🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. من احتبس فرسا في سبيل الله إيمانا بالله وتصديق موعود الله كان شبعه وريه وروثه وبوله حسنات في ميزانه.
جس نے اللہ پر ایمان اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں گھوڑا باندھا، اس کا کھانا، پینا، لید اور پیشاب سب اس کے میزان میں نیکیاں ہوں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2489
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حدثنا أبو قِلابة بن الرَّقَاشي، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، قال: سمعتُ يحيى بن أيوب يحدِّث عن يزيد بن أبي حَبيب، عن عُليّ بن رَبَاح، عن أبي قَتَادة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"خَيرُ الخيل الأدْهَمُ الأقْرَحُ المحجَّلُ الأرثَم، طَلْقُ اليدِ اليُمنى، فإن لم يكن أدْهَمَ فكُمَيتٌ على هذه الشِّيَةِ" (1) .
هذا حديث غريب صحيحٌ، وقد احتجَّ الشيخان بجميع رُواتِه (1) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2458 - على شرط البخاري ومسلم غريب
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین گھوڑا وہ ہے جس کا رنگ کالا ہو، پنج سالہ ہو، اس کی ٹانگوں میں سفیدی ہو، ناک کے کنارے پر سفید داغ ہوں، دائیں ٹانگ میں سفیدی نہ ہو، اگر گھوڑے کا رنگ کالا نہ ہو تو سرخ سیاہ رنگ کا گھوڑا جس میں مذکورہ صفات پائی جائیں (سب سے بہتر ہے)۔ ٭٭ یہ حدیث غریب ہے صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا حالانکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2489]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2489 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن أيوب - وهو الغافقي المصري - وقد توبع. جرير: هو ابن حازم، وأبو قلابة الرقاشي: هو عبد الملك بن محمد.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، یحییٰ بن ایوب الغافقی کی وجہ سے سند حسن ہے۔ ابوقلابہ الرقاشی سے مراد عبدالملک بن محمد ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (2789)، والترمذي (1697) عن محمد بن بشار، وابن حبان (4676) من طريق إبراهيم بن محمد بن عَرْعرة، كلاهما عن وهب بن جرير، بهذا الإسناد. ولكنه شكَّ في رواية ابن عرعرة، فقال: عن عقبة بن عامر أو أبي قتادة، لكن الصحيح أبو قتادة، كما جزم به غيره
📖 حوالہ / مصدر: ابن ماجہ، ترمذی اور ابن حبان نے اسے روایت کیا ہے۔ اگرچہ ابن حبان کو شک ہوا کہ یہ عقبہ بن عامرؓ کی روایت ہے یا ابو قتادہؓ کی، مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ حضرت ابو قتادہؓ کی روایت ہے۔
وأخرجه أحمد 37/ (22561) عن حسن بن موسى الأشيب ويحيى بن إسحاق، والترمذي (1696) من طريق عبد الله بن المبارك، ثلاثتهم عن عبد الله بن لهيعة، عن يزيد بن أبي حبيب، به. وهذا إسناد حسن أيضًا، لأنَّ رواية ابن المبارك عن ابن لهيعة جيدة قبل أن تحترق كتب ابن لهيعة.
🔍 فنی نکتہ: ابن لہیعہ کی یہ سند حسن ہے، کیونکہ ابن المبارک نے ان سے ان کی کتابیں جلنے سے پہلے روایت کیا تھا، اور ان کی قدیم روایات معتبر ہوتی ہیں۔
وانظر ما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اگلی روایت ملاحظہ کریں۔
الأدهم: الأسود.
📝 لغوی تشریح: "ادھم" سے مراد کالے رنگ کا گھوڑا ہے۔
والأقرح: ما كان في جبهته قُرحة، بالضم، وهو بياض يسير دون الغُرّة.
📝 لغوی تشریح: "اقرح" وہ گھوڑا جس کی پیشانی پر معمولی سی سفیدی ہو (جو "غرہ" یعنی بڑے سفید نشان سے کم ہو)۔
والأرثم: هو الذي أنفه أبيض وشفته العليا. ¤ ¤ والمُحجَّل: هو الذي في قوائمه بياض.
📝 لغوی تشریح: "ارثم" جس کی ناک اور اوپر کا ہونٹ سفید ہو؛ "محجل" جس کے پاؤں سفید ہوں۔
وطلق اليد اليمنى: أي ليس فيها تحجيل.
📝 لغوی تشریح: "طلق الید الیمنیٰ" یعنی جس کا دایاں ہاتھ سفیدی سے خالی ہو۔
والكُميت: هو الذي لونه بين السواد والحمرة، يستوي فيه المذكر والمؤنث.
📝 لغوی تشریح: "کمیت" وہ گھوڑا جس کا رنگ سیاہی اور سرخی کے درمیان ہو۔
والشِّيَة: هو اللون المخالف لغالب اللون.
📝 لغوی تشریح: "شیہ" وہ رنگ جو جسم کے غالب رنگ کے خلاف ہو۔
(1) لم يخرِّج البخاري لعُليّ بن رباح في "صحيحه" شيئًا، إنما أخرج له في "الأدب المفرد".
🔍 فنی نکتہ: امام بخاری نے علی بن رباح کی کوئی روایت "صحیح بخاری" میں نہیں لی، صرف "الادب المفرد" میں لی ہے۔