المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
30. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ " وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا "
اس آیت کے نزول کا سبب: ’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں انہیں مردہ گمان نہ کرو‘‘۔
حدیث نمبر: 2475
حدثني علي بن عيسى الحِيْري، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا عبد الله بن إدريس، عن محمد بن إسحاق، عن إسماعيل بن أُمية، عن أبي الزُّبَير، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله ﷺ:"لمّا أُصيبَ إخوانُكُم بأحدٍ جعلَ اللهُ أرواحَهم في جَوف طَيرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أنهارَ الجنة، تأكُلُ من ثِمارِها، وتَأوي إلى قَنادِيلَ مِن ذهبٍ مُعَلَّقةٍ في ظِلِّ العَرْشِ، فلما وَجَدُوا طِيبَ مَأكَلِهم ومَشرَبهم ومَقِيلِهم، قالوا: مَن يُبلِّغُ إخوانَنا أنَّا أحياءٌ في الجنةِ نُرزَقُ، لئلّا يَزهَدُوا في الجهاد، ولا يَنْكُلُوا عن الحرب؟ فقال الله ﵎: أنا أُبلِّغهم عنكُم" قال: وأنزلَ اللهُ: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا﴾ [آل عمران: 169] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2444 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2444 - على شرط مسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے جو بھائی غزوۂ اُحد میں شہید ہو گئے، اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیا ہے، وہ جنت کی نہروں پر گھومتے ہیں، وہاں کے پھل وغیرہ کھاتے ہیں اور اللہ کے عرش کے سائے میں لٹکی ہوئی سونے کی قندیلوں میں آتے ہیں، جب وہ اپنا کھانا، پینا اور آرام کے مقام اچھے پاتے ہیں تو کہتے ہیں: کون ہے ایسا شخص؟ جو ہمارے بھائیوں تک یہ اطلاع پہنچا دے کہ ہم زندہ ہیں اور ہمیں رزق دیا جاتا ہے تاکہ وہ بھی جہاد میں دل لگائیں اور جنگ سے نہ بھاگیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری یہ اطلاع ان لوگوں تک میں پہنچاؤں گا۔ تب یہ آیت نازل فرمائی: (وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا) ” اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ خیال نہ کرنا “۔۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2475]
حدیث نمبر: 2476
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا محمد بن إسحاق، عن محمد بن إبراهيم التَّيمي، عن محمد بن عبد الله بن عَتِيك، أخي بني سَلِمة، عن أبيه، قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن خَرَجَ من بَيتِه مجاهدًا في سبيلِ الله - قال: ثم ضَمَّ أصابِعَه الثلاثَ: وأينَ المُجاهِدُون في سبيلِ الله؟ - مَن خرجَ في سبيلِ الله، فَخَرَّ عن دابّتِه، فماتَ فقد وَقَعَ أَجْرُه على الله، وإن لَدَغَتْه دابَّةٌ فماتَ، فقد وَقَعَ أجْرُه على الله، ومَن ماتَ حَتْفَ أنفِه - قال: وإنها لكلمةٌ ما سمِعْتُها من أحدٍ من العربِ أوّلَ مِن رسولِ الله ﷺ، يعني بحتفِ أنفِه: على فِراشِه - قد وَقَعَ أجْرُه على الله، ومَن قُتِلَ قَعْصًا فقد استَوجَبَ الجنةَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2445 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2445 - صحيح
سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کی غرض سے اپنے گھر سے نکلا (راوی) فرماتے ہیں پھر آپ نے تین انگلیاں ملا کر مجاہدین فی سبیل اللہ کے متعلق فرمایا: وہ مجاہدین فی سبیل اللہ کہاں ہیں؟ پھر وہ اپنے گھوڑے سے گر کر مر جائے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہو چکا اور جس کو جانور کاٹ لے اور وہ مر جائے اس کا اجر بھی اللہ کے ذمہ ثابت ہو چکا ہے اور جو اپنی طبعی موت مر جائے، اس کا اجر بھی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہو چکا ہے اور جو بیماری کی وجہ سے مر جائے اس پر جنت واجب ہو گئی۔ راوی فرماتے ہیں آپ نے طبعی موت مرنے کے متعلق ” حتف انفہ “ لفظ استعمال فرمایا: ہم نے یہ لفظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کبھی کسی عربی سے نہیں سنا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2476]