🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. ذِكْرُ رِجَالٍ يُحِبُّهُمُ اللهُ تَعَالَى ذِكْرُ رِجَالٍ يُبْغِضُهُمُ اللهُ تَعَالَى
ان لوگوں کا ذکر جن سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتا ہے اور ان لوگوں کا ذکر جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2477
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا الأسود بن شَيبان السَّدُوسِي، عن يزيد بن عبد الله بن الشِّخِّير أبي العلاء، عن مُطرِّف بن عبد الله، قال: كان يَبلُغُني عن أبي ذرٍّ حديثٌ، فكنتُ أشتهي لقاءه فلقِيتُه، فقلتُ: يا أبا ذَرّ، كان يبلُغُني عنك حديثٌ، فكنتُ أشتهي لقاءك، قال: لِلَّهِ أبوك، فقد لقِيتَني، قال: قلتُ: حديثٌ بَلَغني أنَّ رسولَ الله ﷺ حدَّثك، قال:"إِنَّ الله يحبُّ ثلاثةً، ويُبغِضُ ثلاثةً" قال: فلا إخالُني أكذِبُ على خَلِيلي، فلا إخالُني أكذب على خليلي، فلا إخالُني أكذب على خليلي، قال: قلتُ: مَنْ هؤلاء الذين يحبُّهم الله؟ قال:"رجلٌ غزا في سبيلِ الله صابرًا محتسبًا مجاهدًا، فلقي العدوَّ، فقاتَلَ حتى قُتِلَ، وأنتم تجِدونَه عندكم في كتاب الله المُنزَل" ثم قرأ هذه الآية: ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ [الصف: 4] ، قلت: ومَن؟ قال:"رجلٌ له جارُ سَوءٍ يُؤذيه، فيَصبِرُ على أذاهُ حتى يَكفيَه الله إياه، إما بحياةٍ أو موتٍ" قلت، ومَن؟ قال:"رجلٌ مسافرٌ مع قومٍ، فأدْلَجوا، حتى إذا كانوا مِن آخرِ الليل وقع عليهم الكَرَى والنُّعاس، فضربوا رؤوسهم، ثم قامَ فتطهَّر رَهْبةً لله ورَغْبةً لما عندَه". قلت: فمن الثلاثة الذين يُبغِضُهم الله؟ قال:"المختالُ الفَخُور، وأنتم تَجِدونَه في كتاب الله المُنزَل ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ [لقمان: 18] " قلت: ومَن؟ قال:"البَخيلُ المَنَّانُ" قال: ومن؟ قال:"التاجِرُ الحَلّاف" أو"البائعُ الحَلّاف" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2446 - على شرط مسلم
مطرف بن عبداللہ سے روایت ہے کہ مجھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث پہنچتی تھی اور میں ان سے ملاقات کا شوق رکھتا تھا، جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا: اے ابوذر! مجھے آپ سے مروی ایک حدیث پہنچی تھی جس کی وجہ سے میں آپ سے ملنا چاہتا تھا، انہوں نے کہا: اللہ تمہارے باپ کا بھلا کرے، اب تم مجھ سے مل چکے ہو، میں نے کہا: وہ حدیث یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے بیان فرمایا ہے، انہوں نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ تین لوگوں سے محبت فرماتا ہے اور تین سے بغض رکھتا ہے، پھر انہوں نے تین بار کہا کہ میں اپنے خلیل ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر جھوٹ نہیں باندھ سکتا۔ میں نے پوچھا: وہ کون ہیں جن سے اللہ محبت فرماتا ہے؟ انہوں نے کہا: ایک وہ شخص جو اللہ کی راہ میں صبر، نیتِ ثواب اور جہاد کی خاطر نکلا، اس کا دشمن سے مقابلہ ہوا اور وہ لڑتے ہوئے شہید ہو گیا، تم اس کا تذکرہ اللہ کی نازل کردہ کتاب میں بھی پاتے ہو، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ [سورة الصف: 4] ، میں نے پوچھا: اور کون؟ فرمایا: وہ شخص جس کا پڑوسی برا ہو اور اسے اذیت دے، لیکن وہ اس کی اذیت پر صبر کرے یہاں تک کہ اللہ اسے (اس شر سے) بچا لے خواہ اس کی زندگی میں یا موت کے ذریعے، میں نے پوچھا: اور کون؟ فرمایا: وہ مسافر جو ایک گروہ کے ساتھ سفر کرے، وہ سب رات بھر چلیں یہاں تک کہ جب رات کا آخری پہر ہو اور ان پر نیند کا غلبہ ہو جائے اور وہ تھک کر سو جائیں، تو وہ شخص کھڑا ہو کر اللہ کے خوف اور اس کے پاس موجود اجر کی طلب میں وضو کرے (اور نماز پڑھے)۔ میں نے پوچھا: وہ تین کون ہیں جن سے اللہ بغض رکھتا ہے؟ فرمایا: تکبر کرنے والا اور فخر جتانے والا، تم اسے بھی اللہ کی کتاب میں پاتے ہو: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ بے شک اللہ کسی تکبر کرنے والے، فخر جتانے والے سے محبت نہیں کرتا۔ [سورة لقمان: 18] ، میں نے پوچھا: اور کون؟ فرمایا: بخل کرنے والا اور احسان جتانے والا، میں نے پوچھا: اور کون؟ فرمایا: قسمیں کھا کر مال بیچنے والا تاجر۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2477]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2477] [ترقيم الشركة 2460] [ترقيم العلميه 2446]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2478
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكير، حدثنا الليث بن سعد، عن يزيد بن الهاد، حدثنا أبو عثمان الوليد بن أبي الوليد، عن عثمان بن عبد الله بن سُرَاقة العَدَوي، عن عمر بن الخطاب، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن أظلَّ رأس غازٍ أظلَّه اللهُ يومَ القيامة، ومن جَهَّز غازيًا حتى يَستقِلَّ بجَهَازه فله مثلُ أجرِه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد وقد احتجَّ البخاري بعثمان بن عبد الله بن سُراقة، وهو ابنُ ابنة أمير المؤمنين عثمان بن عفّان (1) . ولهذا الحديث شاهدٌ من حديث سهل بن حُنيف:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2447 - صحيح
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غازی کے سر پر سایہ کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اپنا سایہ نصیب فرمائے گا، اور جس نے کسی غازی کو سامانِ جہاد سے لیس کیا یہاں تک کہ وہ اپنے ساز و سامان کے ساتھ روانگی کے قابل ہو گیا، تو اس کے لیے بھی غازی جتنا ہی اجر ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری نے عثمان بن عبداللہ بن سراقہ سے احتجاج کیا ہے جو کہ امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے نواسے ہیں۔ اس حدیث کا شاہد سیدنا سہل بن حنیف کی حدیث سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2478]
تخریج الحدیث: «صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن رواية عثمان بن عبد الله بن سُراقة عن جده لأمه عمر بن الخطاب مرسلة، كما جزم به علي بن المديني فيما نقله عنه ابن كثير في "مسند الفاروق" (623)، وبذلك جزم أيضًا الحافظان المزي في "تهذيب الكمال" 19/ 413، والذهبي في "تاريخ الإسلام" 3/ 276» [ترقيم الرساله 2478] [ترقيم الشركة 2461] [ترقيم العلميه 2447]

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں