلي بلَقُوحٍ إلى رسول الله ﷺ أهدَوْها له، فقال لي:"احلُبْها ودَعْ داعيَ اللَّبَنِ" (2) . حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر رمضان سنة سبع وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2366 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے کچھ اونٹنیاں دے کر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بھیجا تاکہ وہ اونٹنیاں آپ کو تحفہ دے دی جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا دودھ دھو لو اور کچھ دودھ تھنوں میں چھوڑ دو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2397]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں