المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
38. مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِ اللَّهِ كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَرَوَثُهُ وَبَوْلُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ.
جس نے اللہ پر ایمان اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں گھوڑا باندھا، اس کا کھانا، پینا، لید اور پیشاب سب اس کے میزان میں نیکیاں ہوں گے۔
حدیث نمبر: 2487
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، حدثنا طلحة بن أبي سعيد، أنَّ سعيد المَقبُري حدثه عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال:"مَن احتَبَسَ فرسًا في سبيل الله إيمانًا بالله وتَصديقَ مَوعُودِ الله، كان شِبَعُه ورِيُّه ورَوثُه وبَولُه حسناتٍ في مِيزانِه يومَ القيامة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2456 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2456 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ پر ایمان لاتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں کوئی گھوڑا پالا، تو اس گھوڑے کا پیٹ بھر کر کھانا، اس کا سیر ہو کر پانی پینا، اس کا لید کرنا اور اس کا پیشاب کرنا سب قیامت کے دن اس کی میزانِ عمل میں نیکیوں کی صورت میں ہوں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2487]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2487]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن وهب: هو عبد الله.» [ترقيم الرساله 2487] [ترقيم الشركة 2470] [ترقيم العلميه 2456]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2488
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوح بن عُبادة، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني يزيد بن أبي حَبيب، حدثني سُويد بن قيس، حدثني معاوية بن حُدَيج، عن أبي ذرٍّ الغِفاري، عن النبي ﷺ قال:"ما مِن فَرسٍ عَربيٍّ إلّا يُؤذَنُ له كلَّ يومٍ بدَعْوتَين، يقول: اللهمَّ كما خَوَّلْتَني مَن خَوَّلْتَني، فاجعلْني مِن أحبِّ مالِه وأهلِه إليه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2457 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2457 - صحيح
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر عربی گھوڑے کو ہر روز دو دعائیں مانگنے کی اجازت دی جاتی ہے، وہ عرض کرتا ہے: «اللَّهُمَّ كَمَا خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي، فَاجْعَلْنِي مِنْ أَحَبِّ مَالِهِ وَأَهْلِهِ إِلَيْهِ» ”اے اللہ! جس طرح تو نے مجھے اس مالک کی ملکیت میں دیا ہے، تو مجھے اس کے مال اور اس کے گھر والوں میں اس کا سب سے محبوب بنا دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2488]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2488]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا، فقد انفرد برفعه عبد الحميد بن جعفر، وخالفه الليث بن سعد وعمرو بن الحارث، وهما أجلُّ من عبد الحميد بن جعفر وأوثق، فوقفاه على أبي ذرّ، وهو المحفوظ، كما قال الدارقطني في "العلل" (1123)، وخالفاه أيضًا في تعيين شيخ يزيد بن أبي حبيب، فذكرا أنه عبد الرحمن بن ...» [ترقيم الرساله 2488] [ترقيم الشركة 2471] [ترقيم العلميه 2457]
الحكم على الحديث: صحيح موقوفًا
حدیث نمبر: 2489
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حدثنا أبو قِلابة بن الرَّقَاشي، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، قال: سمعتُ يحيى بن أيوب يحدِّث عن يزيد بن أبي حَبيب، عن عُليّ بن رَبَاح، عن أبي قَتَادة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"خَيرُ الخيل الأدْهَمُ الأقْرَحُ المحجَّلُ الأرثَم، طَلْقُ اليدِ اليُمنى، فإن لم يكن أدْهَمَ فكُمَيتٌ على هذه الشِّيَةِ" (1) .
هذا حديث غريب صحيحٌ، وقد احتجَّ الشيخان بجميع رُواتِه (1) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2458 - على شرط البخاري ومسلم غريب
هذا حديث غريب صحيحٌ، وقد احتجَّ الشيخان بجميع رُواتِه (1) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2458 - على شرط البخاري ومسلم غريب
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین گھوڑا وہ ہے جو گہرے سیاہ رنگ کا ہو، اس کی پیشانی پر سفید نشان ہو، اس کے تین پاؤں سفید ہوں اور نچلا ہونٹ بھی سفید ہو، جبکہ دایاں اگلا پاؤں (سفیدی سے) خالی ہو، اگر ایسا سیاہ میسر نہ ہو تو پھر سرخی مائل سیاہ (کمیت) ہو جس میں یہی نشانیاں ہوں۔“
یہ ایک غریب صحیح حدیث ہے، شیخین نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2489]
یہ ایک غریب صحیح حدیث ہے، شیخین نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2489]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن أيوب» [ترقيم الرساله 2489] [ترقيم الشركة 2472] [ترقيم العلميه 2458]
الحكم على الحديث: حديث صحيح