المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ وَذُرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ
دین کی اصل اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔
حدیث نمبر: 2439
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبوب بن موسى الأنطاكي، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأعمش، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن ميمون بن أبي شَبيب، عن معاذ بن جبل قال: كُنّا مع رسول الله ﷺ في غزوة تَبُوكَ، فقال لي:"إن شئتَ أنبأتُك برأسِ الأمرِ وعَمُودِه وذِرْوةِ سَنَامِه"، قال: قلتُ: أَجَلْ يا رسول الله، قال:"أما رأسُ الأمرِ فالإسلامُ، وأما عَمُودُه فالصلاةُ، وأما ذِرْوةُ سَنَامِه فالجهادُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2408 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2408 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوۂ تبوک میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہیں حکومت کی بنیاد، اس کے ستون اور اس کی کوہان کی اونچائی بتاؤں؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکومت کی اصل (” اسلام “ ہے اور اس کے ستون ” نماز “ اور اس کی کوہان کی اونچائی (یعنی اس کی عزت عظمت) ” جہاد “ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2439]
حدیث نمبر: 2440
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب (1) ، أخبرني أبو صَخْر، عن يزيد بن قُسَيط اللَّيثي، عن إسحاق بن سعد بن أبي وقّاص، حدثني أبي: أنَّ عبد الله بن جَحْشٍ قال يوم أُحُدٍ: ألا تأتي ندعُو اللهَ، فخَلَوا في ناحيةٍ، فدعا سعدٌ، قال: يا ربِّ، إذا لَقِينا القومَ غدًا، فلَقِّني رجلًا شديدًا بأسُه، شديدًا حَرْدُه، فأقاتِلُه فيك ويُقاتِلُني، ثم ارزقْني عليه الظَّفَر حتى أقتُلَه وآخُذَ سَلَبَه، فقام عبدُ الله بن جَحْش، ثم قال: اللهم ارزقني غدًا رجلًا شديدًا حَردُه، شديدًا بأسُه، أقاتِلُه فيك ويُقاتِلُني، ثم يأخُذُني فيَجدَعُ أنفي، فإذا لقيتُك غدًا، قلتَ: يا عبدَ الله، فيمَ جُدِعَ أنفُك وأُذنُك؟ فأقول: فِيكَ وفي رسولك، فتقولُ: صدقتَ. قال سعدُ بن أبي وقاص: يا بُنيَّ، كانت دعوةُ عبد الله بن جَحْشٍ خيرًا مِن دعوتي، لقد رأيتُه آخرَ النهارِ، وإنَّ أُذُنَه وأنفَه لَمُعلَّقَانِ في خَيطٍ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2409 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2409 - على شرط مسلم
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اُحد کے دن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میرے ساتھ آؤ ہم مل کر اللہ سے دعا مانگیں گے، وہ لوگ ایک جگہ پر الگ ہو گئے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے یوں دعا مانگی: اے میرے ربّ! کل جب ہماری دشمن سے مڈ بھیڑ ہو تو میرا سامنا طاقت ور، سخت جنگجو سے ہو، میں تیری رضا کی خاطر اس کے ساتھ لڑوں اور وہ میرے ساتھ لڑے، پھر تو مجھے اس پر فتح دے، میں اس کو قتل کروں اور اس کا ساز و سامان سمیٹ لوں، پھر عبداللہ بن جحش کھڑے ہوئے اور انہوں نے یوں دعا مانگی:” اے اللہ! کل میرا سامنا کسی ایسے شخص سے ہو جو بہت طاقتور اور سخت جنگجو ہو، میں تیری رضا کی خاطر اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے پھر وہ مجھے پکڑ کر میرے کان اور ناک کاٹ ڈالے پھر کل جب میں تجھ سے ملوں تو تُو مجھ سے پوچھے: اے اللہ کے بندے! تیرے کان اور ناک کیوں کٹے ہوئے ہیں؟ تو میں کہوں: یا اللہ! تیری اور تیرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا میں۔ پھر وہ فرمائے: تو نے سچ کہا۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے عبداللہ بن جحش کی دعا، میری دعا سے اچھی تھی، میں نے اسی دن شام کے وقت عبداللہ کو دیکھا کہ اس کے کان اور ناک ایک دھاگے میں لٹک رہے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2440]