🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. إِنَّ لِلشُّهَدَاءِ سَادَةً وَأَشْرَافًا وَمُلُوكًا
شہداء کے سردار، معزز اور بادشاہ ہوں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2437
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن نِسْطاس، عن داود بن المغيرة، عن سعد بن إسحاق بن كعب بن عُجْرة، عن أبيه، عن جده، قال: بينما النبيُّ ﷺ بالرَّوحاء إذ هَبَط عليهم أعرابيٌّ من شَرَفٍ (1) ، فقال: مَنِ القومُ، أين تُرِيدُونَ؟ قيل: بدرًا مع رسول الله ﷺ، قال: ما لي أراكم بَذَّةً هيئتُكم، قليلًا سِلاحُكم؟ قالوا: ننتظرُ إحدى الحُسنَيَين: إما أن نُقتَلَ فالجنة، وإما أن نَغْلِبَ فيَجمَعَهما اللهُ لنا؛ الظفَرَ والجنةَ، قال: أين نبيُّكم؟ قالوا: ها هو ذا، فقال له: يا نبيَّ الله، ليست لي مَصلَحةٌ، آخُذُ مَصلَحَتي، ثم ألحَقُ، قال:"اذهبْ إلى أهلك، فخُذْ مَصلَحَتك"، فخرج رسولُ الله ﷺ يَؤُمُّ بدرًا، وخرج الرجلُ إلى أهله حتى فَرَغَ من حاجتِه، ثم لَحِقَ برسول الله ﷺ ببدرٍ، وهو يَصُفُّ الناسَ للقتال في تَعبئتِهم، فدخل في الصفِّ معهم، فاقتَتلَ الناسُ، فكان فيمن استَشْهَدَه اللهُ، فقام رسولُ الله ﷺ بعد أن هزمَ اللهُ المشركين وأَظْفرَ المؤمنين، فمرَّ بين ظَهْرانَيِ الشُّهداء وعمرُ بن الخطاب معه، فقال رسول الله ﷺ:"ها يا عُمَرُ، إنك تحبُّ الحديثَ، وإنَّ للشهداءِ سادَةً وأشرافًا وملوكًا، وإنَّ هذا يا عمرُ منهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2406 - لا والله إسحاق بن إبراهيم بن نسطاس واه
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مقامِ) روحا میں تھے کہ ایک دیہاتی غلطی سے ان کی طرف آ نکلا اور پوچھنے لگا: تم کون ہو؟ اس کو بتایا گیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہی ہیں اور میدان بدر کی طرف جا رہے ہیں، اس نے کہا: کیا وجہ ہے کہ تم بہت شکستہ حال ہو اور سامانِ ضرب و حرب بھی تمہارے پاس نہ ہونے کے برابر ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہم دو نیکیوں میں سے ایک کے منتظر ہیں، اگر مارے گئے تو جنت ملے گی اور اگر غالب آ گئے تو اللہ تعالیٰ ہمیں فتح اور جنت دونوں عطا کرے گا۔ اس نے پوچھا: تمہارے نبی کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ ہیں، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے نبی! میں اپنی حاجت پوری کرنے کے بعد آپ کے ساتھ شامل ہو سکتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) تم اپنی بیوی کے پاس جاؤ اور اپنی حاجت کو پورا کر لو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف روانہ ہو گئے اور وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس چلے گئے، جب وہ اپنی حاجت سے فارغ ہو گیا تو میدانِ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ ملا، اس وقت آپ لشکر کو تیار کرتے ہوئے جنگ کی صف بندی کر رہے تھے اور وہ آدمی بھی ان کے ہمراہ صف میں شامل ہو گیا اور جنگ میں شریک ہوا، اس دن اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو شہادت سے سرفراز کیا، یہ بھی ان میں شامل تھا، جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی اور مؤمنین کو فتح و نصرت سے ہمکنار فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہداء کے جسموں کے پاس سے گزر رہے تھے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ہمراہ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! تم جوانی سے محبت کرتے ہو جبکہ بزرگی اور عزت و شرافت شہداء کے لیے ہے اور اے عمر! یہ شخص بھی ان میں سے ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2437]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2438
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثني عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله، عن أبيه، قال: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول إذا ذكر أصحابَ أُحُدٍ:"واللهِ لَوَدِدْتُ أني غُودِرْتُ مع أصحابي بحِضْنِ الجَبَل" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2407 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: جب مجھے شہدائے احد یاد آتے ہیں تو خدا کی قسم! مجھے یہ خواہش ہوتی ہے کہ کاش میں بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑ کے درے میں ہی رہ گیا ہوتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2438]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں