المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
31. ذكر رجال يحبهم الله تعالى ذكر رجال يبغضهم الله تعالى
ان لوگوں کا ذکر جن سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتا ہے اور ان لوگوں کا ذکر جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 2477
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا الأسود بن شَيبان السَّدُوسِي، عن يزيد بن عبد الله بن الشِّخِّير أبي العلاء، عن مُطرِّف بن عبد الله، قال: كان يَبلُغُني عن أبي ذرٍّ حديثٌ، فكنتُ أشتهي لقاءه فلقِيتُه، فقلتُ: يا أبا ذَرّ، كان يبلُغُني عنك حديثٌ، فكنتُ أشتهي لقاءك، قال: لِلَّهِ أبوك، فقد لقِيتَني، قال: قلتُ: حديثٌ بَلَغني أنَّ رسولَ الله ﷺ حدَّثك، قال:"إِنَّ الله يحبُّ ثلاثةً، ويُبغِضُ ثلاثةً" قال: فلا إخالُني أكذِبُ على خَلِيلي، فلا إخالُني أكذب على خليلي، فلا إخالُني أكذب على خليلي، قال: قلتُ: مَنْ هؤلاء الذين يحبُّهم الله؟ قال:"رجلٌ غزا في سبيلِ الله صابرًا محتسبًا مجاهدًا، فلقي العدوَّ، فقاتَلَ حتى قُتِلَ، وأنتم تجِدونَه عندكم في كتاب الله المُنزَل" ثم قرأ هذه الآية: ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ [الصف: 4] ، قلت: ومَن؟ قال:"رجلٌ له جارُ سَوءٍ يُؤذيه، فيَصبِرُ على أذاهُ حتى يَكفيَه الله إياه، إما بحياةٍ أو موتٍ" قلت، ومَن؟ قال:"رجلٌ مسافرٌ مع قومٍ، فأدْلَجوا، حتى إذا كانوا مِن آخرِ الليل وقع عليهم الكَرَى والنُّعاس، فضربوا رؤوسهم، ثم قامَ فتطهَّر رَهْبةً لله ورَغْبةً لما عندَه". قلت: فمن الثلاثة الذين يُبغِضُهم الله؟ قال:"المختالُ الفَخُور، وأنتم تَجِدونَه في كتاب الله المُنزَل ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ [لقمان: 18] " قلت: ومَن؟ قال:"البَخيلُ المَنَّانُ" قال: ومن؟ قال:"التاجِرُ الحَلّاف" أو"البائعُ الحَلّاف" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2446 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2446 - على شرط مسلم
سیدنا مطرف بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھ تک ایک حدیث پہنچی تھی جس کی وجہ سے ان سے ملاقات کا مجھے شوق پیدا ہوا پھر (بالآخر) میں ان سے ملاقات کے لیے چلا گیا، میں نے ان سے کہا: اے ابوذر! آپ کے حوالے سے مجھ تک ایک حدیث پہنچی، جس کی وجہ سے آپ کی ملاقات کا مجھے شوق تھا، سیدنا ابوذر نے ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کے لیے دعائے خیر فرمائی، (سیدنا مطرف بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات بتائی ہے آپ وہ بات مجھے بتائیں، انہوں نے کہا (وہ بات یہ ہے) تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اور تین آدمیوں سے نفرت کرتا ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے دوست پر جھوٹ نہیں بولوں گا۔ (سیدنا مطرف) فرماتے ہیں: میں نے کہا: وہ تین آدمی کون ہیں؟ جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے؟ انہوں نے جواباً کہا: (1) وہ آدمی جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں صبر کرتے ہوئے، ثواب کی نیت سے، مجاہدین کے ہمراہ جہاد میں شریک ہو پھر اس کی دشمن سے مڈبھیڑ ہو جائے اور وہ لڑتا ہے حتیٰ کہ اس کو قتل کر دیا جائے اور یہ بیان قرآن پاک میں موجود ہے پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: (اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّھُمْ بُنیَانٌ مَّرْصُوصٌ) (الصف: 4) ” بے شک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا (صف) باندھ کر گویا وہ عمارت ہیں رانگا پلائی (سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں) “۔۔ (سیدنا مطرف فرماتے ہیں) میں نے پوچھا: اور کون؟ انہوں نے کہا: (2) ایسا آدمی جس کا پڑوسی بداخلاق ہو، جو اس کو اذیت دیتا رہے اور یہ اس کی تکلیفوں پر صبر اختیار کرے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس سے بچا لے یا تو زندگی میں یا موت کے ساتھ۔ (سیدنا مطرف فرماتے ہیں) میں نے کہا: اور کون؟ انہوں نے کہا: (3) ایسا شخص جو کچھ لوگوں کے ہمراہ تمام رات سفر میں رہا اور رات کے آخری حصہ میں جب ان پر سُستی اور نیند کا غلبہ ہو تو وہ سب لوگ سو جائیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے خوف میں اور اس کی بارگاہ میں ملنے والے ثواب کی جستجو میں رات کا قیام کرے۔ میں نے پوچھا: وہ تین آدمی کون ہیں؟ جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ انہوں نے کہا: (1) فخر کرنے والا متکبر۔ اور اس کا بیان تمہیں قرآن پاک کی اس آیت میں ملے گا: (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَا) (النساء: 36) ” بے شک اللہ تعالیٰ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والا، بڑائی مارنے والا “۔۔ میں نے پوچھا: اور کون؟ انہوں نے کہا: (2) احسان جتلانے والا بخیل۔ میں نے کہا: اور کون؟ انہوں نے کہا: (3) قسمیں کھانے والا تاجر یا (شاید یہ فرمایا) قسمیں کھانے والا سوداگر۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2477]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2477 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 35/ (21530) عن يزيد بن هارون عن الأسود بن شيبان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد (21530) نے اسے یزید بن ہارون عن اسود بن شیبان کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد أيضًا (21340) عن إسماعيل ابن عُلَيَّة، عن سعيد بن إياس الجُريري، أبي العلاء بن الشِّخِّير، عن ابن الأحمس، عن أبي ذرّ. وابن الأحمس هذا مجهول، وابن علية ممَّن سمع من الجريري قبل اختلاطه، لكن خالفه معمر بن راشد في "جامعه" (20282) و (20285) - وهو ممَّن سمع من الجريري قبل الاختلاط أيضًا، ورواه ابن المبارك في "الزهد" برواية الحسين المروَزي (1212) عنه - عن الجُريري بإسقاط ذكر ابن الأحمس من إسناده.
🔍 فنی نکتہ: امام احمد کی ایک دوسری روایت میں "ابن الاحمس" کا ذکر ہے جو کہ مجہول ہے، لیکن معمر بن راشد اور ابن المبارک نے اس واسطے کے بغیر (انقطاع کے ساتھ) اسے روایت کیا ہے۔
وقد تقدم بنحوه برقم (1534)، وسيأتي برقم (2564) من طريق زيد بن ظبيان عن أبي ذر.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت (1534) پر گزر چکی ہے اور آگے (2564) پر دوبارہ آئے گی۔
والكَرَى: النُّعاس.
📝 لغوی تشریح: "الکریٰ" کے معنی اونگھ یا نیند کے ہیں۔
وقوله: "أدلجوا"، أي: ساروا من أول الليل.
📝 لغوی تشریح: "ادلجوا" کا مطلب ہے رات کے ابتدائی حصے میں سفر کرنا۔
وقوله: "فضربوا رؤوسهم"، يعني: وضعوها للنوم.
📝 لغوی تشریح: "سر پٹخنے" (ضربوا رؤوسہم) سے مراد نیند کے لیے سر نیچے رکھنا یا سو جانا ہے۔