🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. رأس الأمر الإسلام وعموده الصلاة وذروة سنامه الجهاد
دین کی اصل اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2439
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبوب بن موسى الأنطاكي، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأعمش، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن ميمون بن أبي شَبيب، عن معاذ بن جبل قال: كُنّا مع رسول الله ﷺ في غزوة تَبُوكَ، فقال لي:"إن شئتَ أنبأتُك برأسِ الأمرِ وعَمُودِه وذِرْوةِ سَنَامِه"، قال: قلتُ: أَجَلْ يا رسول الله، قال:"أما رأسُ الأمرِ فالإسلامُ، وأما عَمُودُه فالصلاةُ، وأما ذِرْوةُ سَنَامِه فالجهادُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2408 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوۂ تبوک میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہیں حکومت کی بنیاد، اس کے ستون اور اس کی کوہان کی اونچائی بتاؤں؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکومت کی اصل ( اسلام ہے اور اس کے ستون نماز اور اس کی کوہان کی اونچائی (یعنی اس کی عزت عظمت) جہاد ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2439]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2439 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، إلّا أن رواية ميمون بن أبي شبيب عن معاذ مرسلة كما قال ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل"، لكن تابعه غير واحدٍ كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور اس کے راوی قوی ہیں (لا بأس بہم)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: میمون بن ابی شبیب کی معاذؓ سے روایت مرسل ہے (جیسا کہ ابن ابی حاتم نے کہا)، لیکن دیگر متابعات کی وجہ سے یہ صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 36/ (22068) من طريق الحكم بن عُتيبة، عن ميمون بن أبي شبيب، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد (22068) نے اسے حکم بن عتیبہ عن میمون بن ابی شبیب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي مطوَّلًا من طريق الأعمش، عن حبيب بن أبي ثابت والحكم بن عُتيبة، كلاهما عن معاذ بن جبل برقم (3590). وقال الدارقطني في "العلل" (988): هو صحيح من حديث الحكم وحبيب عن ميمون
📝 نوٹ / توضیح: یہ حدیث آگے اعمش کے طریق سے نمبر (3590) پر مفصل آئے گی۔ امام دارقطنی نے اسے حکم اور حبیب کی میمون سے روایت کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔
وأخرجه مطوَّلًا أيضًا أحمد (22016)، وابن ماجه (3973)، والترمذي (2616)، والنسائي (11330) من طريق أبي وائل شقيق بن سلمة، عن معاذ بن جبل. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح. لكن قال المنذري في "الترغيب والترهيب" 3/ 339: أبو وائل أدرك معاذًا بالسنّ، وفي سماعه عندي نظر، وكان أبو وائل بالكوفة ومعاذ بالشام، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام منذری کے بقول اگرچہ ابو وائل معاذؓ کے ہم عصر ہیں لیکن ان کے سماع میں نظر ہے کیونکہ ابو وائل کوفہ میں تھے اور معاذؓ شام میں۔
وأخرجه بطوله أحمد (22068) من طريق الحكم بن عتيبة، عن عروة بن النزّال، عن معاذ بن جبل. وعروة هذا مجهول.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام احمد نے اسے عروہ بن النزال کے واسطے سے بھی روایت کیا ہے، مگر عروہ نامی راوی مجہول ہے۔
وأخرجه كذلك أحمد (22122) من طريق شهر بن حوشب، عن عبد الرحمن بن غَنْم، عن معاذ بن جبل. وأخرج منه قطعة من هذا الطريق ابنُ حبان برقم (214). وشهر حسن الحديث في المتابعات والشواهد، وهو لم ينفرد به عن ابن غَنْم، فقد تابعه عليه أيوب بن كريز عند الطبراني في "الكبير" 20/ (137)، وأبي القاسم بن بشران في "أماليه" (818) وغيرهما، لكن أيوب هذا مجهول.
🧩 متابعات و شواہد: شہر بن حوشب عن عبدالرحمن بن غنم عن معاذؓ کے طریق سے بھی یہ مروی ہے۔ شہر متابعات میں حسن الحدیث ہیں، اور ان کی متابعت ایوب بن کریز نے کی ہے، مگر ایوب مجہول ہے۔
وفي الجملة فالحديث صحيح بهذه الطرق، وإن كان لا يخلو واحد منها من مقال، والله تعالى أعلم.
📌 اہم نکتہ: مجموعی طور پر ان تمام طرق کی بنیاد پر یہ حدیث صحیح ہے، اگرچہ انفرادی طور پر ہر سند میں کچھ نہ کچھ کلام موجود ہے۔