🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

93. الدُّعَاءُ عِنْدَ اللِّبَاسِ الْجَدِيدِ
نیا کپڑا پہننے کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2398
حدثنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا أبو مُسلم، حدثنا أبو الوليد، حدثنا إسحاق بن سعيد، حدثنا أبي، حدثتني أم خالد بنت خالد، قالت: أُتي النبيُّ ﷺ بثيابٍ فيها خَمِيصةٌ سوداء صغيرة، فقال:"مَن تَرَون أكسُو هذه؟" فسكتَ القومُ، فقال رسول الله ﷺ:"ائتُوني بأمِّ خالدٍ" قالت: فأُتِي بي فألبَسَنِيها بيده، وقال:"أَبْلِي وأخْلِفي (1) " يقولها مرتين، وجعل ينظُر إلى عَلَمٍ في الخَمِيصة أصفرَ وأحمرَ، ويقول:"يا أمَّ خالدٍ، هذا سَنَا" (1) . والسَّنا بلِسان الحَبَشة: الحَسَن.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2367 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے جن میں ایک چھوٹی سیاہ خمیصہ (نقش و نگار والی چادر) تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ میں یہ چادر کسے پہناؤں؟ تو لوگ خاموش رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس ام خالد کو لاؤ۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے مبارک ہاتھوں سے مجھے پہنایا اور فرمایا: «أَبْلِي وأخْلِفي» اسے پرانا کرو اور پھر اللہ تمہیں اس کا نعم البدل عطا فرمائے (یعنی تمہاری عمر دراز ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دو بار فرمائی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خمیصہ میں موجود زرد اور سرخ نقش و نگار کو دیکھنے لگے اور فرمانے لگے: اے ام خالد! یہ «سَنَا» ہے۔ اور «سَنَا» حبشی زبان میں خوبصورت کو کہتے ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2398]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو مسلم: هو إبراهيم بن عبد الله الكجّي، وأبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي، وإسحاق بن سعيد: هو ابن عمرو بن سعيد بن العاص.» [ترقيم الرساله 2398] [ترقيم الشركة 2380] [ترقيم العلميه 2367]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2399
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا هشام بن علي ومحمد بن أيوب، قالا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ المهاجرين قالوا للنبي ﷺ: ذهبَ الأنصارُ بالأجرِ كُلِّه، قال:"لا، ما دعَوتُمُ اللهَ لهم وأَثنَيتُم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2368 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ انصار تو سارا اجر لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تک تم ان کے لیے اللہ سے دعا کرتے رہو گے اور ان کی تعریف کرتے رہو گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2399]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ثابت: هو ابن أسلم البُناني، وأخرجه أبو داود (4812) عن موسى بن إسماعيل، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2399] [ترقيم الشركة 2381] [ترقيم العلميه 2368]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2400
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا محمد بن عبد الوهاب العَبْدي. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون الحَرْبي؛ قالا: حدثنا سُريج بن النعمان الجَوهري، حدثنا أبو عَوَانة، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عمر، أنَّ النبي ﷺ قال:"من سألكُم بالله فأَعْطُوه، ومَن استعاذكُم باللهِ فأعيذُوه، ومَن آتى إليكُم معروفًا فكافِئوه، فإن لم تَجِدُوا فادعُوا له حتى تعلَمُوا أنكم كافأْتُموهُ، ومن استجارَكُم باللهِ فأجِيرُوه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، للخلاف الذي بين أصحاب الأعمش فيه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2369 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تم سے اللہ کے واسطے سے مانگے اسے عطا کرو، اور جو اللہ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے تو اسے اس کا بدلہ دو، اور اگر تم (بدلہ دینے کے لیے) کچھ نہ پاؤ تو اس کے لیے (اتنی) دعا کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے، اور جو اللہ کے نام پر تم سے پناہ مانگے اسے پناہ دو۔
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ امام اعمش کے شاگردوں کے درمیان اس کی روایت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2400]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكُري، والأعمش: هو سليمان بن مهران، ومجاهد: هو ابن جبر المكي.» [ترقيم الرساله 2400] [ترقيم الشركة 2382] [ترقيم العلميه 2369]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں