المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
91. من بلغه معروف عن أخيه من غير مسألة ولا إشراف نفس فليقبله
جس کے پاس اپنے بھائی کی طرف سے کوئی بھلائی بغیر مانگے اور لالچ کے پہنچے وہ اسے قبول کر لے۔
حدیث نمبر: 2394
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثني سعيد بن أبي أيوب، حدثني أبو الأسود، عن بُكير بن عبد الله بن الأشجّ، عن بُسر بن سعيد، عن خالد بن عَدِي الجُهني، قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول:"مَن بَلَغَه معروفٌ عن أخيه مِن غير مَسألةٍ ولا إشرافِ نَفْسٍ، فليَقْبَلْه ولا يَرُدَّه، فإنما هو رِزْقٌ ساقَهُ اللهُ إِليهِ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2363 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2363 - صحيح
سیدنا زید بن عدی جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو اپنے بھائی کی طرف سے مانگے بغیر اور خوش آمدید کیے بغیر کوئی اچھی چیز ملے تو وہ واپس نہ کرے بلکہ اسے قبول کر لے کیونکہ یہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بھیجا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2394]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2394 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح، وحسَّنه الحافظ ابن حجر في "الفتح" 7/ 486.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے اور حافظ ابن حجر نے اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني في "غرائب مالك" كما في "فتح الباري" 7/ 486، ومن طريقه ابنُ عبد البر في "التمهيد" 17/ 409 عن أبي محمد بن صاعد وعلي بن محمد الإسكافي، كلاهما عن أبي الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، عن أحمد بن صالح المصري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی اور ابن عبدالبر نے احمد بن صالح کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث عبد الله بن عمرو عند أبي داود (3639) وابن ماجه (2482)، وإسناده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: عبداللہ بن عمرو کی روایت اس کی شاہد ہے اور اس کی سند "حسن" ہے۔
وحديث ثعلبة بن أبي مالك عندهما أيضًا، وفي إسناده ضعف.
🧩 متابعات و شواہد: ثعلبہ بن ابی مالک کی روایت بھی موجود ہے مگر اس کی سند میں ضعف ہے۔
ومرسل عبد الله بن أبي بكر عند مالك في "الموطأ" 2/ 744.
📖 حوالہ / مصدر: امام مالک نے "موطا" میں اسے مرسل روایت کیا ہے۔
وانظر حديث الزبير بن العوام الآتي برقم (5664).
📝 نوٹ / توضیح: حضرت زبیر کی روایت رقم (5664) پر ملاحظہ کریں۔
ومَهزور، بتقديم الزاي على الراء: وادي بني قريظة بالحجاز.
📝 جغرافیائی توضیح: "مہزور" (ز کے ساتھ) حجاز میں بنو قریظہ کی وادی کا نام ہے۔
ومِذْنَب: اسم موضع بالمدينة.
📝 جغرافیائی توضیح: "مذنب" مدینہ منورہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔
(3) إسناده صحيح، وصحَّحه الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 2/ 244. أبو الأسود: هو محمد بن عبد الرحمن بن نوفل. وقال الحافظ في "إتحاف المهرة" (4439): صحَّحه ابن حزم وعبد الحق وابن القطان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے؛ حافظ ابن حجر، ابن حزم، عبد الحق اور ابن القطان سب نے اس کی تصحیح کی ہے۔ ابو الاسود سے مراد محمد بن عبدالرحمن بن نوفل ہیں۔
وأخرجه أحمد 29/ (17936)، وابن حبان (3404) و (5108) من طرق عن عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 39/ (24009/ 11) عن أبي عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ، عن حيوة بن شُريح، عن أبي الأسود، به. فذكر حيوة بن شريح، بدل: سعيد بن أبي أيوب، وقال أبو القاسم البَغَوي في "معجم الصحابة" (592): رواه المقرئ عن حيوة وسعيد بن أبي أيوب جميعًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن حبان نے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ بعض سندوں میں سعید بن ابی ایوب کی جگہ حيوة بن شریح کا نام ہے، اور بغوی کے مطابق راوی (المقری) نے ان دونوں سے یہ روایت سنی ہے۔